مشرقیات

حضرت یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ مجھے امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز نے افریقہ میں زکواة جمع کرنے پر مقرر فرمایا۔ میں نے وہاں جا کر لوگوں سے زکواة وصول کی۔ جب میں نے اس کے مستحق تلاش کئے جن کو وہ رقم دی جائے تو مجھے ایک بھی محتاج نہیں ملا ۔عمر بن عبدالعزیز نے سب کو غنی بنا دیا تھا۔ بالآخر میں نے کچھ غلام خرید کر آزاد کئے اور ان کے حقوق کامالک مسلمانوں کو بنا دیا۔ ایک دوسرے قریشی کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز کی مختصر مدت خلافت میںیہ حال ہوگیا تھا کہ لوگ بڑی بڑی رقمیں زکواة کی لے کر آتے تھے کہ جس کو مناسب سمجھا جائے دیدی جائے۔ لیکن مجبوراً واپس کرنی پڑتی تھی کہ کوئی لینے والا نہیں ملتا۔ عمر بن عبدالعزیز کے زمانے میں سب مسلمان غنی ہوگئے تھے اور زکواة کا کوئی مستحق نہیں رہا۔ ان ظاہری برکات کے علاوہ جو صحیح اسلامی حکومت کا ثانوی نتیجہ ہے بڑا انقلاب یہ ہوا کہ لوگوں کے رجحانات بدلنے لگے اور قوم کے مزاج میں تبدیلی آنے لگی۔ ان کے معاصر کہتے ہیں کہ ہم جب ولید کے زمانے میںجمع ہوتے تھے تو عمارتوں اور طرز تعمیر کی بات چیت کرتے تھے۔ لیکن عمر بن عبدالعزیز کے زمانے میں نوافل و طاعات’ ذکر و تذکیر’ گفتگو اور مجلسوں کا موضوع بن گیا۔ (تاریخ دعوت و عزیمت: جلد /صفحہ 50)
امام ابو دائود بہت بڑے محدث ہیں۔ وہ دریا کے کنارے کھڑے تھے اور کنارے پر پانی کم تھا۔ ایک جہاز دو تین سو قدم کے فاصلے پر کھڑا ہوا تھا۔ کنارے تک آنہیں سکتا تھا۔ جہاز میںایک شخص کو چھینک آئی اور اس نے الحمدللہ کہا اور اتنے زور سے کہا کہ ان کے کان میںآواز آئی تو مسئلہ یہ ہے کہ اس کا جواب ”یرحمک اللہ” کہہ کر دیناچاہئے مگر یہ مسئلہ مجلس سے متعلق ہے۔امام ابو دائود کے کان میںالحمدللہ کی آواز پڑی۔ یہ لوگ چونکہ نیکیوں کے حریص تھے’چھوٹی سی نیکی ملنے کا امکان ہو تو چھوڑنانہیںچاہتے۔ نیکی اور خیر کی ہوس پیدا ہوجاتی ہے’ جہاز دور تھا’آواز پہنچ نہیںسکتی تھی۔ تین درہم میں کشتی کرایہ پر لی۔ اس میں بیٹھ کر جہاز کے اوپر چڑھے’ وہاں جا کر کہا یر حمک اللہ۔ ترجمہ نگار لکھتے ہیں کہ غیب سے آواز کان میںآئی کہ اے ابو دائود! آج تین درہم میں تو نے جنت کو خریدلیا۔ حالانکہ امام کتنے بڑے محدث’کتنی حدیثیں لکھیں’ کتنے تہجد پڑھے’ کتنے جہاد کئے ہوںگے مگر جنت کی خریداری میں بڑے اعمال کاذکر نہیں بلکہ ذکر آیا تو ”یرحمک اللہ” کہنے کا جو بظاہر بہت چھوٹا اور معمولی سا عمل تھا مگر کیوںآیا؟ اس لئے کہ ایسے اخلاص سے عمل کیا کہ اس چھوٹے سے عمل میںاتنا وزن پیدا ہو کہ بڑے سے بڑے عمل میںاتنا نہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں عمل کی صورت نہیں وزن دیکھا جاتا ہے۔ کشتی لے کر جہاز پر جاکر چھینکنے والے کو جواب دینا نہ فرض تھا نہ واجب۔ مگر یہ لوگ آداب پر عمل کے حریص ہوتے ہیں۔
(وعظ ادب اور اختلاف رائے جلد سوم)