پاکستان کے سیاسی تماشے

وطن عزیز میں بابائے قوم کے بعد سیاسی معاملات اور حالات جس نہج پر چل پڑے تھے اور جب اس کے نتائج سامنے آئے وہ تاریخ پاکستان پر نظر رکھنے والوں سے پوشیدہ نہیں۔ قائد ملت خان لیاقت علی خان کو قیام پاکستان کے صرف ساڑھے تین برس بعد جس طرح شہید کیا گیا اس کا سات دہائیوں بعد بھی پتہ نہ چلا کہ یہ کسی ملکی یا بین الاقوامی سازش کا حصہ تھا یا کسی فرد کا ایک انفرادی فعل۔ اس کے بعد سکندر مرزا جو میر جعفر کے پڑپوتے تھے اور سول سرونٹ تھے، کمال طریقے سے سیکرٹری ڈیفنس سے ہوتے ہوئے صدر پاکستان بن بیٹھے، پھر ایوب خان نے ان سے اقتدار چھین کر جلاوطن کیا اور آخری ایام برطانیہ میں گزار کر ملک برطانیہ ہی کے ممنون احسان ہو کر اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ پہنچی وہی پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔ مارشل لاء کی طویل عملداری کے بعد عوامی حکومت آئی، لوگوں نے سکھ کا سانس تو لیا لیکن عوام کا بہت زیادہ ”عوامیت” کے سبب دم گھٹنے لگا تو جنرل ضیاء الحق نجات دہندہ کی حیثیت سے براجمان تو 90 دن کیلئے ہوئے تھے لیکن پھر امیرالمؤمنینی کے نشے نے اس کو پاکستان پر دس برس تک مسلط کئے رکھا۔ خدا خدا کر کے بستی لال کمال میں یہ سلسلہ اختتام کو پہنچا تو ایک دفعہ پھر عوام کی اُمیدیں بیدار ہوئیں کہ اب کی مرتبہ بینظیر بھٹو بہت کچھ سیکھ کر اور جھیل کر آئی ہیں تو جو کچھ ان کے والد گرامی بوجوہ عوام کیلئے نہ کرسکے آپ کر گزریں گی۔۔ لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ! نواز شریف اور بینظیر کے کارکنوں، سیاستدانوں اور جماعتوں کے درمیان جو آنا جانا شروع ہوا، اس نے پنجاب میں مسلم لیگ ن اور سندھ میں پیپلزپارٹی کو تیس تیس برس اقتدار دلادیا لیکن مرکز میں کوئی ایسی حکومت قائم نہ بن سکی جو اپنی مینڈیٹ کے مطابق مدت پوری کرے۔ پھر عوام تنگ آگئے، اسٹیبلشمنٹ بھی ایک قسم کی تنگ ہی آئی کہ ان پر الزام آجاتا تھا کہ ہماری حکومتیں ان کی وجہ سے مدت پوری نہ کرسکیں، حالانکہ اس میں ان سیاستدانوں کا اپنا قصور ہوتا تھا۔ ان پانچ پانچ برس اقتدار وحکمرانی میں ان دونوں جماعتوں کے اکابرین اور کرتا دھرتاؤں نے نائیوں، دھوبیوں، ریڑھے والوں، فالودہ والوں اور دکانداروں کے ناموں اور اکاؤنٹس کے ذریعے کروڑوں اربوں کی جو منی لانڈرنگ کی، اس کا خمیازہ فیٹف (FATF) کی گرے لسٹ اور ملک کے قرضوں کے دلدل میں بری طرح پھنسنے کی صورت میں قوم کو بھگتنا پڑا۔ ان دونوں سیاسی جماعتوں کے پیروکاروں اور رہنماؤں کے درمیان شدید سیاسی اور صوبائی تعصبات اور مفادات نے ملک میں وہ سیاسی اصطلاحات رائج کرائے جو اس سے پہلے بہت کم سننے میں آئے تھے۔ نواز شریف، شہباز شریف، بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو ملک کی سلامتی کیلئے رسک قرار دینے سے باز نہ رہ سکے، آصف علی زرداری مسٹر ٹین پرسنٹ کے نام سے یوں مشہور ہوئے کہ یہ لقب ان کے نام کا جزو لاینفک بن گیا۔ اسکے جواب میں پی پی پی کی حکومت نے ان دونوں بھائیوں کو جو خطابات و القابات دئیے وہ بھی اپنی جگہ ناقابل مثال ہیں۔ موجودہ حکمرانوں سے لوگوں کو ان کے انتخابی وعدوں اور بلند بانگ منشوری نعروں کے سبب بہت زیادہ توقعات وابستہ ہوئے لیکن بوجوہ وعدے تو کیا وفا ہوتے، الٹا لوگوں کو روٹی، آٹا، دال اور ٹماٹر کے لالے پڑنے لگے۔ مخالفین کے مہنگائی پر اعتراضات، تنقید اور سوالات کے ان کے پاس نہ کوئی جواب ہے اور نہ جواز۔۔۔ اپوزیشن نے مہنگائی کے ہاتھوں تنگ عوام کو سڑکوں پر لانے کے اچھے مواقع پیدا ہونے کی اُمید کیا دلائی کہ دن رات جلسوں پہ جلسے ہونے لگے، ان جلسوں میں نواز شریف اور مریم بی بی نے جو گل کھلائے اور جو بیانیہ دیا اس کا بوجھ نہ ان کی جماعت اُٹھا سکتی ہے اور نہ ہی عوام۔
پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں نہ وہ صلاحیت ہے اور نہ ہی جرأت واستعداد جو اصلی حقیقی جمہوریت کی نقل کیلئے بھی ضروری سمجھی جاتی ہے۔ پاکستان کی ہر سیاسی جماعت کم وبیش پاک افواج کیساتھ تعلقات کی حامی ہے اور رہے گی اور موجودہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی تو جنم بھومی ہی وہی ہے۔ اور یہ کوئی معیوب بات نہیں کیونکہ اپنا ملک، اپنی فوج اور اپنی سیاسی جماعت اور سیاست۔۔ امریکہ میں بھی سیاست پنٹاگون کے اثرات سے مکمل طور پر پاک نہیں ہوسکتی، کیونکہ اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ چرچل کی یہ بات کہ جنگ ایسی چیز نہیں جو صرف جرنیلوں کے رحم وکرم پر چھوڑی جائے، اسی طرح سیاست بھی ایسی چیز نہیں جو صرف سیاستدانوں اور وہ بھی وطن عزیز کے سیاستدانوں پر چھوڑی جاسکتی ہے۔ آج کل سیاستدان حضرات ایک دوسرے کیساتھ سیاست کے نام پر جو کچھ کر رہے ہیں، اسکے متعلق شورش مرحوم کے الفاظ کا سہارا لیا جاسکتا ہے۔
مرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو
گھری ہو جیسے طوائف تماش بینوں میں