محکمہ ڈاک میں تبدیلی کب آئے گی

کبھی کبھار جب سوچ کے گھوڑے وطن عزیز کے مسائل پر دوڑائے جاتے ہیں تو عجیب سی پریشانی بال کھولے مسکراتی ہے کہ اس ملک کا کچھ نہیں ہوسکتا۔ یہ ملک دعاؤں پر قائم ہے اور انشاء اللہ قائم رہے گا۔ جس محکمے کی جانب بھی دیکھیں وہاں کرپشن کا بازار گرم ہے، عام آدمی کو ریلیف نہیں مل رہا۔ وہ ان بنیادی چیزوں کیلئے رل رہا ہے جن کو پورا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ صحت، تعلیم بنیادی ضروریات میں شامل ہے مگر ہماری حکومت کی یہ ترجیحات نہیں ہیں وہ اگر ان مسائل کی جانب سوچتے ہیں تو ان کا اینگل تبدیل ہوتا ہے، ان کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ اگر ہم کہیں پر سکول بنائیں گے تو ہمارے لوگ بھرتی ہوں گے، کوئی ہیلتھ سنٹر بنائیں گے تو اس میں بھی ہمارے ووٹرز آجائیں گے۔ اس لئے پھر عوام مہنگے اداروں پر بھروسہ کرتے ہیں اور خود کا نقصان کر لیتے ہیں۔ خواہ وہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے ہیں، ہیلتھ سنٹرز ہیں یا کمیونی کیشن کے ذرائع ہیں۔ موجودہ دور میں بہت سے اداروں کی جانب حکومت کی نظر ہے وہاں پر کچھ نہ کچھ کام ہورہا ہے، اُن کیلئے فنڈ مختص کئے جاتے ہیں مگر کچھ ادارے ایسے بھی ہیں جن کی جانب حکومت کی کوئی نظر ہی نہیں پڑتی۔ سی ایس ایس کرنے والے طلبہ بھی اس ادارے میں بہت مشکل سے آتے ہیں کیونکہ اس میں انہیں کوئی چارم نظر نہیں آتا۔ ہم آج یہاں پر پاکستان پوسٹ آفس یعنی محکمہ ڈاک کی بات کر رہے ہیں جس کی افادیت مسلمہ ہے۔ گوکہ واٹس ایپ، ای میل، موبائل، میسنجر، ایمو وغیرہ جیسی اپلیکیشنز کے ذریعے چند سیکنڈ میں قیمتی دستاویزات اور پیغامات مطلوبہ فرد تک پہنچانا ممکن ہوگیا ہے مگر چھوٹے چھوٹے گاؤں تک دستاویزات آج بھی اس محکمہ کی مرہون منت ہے۔ ملک بھر میں پرانے پنشن ہولڈر ہیں، انہیں محکمہ ڈاک سے ہی رقوم مل رہی ہے۔ پوری دنیا میں ڈاک کا نظام بہت ترقی کر گیا ہے مگر پاکستان ابھی تک اس حوالے سے بہت پیچھے ہے۔ حالانکہ اگر تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو اسلامی تاریخ میں محکمہ ڈاک کا قیام باقاعدہ طور پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں عمل میں لایا گیا، جیسے جیسے ترقی ہوتی گئی اس نظام میں بھی جدت پیدا ہوتی گئی اور آج ترقیافتہ ممالک میں ان کمپنیوں کے جہاز تک چارٹرڈ ہیں مگر ہمارے ملک میں محکمہ ڈاک میں کام کرنے والے ایک کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ شہروں کی بجائے اگر گاؤں کی سطح پر دیکھا جائے تو دفاتر میں کوئی سہولیات نہیں ہیں، اس لئے ان کی کارکردگی بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس حکومت نے برسراقتدار آکر وزیراعظم کے وژن کی روشنی میں پاکستان پوسٹ آفس کا ایک لاکھ25ہزار فرنچائز بنانے کا اعلان کورونا سے پہلے کیا تھا جس پر کام زور شور سے جاری ہے۔ اس محکمہ کے موجودہ کرتا دھرتا وفاقی وزیر برائے مواصلات وڈاک مراد سعید ہیں جن کے بقول یہ محکمہ 52ارب کے خسارے میں جا رہا ہے مگر جہاں جہاں پوسٹ آفس موجود ہے وہاں حکومت کی توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ پاکستان کا محکمہ ڈاک وہ ادارہ ہے جس کے برانچ ملک کے کونے کونے میں موجود ہیں جہاں سے آج بھی منی آرڈر بھیجے جاتے ہیں اور رقوم کی ترسیل ہوتی ہے۔ البرید سے ہوتے ہوئے یہ نظام آج کے دور میں بہت تیز ہوگیا ہے، جس طرح اور اداروں میں انٹرنیٹ کی تیز رفتاری کی انتہا دیکھی جارہی ہے اور ہر ادارہ انٹرنیٹ کیساتھ منسلک ہوگیا ہے، سارا کام کمپیوٹرائزڈ ہوگیا ہے، ویسا اس ادارے کے تمام برانچز میں نہیں ہے۔ اس کے برعکس پرائیویٹ کمپنیاں اس میدان میں اپنا کمال دکھا رہی ہیں اور آن لائن شاپنگ کے ذریعے وہ روزانہ کے حساب سے کروڑوں کما رہی ہیں، جن کے دفاتر محکمہ ڈاک کی طرح ہر جگہ شامل نہیں۔ آج بھی ایسے علاقے موجود ہیں جہاں پرائیویٹ کوریئر کمپنیاں نہیں پہنچی ہیں اور وہاں پاکستان پوسٹ آفس کا ادارہ موجود ہے۔ اس ادارے کی جانب اگر حکومت تھوڑی سی بھی نظرکرم کرلے تو اس سے خاطرخواہ ریونیو اکٹھا کیا جاسکتا ہے، جس طرح مراد سعید نے لاکھوں لوگوں کو اس محکمہ میں کھپانے کی بات کی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اس ایک ادارے میں بہت سے نوجوانوں کو بھرتی کیا جاسکتا ہے جس طرح ہر علاقے میں فرنچائز دینے کی پالیسی بنائی گئی ہے اس سے بھی بہت سے لوگ برسر روزگار ہوجائیں گے۔ مراد سعید کی کاوشیں رنگ لائیں گی مگر دورس نتائج حاصل کرنے کیلئے اس محکمے کیلئے فنڈ مختص کرنے کی ضرورت ہے جس سے اس ادارے کا خسارہ بھی ختم ہوسکتا ہے اور یہ ادارہ باقی اداروں سے بہترین ریونیو پیدا کرسکتا ہے کیونکہ یہ وہ واحد ادارہ ہے جس کے ملک کے چھوٹے چھوٹے گاؤں اور قصبوں میں ان کے ذیلی ادارے کام کر رہے ہیں بلکہ اب اُن اداروں کو بھی پابند کرنے کی ضرورت ہے جو سرکاری خط وکتابت نجی کوریئر سروس سے کرتے ہیں۔ اسی طرح اگر تمام سرکاری اداروں کی سرکاری خط وکتابت اس کے ذریعے کی جائے تو خسارے پر قابو پایا جاسکتا ہے اور یہ ادارہ جو ابھی تک کچھوے کی چال چل رہا ہے جلد ہی تیز رفتار کوریئر سروسز کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوگا۔