کسی بھی بھارتی مہم جوئی کی صورت میں الفاظ کی بجایے پاکستان کا عمل بولے گا-ترجمان دفتر خارجہ

ویب ڈیسک: ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری کی صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ-

ان کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ نے آزربائیجان کے وزیر کارجہ سے ٹیلیفون رابطہ کیا،دونوں وزرایے خارجہ نے باہمی تعلقات اور آزربائیجان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا.

زاہد حفیظ نے بتایا کہ وزیر خارجہ نے یو این سیکرٹری جنرل کی خصوصی سیکرٹری سے ملاقات کی،وزیر خارجہ نے پکستانی اقدامات کا زکر کیا جو کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور کوویڈ صورتحال میں اٹھایے گئے.

زاہد حفیظ نے کہا کہ وزیر خارجہ نے سعودی وزیر مواصلات سے رابطہ مین دونوں ممالک کے درمیان کثیر الجہتی تعاون کے فروغ پر بات کی.

ان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان کے سابق وزیر اعظم اور حزب اسلامی کے سربراہ نے 19 سے 23 اکتوبر تک پاکستان کا دورہ کر رہے ہے، گلبدین حکمت یار نے صدر مملکت, وزیر اعظم اور اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کی،،حکمت یار نے افغان امن عمل میں سہولت کاری پر پاکستان کے کردار کو سراہا،حکمت یار نے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے انسانی حقوق کی پائمالی اور مظالم کی بھرپور مذمت کی.

زاہد حفیظ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں غیر انسانی محاصرہ 444 دن میں داخل ہو گیا،مقبوضہ کشمیر میں گذشتہ چند روز میں مزید 5 کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا،اکتوبر کے مہینے میں 18 کشمیری شہید کیے گئے،بھارتی قابض افواج نے 60 سے زائد کشمیریوں کو حراست میں لیا،پاکستان مقبوضہ کشمیر مین غیر انسانی مظالم کو اجاگر کرتا رہے گا.

ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ دنیا بھر سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پائمالیوں پر آوازیں بلند ہو رہی ہیں، بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں انگریزی اخبارات کے دفاتر سیل کر دیے ہیں،پاکستان بھارتی وزیر کی جانب سے بے بنیاد الزامات اور بیانات کی سختی سے مذمت کرتا ہے،ہم نے بھارتی مین سٹریم اور سوشل میڈیا پر پاکستان کے حوالے سے بے بنیاد خبریں اور رپورٹس دیکھی ہیں.

بھارتی میڈیا اور حکومت کو بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں آزادی اظہار رایے کو دیکھنے کی ضرورت ہے،بھارتی میڈیا کو آر ایس ایس اور بی جے پی کی اقلیتوں کےخلاف پالیسیوں پر بات کرنا چاہیے،بھارت کی جانب سے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں کسی مہم جوئی کا سخت جواب دی جایے گا،بھارت کی طاقت کا پول بالا کوٹ اور لداخ میں کھل چکا ہے،
کسی بھی بھارتی مہم جوئی کی صورت میں الفاظ کی بجایے پاکستان کا عمل بولے گا،بھارت میں 80 کروڑ افراد خط غربت کے نیچے یا مفلسی میں رہتے ہیں.

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیاسی سرگرمیاں جمہوری عمل کا حصہ ہیں،گلبدین حکمت یار اور عبداللہ عبداللہ کے دورے پاکستان کی جانب سے امن عمل کے تمام شراکت داروں تک رسائی کی کوشیشوں کا حصہ ہے،پوری دنیا کو معلوم ہے کہ بھارت نہ صرف جموں و کشمیر مین مظالم ڈھا رہا ہے بلکہ بار بار اپنی پوزیشن تبدیل کر رہا ہے،444دن گزرنے کے باوجود آج بھی مقبوضہ کشمیر میں فوجی محاصرہ جاری ہے،بھارت کے کسی بحی قسم کے بیمارانہ تصورات کے خلاف ہماری پوری قوم متحد ہے،بھارت کے پاکستان مخالف پروپیگنڈہ کے شواہد عیاں ہیں.

ان کا کہنا تھا کہ کلبھوشن جادیو کیس مین سزاء کے بعد اس نے رحم کی اپیل دائر کی جس پر نظرثانی جاری ہے،اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی کلبھوشن جادیو کا ریویو اینڈ ری کونسیلیئشن آرڈینینس کے تحت کیس کی سماعت جاری ہے،
پاکستان اور ایران کے پرانے برادرانہ تعلقات ہیں،ایران کے ساتھ تجارت اور سیاسی تعلقات کے فروغ کے خواہشمند ہیں.