مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا

ایک نہیں دو نہیں کسی انجانے اور نان سیو نمبر سے چار پانچ ”مس کال’ آئی ہوئی تھیں، لیکن ان میں سے ایک بھی نہیں اٹنڈ کر سکا، کون ہے بھلا جو چار بار فون درفون ملاتا رہا اور میں اس کو ‘ہیلو ہائے’ تک نہ کہہ سکا۔ دیکھتا ہوں۔ ”رنگ بیک” کی اور پھر اکتوبر کے مہینے کے حوالے سے بریسٹ کینسر یا خواتین کی چھاتی کے سرطان کے متعلق لیکچر سننے لگا، جس کے بعد ہمیں بتایا گیا کہ آپ کا مطلوبہ نمبر مصروف ہے کچھ دیر بعد کال کیجئے۔ اچھا جی ہم نے قہر درویش برجان درویش تھوڑی دیر بعد کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے ایک بار پھر وہی نمبر ملایا اور خواتین کے بریسٹ کینسر کے متعلق لیکچر سننے لگے اور پھر جیسے ہی وہ لیکچر ختم ہوا ادھر سے بولنے والے نے میری کال کے جواب میں پوچھا کہ ”آپ کون بول رہے ہو”۔ جی میرا نام شوکت ہے، میرے سیل فون پر آپ کی کم ازکم چار مس کالز آئی ہوئی تھیں، سوچا کہ پوچھ لوں کہ کیا کہنا ہے آپ نے۔ ”تم شین شوکت بول رہے ہو۔” بڑے بے تکلفانہ اور اپناہٹ بھرے انداز میں کسی نے اس پار سے پوچھا! جی میں شین شوکت ہی ہوں، میں نے جواب دیا۔ جب شین شوکت ہو تو اتنی نستعلیق اُردو کیوں بول رہے ہو۔ پشاوری لہجے میں بات کرونا۔ جی آپ کون؟ میں نے ان سے استفسار کیا۔ میں ضیاء الحق سرحدی بول رہا ہوں۔ جناب جناب جناب! میرے منہ سے تین چار بار نکلا اور پھر میں اور وہ اس لب ولہجہ میں باتیں کرنے لگے جو پشاوریوں کا خاصہ ہے۔ دل پشاوری ہونے لگا ضیاء الحق سرحدی سے گفتگو کرتے ہوئے، انہوں نے راقم السطور کے کالم ”برمزار ما غریباں” کی تعریف وتوصیف میں چند جملے کہہ کر میری حوصلہ افزائی کی اور ساتھ ہی کہنے لگے کہ اس کالم میں تو نے میرا نام ضیاء سرحدی لکھا ہے جبکہ میرا پورا نام ضیاء الحق سرحدی ہے۔ جی معذرت! آپ کو کون نہیں جانتا آپ سرحد چیمبر آف کامرس کے صدر رہے ہیں۔ تصوف اور علماء ومشائخ کے موضوع کے علاوہ تجارت کے اُتار چڑھاؤ اور کامرس کے سربستہ رازوں کے متعلق آپ کے کالم بھی میں پڑھتا رہتا ہوں۔ گزشتہ دنوں آپ کی سر براہی میں کالم نویسوں کا ایک وفد بیرون ملک کے دورے پر بھی گیا تھا۔ شکریہ، کہہ کر فرمانے لگے کہ جتنی بار تمہارا نمبر ملایا اتنی بار بریسٹ کینسر کے متعلق لیکچر سننا پڑا، لیکن تجھ سے بات نہ ہوسکی۔ ہمارا بھی یہی حال ہے، پہلے کرونا سے بچاؤ کے طریقے یا احتیاطی تدابیر ازبر کروائی جاتی تھیں اور اب اس تلخ حقیقت سے آگہی کو ہماری کسی بھی کال سے اہم سمجھا جارہا ہے۔ ”بڑا غصہ آتا ہے، جب ایک یا دو بار پوری تقریر سننے کے بعد جواب ملتا ہے کہ ”آپ کے ملائے ہوئے نمبر سے جواب موصول نہیں ہورہا، جی ہاں سچ فرمایا آپ نے، میں نے ان کی ہاں میں ہاں ملائی، کان پک گئے ہیں ہمارے یہ تقریر سن سن کر’ انہوں نے میرے منہ کی بات چھینی۔ اکتوبر کا پورا مہینہ خواتین کی چھاتی کے کینسر یا سرطان کے نام کردیا گیا ہے، ارے صاحب ہمارے سامنے اگر کوئی خاتون آجائے تو جھک جھک جاتی ہیں ہماری نظریں شرم وحیا کے بوجھ سے، چہ جائیکہ ہم ان کی بیماری (چھاتی کے کینسر) کا ذکر کرتے پھریں، آپ قدرے جذباتی لہجے میں بولنے لگے، نہیں یہ ان کی صحت کا معاملہ ہے، طاق پر رکھنا پڑے گا شرم وحیاء کو، میں نے اپنا نکتۂ نظر بیان کیا، وہ کیوں؟ انہوں نے سوال کیا، اس لئے کہ شرم وحیاء کی پیکر ہوتی ہیں ہماری خواتین مشرق وہ اپنی چھاتی کی تکلیف کو اپنی ادائے شرمگیں سے بھی بیان کرنا مناسب نہیں سمجھتیں اور یوں وہ ”تن کے گھاؤ تو بھر گئے داتا، من کا گھاؤ نہیں بھر پاتا، جی کا حال سمجھ نہیں آتا، کیسی انوکھی بات رے، انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند رے” کا دل ہی دل میں راگ الاپتے اندر ہی اندر جلتی بجھتی اور پگھلتی رہ جاتی ہیں اور کسی سے اپنی تکلیف کا ذکر تک نہیں کرتیں، لیکن ان منہ پھٹ چرچا نگاروں کا کیا کیا جائے، جو ہماری ہر کال ملانے کی قیمت ایک بے ہودہ سا لیکچر سنوا کر وصول کر رہے ہیں، بھلا ہی تو کر رہے ہیں بزعم خود، بتا رہے ہیں کہ اگر خواتین کی چھاتی میں کوئی گلٹی یا کوئی غیر معمولی تبدیلی یا تکلیف محسوس ہو تو انہیں فوری طور پر کسی ماہر معالج سے رجوع کیا جائے تاکہ اس کا بروقت علاج کیا جاسکے، یاد رہے کہ کینسر کا علاج اس وقت تک ممکن ہے جب تک اس کی جڑیں پورے جسم یا جسم کے کسی حصہ میں پھیل نہیں جاتیں، جب یہ پھیل جاتی ہیں تو الٹرا ریڈ شعاعوں سے بھی ان کا علاج ممکن نہیں رہتا، ایک حوالہ کے مطابق9خواتین میں سے ایک خاتون اس مرض میں مبتلا پائی جاتی ہے۔ جبھی اس اہم موضوع کی جانب توجہ دلانے کیلئے کوئی ایک دن منانے کی بجائے پورے تیس دنوں پر مبنی اکتوبر کا پورا مہینہ خواتین کی چھاتی کے کینسر کے نام کردیا گیا ہے، میں یہ اور اس قسم کی بہت سی باتیں کرنا چاہتا تھا تجارتی سرگرمیوں کے علاوہ شغل تنظیم سازی اور کالم نویسی میں مبتلا رہنے والے ضیاء الحق سرحدی سے، میں ہیلو ہیلو کرتا رہ گیا اور لائن کٹ گئی اور ہم دل ہی دل میں کہتے رہ گئے کہ
آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا