سیرت النبیۖ اور ہمارے ذرائع ابلاغ

12ربیع الاول جب بھی آتا ہے تو میں بحیثیت صحافی وکالم نگار یہ غور وفکر ضرور کرتا ہوں کہ میرے پیارے نبی حضرت محمدۖ کی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے تعلیمات کیا ہیں اور ہم کس حد تک ان تعلیمات کی پیروی کرتے ہیں۔ برسوں قبل قومی سیرت کانفرنس جس کا عنوان ہی ”سیرت النبیۖ کی روشنی میں ذرائع ابلاغ کا کردار” تھا میں صحافتی برادری کی نمائندگی کا موقع میسر آیا تو اپنی معروضات کی تیاری میںصحافتی برادری کے دفاع کی بجائے میرے پیش نظر یہ پہلو رہا کہ اپنی اور مروجہ صحافتی اقدار کی اصلاح تعلیمات نبویۖ کی روشنی میں کس طرح کی جا سکتی ہے۔ میری تقریر سے قبل علمائے کرام نے اپنے خطبات میں الیکٹرانک میڈیا کو بطور خاص ہدف بنایا لیکن ذرائع ابلاغ کا تذکرہ کرتے وقت وہ یہ بھول گئے کہ آفرینش آدم سے لیکر آج تک انسانی تاریخ میں سے سب سے اہم اور بڑا ذریعہ ابلاغ تحریر کی بجائے تقریر رہی ہے۔ چونکہ ہمارا وطیرہ ہے کہ ہم اپنی اصلاح کی بجائے دوسروں کو ٹھیک کرنا ضروری سمجھتے ہیں لہٰذا ہمیں دوسروں کی آنکھ کا بال تو دکھائی دیتا ہے لیکن اپنی آنکھ کا شہتیر دیکھنے سے ہم محروم رہ جاتے ہیں۔ میرا جی چاہا کہ جوابی تقریر کا محور یہی نکتہ بناؤں مگر فقط ایک حدیث مبارکہ کو اس ضمن میں پیش کرنا ہی کافی سمجھا اور بات بنیادی مضمون کی جانب آگے بڑھا دی۔آپۖ نے فرمایا: اگر تم اپنے جبڑوں کے درمیان والی چیز (یعنی زبان) کی حفاظت کی ضمانت دو تو میں تمہیں جنت کی ضمانت دوں گا۔ اس ذریعہ ابلاغ کا تعلق چونکہ علمائے کرام کیساتھ تو خاص ہے اس لئے تعلیمات نبویۖ کی روشنی میں اس کو سمجھنا ازحد ضروری ہے۔ مروجہ صحافتی اقدار کے ضمن میں عرض کرتا چلوں کہ خبر کی تلاش میں بسااوقات جو معیوب حرکتیں سرزد ہو جاتی ہیں اور جس طرح عیب ٹٹولنے کی کوششیں کی جاتی ہیں وہ اس لئے ہیں کہ ہمیں تعلیمات نبوی ۖ سے آگہی نہیں ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”لاتجسسو” بھید نہ ٹٹولو اور ہم ہیں کہ ساری توانائیاں دوسروں کے عیب جاننے کیلئے صرف کر دیتے ہیں۔ نبی کریم ۖ نے فرمایا: ”جس کسی نے کسی کا کوئی عیب دیکھ لیا اور اس پر پردہ ڈال دیا تو گویا اس نے ایک زندہ درگور ہوئی بچی کو زندہ درگور ہونے سے بچا لیا۔” اسلام ذاتی زندگی کو مکمل تحفظ دیتا ہے اور اس کام کی حوصلہ شکنی کرتا ہے کہ آپ دوسروں کے گھروں میں جھانکیں اور ان کی ذاتی زندگی میں مداخلت کریں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور کا ایک واقعہ ہے۔ آپ کو ایک شخص کی حرکات وسکنات پر شک تھا، ایک رات معمول کے گشت کے دوران آپ اس کے گھر کے قریب سے گزرے تو آوازیں سن کر تجسس ہوا، آپ نے دیوار سے جھانکا تو آپ کا شک درست ثابت ہوا۔ فرمایا: ”میں نے تمہیںدیکھ لیا ہے۔” اُ س شخص نے کہا: عمر ٹھہر جاؤ۔۔ میں نے ایک غلطی کی ہے’ تم نے تین غلطیاں کی ہیں۔ نبیۖ نے فرمایا ہے کہ تم لوگوں کے گھروں میں دروازوں کے راستے سے داخل ہو’ آپ دیوار کی طرف سے آئے۔ نبیۖ کریم کی تعلیم ہے کہ گھروں میں دستک دیکر اور اجازت لیکر داخل ہو’ آپ بغیر اجازت میرے گھر میں داخل ہوئے۔۔ نبیۖ کا ارشاد ہے کہ لوگوں کے گھروں میں مت جھانکو۔۔ آپ نے میرے گھر میں جھانکا ہے۔۔۔ یہ سن کر حضرت عمر بے اختیار بولے: بس رُک جاؤ’ اب اور کچھ نہیںکہنا۔۔ یہ سن کر حضرت عمر وہاں سے واپس پلٹ گئے۔ اب ان تعلیمات کی روشنی میں ہم دیکھیں کہ ہم کیا کر رہے ہیں؟ ہمارے لکھنے والے حضرات اپنی تحریروں میںکبھی بے جا تنقید میں اور کبھی بے جا توصیف میں اس حد تک آگے نکل جاتے ہیں کہ اعتدال کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے۔ صحافی کا کیا کام کہ تعریف وتوصیف میں زمین آسمان کے قلابے ملا دے یا پھر تنقید میں اس حد تک چلا جائے کہ بدگمانی میں مبتلا ہونے کا احساس پیدا ہو۔ قرآن میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ بدگمانیوں سے بچو کہ اکثر بدگمانیاں گناہ کا درجہ رکھتی ہیں۔ (الحجرات) نبیۖ اکرم نے اس ضمن میں جو بات کہی ہے وہ زندگی کا نصب العین بنا لینی چاہئے۔ آپۖ نے فرمایا: اور جو شے تمہیں بدگمانی میں مبتلا کرے اُس کی تحقیق مت کرو (ابو داؤد) ہم ہیں کہ بدگمانیوں میں مبتلا ہوتے ہیں اور پھر بھید ٹٹولنے لگتے ہیں جس سے خرابیوں اور پریشانیوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے حوالے سے ایک اور پہلو جس کا ذکر یہاں کرنا ضروری سمجھتا ہوں وہ اظہار رائے کی آزادی کے نام پر بے لگام اور بے مہابا آزادی پانے کی تمنا ہے۔ ایک خوبصورت قول ہے کہ ”آزادی کی پہلی شرط اس کی حد ہوتی ہے۔” میڈیا خواہ الیکٹرانک ہو یا پرنٹ’ تعلیمات رسولۖ کی روشنی میں اُسے اپنی حدود کا تعین کر لینا چاہئے۔ آپۖ کا فرمان ہے: ”بدترین زیادتی کسی مسلمان کی عزت پر ناحق حملہ ہے۔” حضرت معاذ بن جبل نے فرمایا: ”تیری ماں کا بھلا ہو’ لوگ اپنی زبانوں کی وجہ سے ہی اوندھے منہ جہنم میں ڈالے جائیں گے۔” یہاں جس کے منہ میں جو آئے وہ بول دیتا ہے’ قطع نظر اس کے کہ ان الفاظ سے دوسروں کو کیا اذیت ہو سکتی ہے اور یہ کہ ان بولے گئے الفاظ کا آخرت میں حساب بھی دینا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں سیرت النبیۖ کی روشنی میں اپنے کردار درست کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)