میرے اندر کسی وحشی کا بسیرا تو نہیں

صف دشمناں میں شادیانے بج رہے ہیں، وہاں جو ہنگامہ برپا ہے وہ ہاؤ ہو کی صداؤں سے بھی آگے کی کیفیت ہے، اس میں سرخوشی اور سرشاری نمایاں ہے۔ ہمارے ہاں اس کے برعکس چیخم دھاڑ ہورہی ہے۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے نت نئے حربے آزماتے جارہے ہیں اور یہی وہ کارن ہے جس نے دشمن کو نہال کر رکھا ہے۔ ہمارے اندر پھوٹ پڑنے کی اطلاعات کا فائدہ اُٹھا کر دشمنوں نے کراچی میں (خدانخواستہ) خانہ جنگی کی افواہیں اُڑانا شروع کردی تھیں، گزشتہ روز ٹویٹر پر اسی نوع کی اطلاعات سامنے آرہی تھیں یعنی بھارت کے بعض چینلز افواہ گردی کی حدیں پار کر رہے تھے، حالانکہ اللہ کے فضل وکرم سے دشمن کی خواہشات کو ذمہ دار حلقوں نے مٹی میں ملا دیا تھا، تاہم صورتحال کی نزاکت کا بھی کچھ حلقوں کو احساس نہیں ہورہا تھا اور وہ جو فیض احمد فیض نے کہا تھا کہ
کرو کج جبیں پہ سرکفن صف دشمناں کو گماں نہ ہو
کہ غرور عشق کا بانکپن، پس مرگ ہم نے بھلا دیا
تو دو روز پہلے جس نازک صورتحال نے جنم لیا اور ادارے آمنے سامنے آنے کی افسوسناک خبریں گردش کرنے لگیں تو لگ رہا تھا عقل وخرد کے تقاضوں کو شکست دینے کی ٹھان لی گئی ہے۔ مزار قائد پر جو ہوا، اسے مناسب قرار نہیں دیا جاسکتا، ہوش کا دامن تھام لینے والی قوموں کی زندگیوں میں ایسے لمحے نہیں آنے چاہئیں، تاہم ردعمل میں جو ”احکامات” جاری کئے گئے اور نیچا دکھانے کیلئے جو طریق کار اختیار کیا گیا اس سے بھی ”اہل حکم” کی نیک نامی نہیں ہوئی، پھر غصے یا طاقت کے نشے میں جو اقدامات کئے گئے، ان سے اداروں کے مابین دراڑیں پڑنا لازمی تھا جبکہ اس کے پیچھے جو اصل مقاصد کار فرماتھے یعنی مخالفین کی صفوں میں دوریاں پیدا کرنے کی حکمت عملی، تو وہ بھی بری طرح ناکام ہوئی بلکہ اُلٹی ہوگئیں سب تدبیریں والی صورتحال نے شرمندگی کا سامان کیا، اس سے تین روز پہلے کے ایک جلسے میں کی جانے والی بعض تقریروں پر سرکاری ”ترجمانوں” نے جس ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایک کے پیچھے ایک سخت بیان داغے ان پر تو ایک بہت پرانی قوالی یاد آگئی گویا یہ بیانات قوال اور اس کے ہمنوا ملکر گا رہے ہیں، اسے اسماعیل آزاد قوال اور ساتھیوں نے گایا تھا اور یہ اس قدر مقبول ہوگئی تھی کہ بعد میں بھارت کے فلم الہلال میں شامل کی گئی،
ادھر بالوں میں کنگھی ہو رہی ہے خم نکلتا ہے
ادھر کھچ کھچ کے رگ رگ سے ہمارے دم نکلتا ہے
الٰہی خیر ہو، اُلجھن پہ اُلجھن بڑھتی جاتی ہے
نہ ان کا خم نکلتا ہے، نہ میرا دم نکلتا ہے
ہمیں تو لوٹ لیا مل کے حسن والوں نے
کالے کالے بالوں نے، گورے گورے گالوں نے
وزراء اور دیگر ترجمانوں کی اس ”قوالی” میں ٹیپ کا مصرعہ تقریباً ایک ہی مفہوم کا تھا یعنی اپوزیشن کا شو ایسا جس میں پاور نہیں، ان کے ہاتھ کچھ نہیں آئیگا’۔ بات دل کو کچھ کچھ تو لگتی ہے کیونکہ ہماری تاریخ اور ماضی کے حالات وواقعات یہی کہانیاں تو سناتے ہیں مگر جس ”ہاتھ نہ لگنے والی” حقیقت کی جانب اشارہ کیا گیا ہے، وہ آدھا سچ ہے، پورا سچ یہ ہے کہ کسی کے بھی ہاتھ کچھ کبھی نہیں لگا بلکہ طالع آزمائی کے ادوار شروع ہوئے جو نوسال سے گیارہ سال تک پھیلتے چلے گئے، اس لئے عقل کا تقاضا یہ ہے کہ ماضی کو ذہن میں رکھتے ہوئے فہم وفراست سے کام لیا جائے۔ غصے میں بھٹو نے بھی کرسی کو مضبوط قرار دیا تھا مگر پھر جس طرح کرسی اس کے نیچے سے سرک گئی تھی یا سرکا دی گئی تھی اس کے بعد پہلے تھوڑی سی بلندی پر جھول کر اسی زمین کے اندر آسودہ خاک ہوا جو ہر انسان کا مقدر ہوتی ہے۔ اسلئے منہ پر ہاتھ پھیر کر دوسروں کو نشان عبرت بنانے اور بعض لوگوں کو ذلیل کرنے کی سوچ رکھنے والوں کو ٹھنڈے دل ودماغ سے فیصلہ کرنا چاہئے کہ کیا کسی کے منہ پر سیاہی پھینکنے، دروازے تڑوا کر چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کرکے استہزائیہ انداز میں شاید قہقہے بھی لگا دئیے جائیں تو مکافات عمل کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا، اُردو زبان میں کوزے اور چھلنی کا محاورہ بھی کس نے ایجاد کیا، یہ تو نہیں معلوم مگر مؤجد کی عقلمندی کا ممنون احسان ہونا پڑتا ہے، ایک قدیم استاد شاعر کے اس مصرعہ میں بھی انسانوں کیلئے سبق موجود ہے کہ ”میں بھی کبھو کسی کا سر پر غرور تھا’ اشارہ کسی ایک جانب ہرگز نہیں بلکہ ایسا کرکے ”روسیاہی” حاصل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ درخواست تمام فریقوں سے ہے، فکر ملک وقوم کی کرنی چاہئے، دشمن ہماری گھات میں ہے، وہ ایک لمحہ ضائع کرنے کو تیار نہیں ہے، سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک پوسٹ میں ایک بھاشن سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح ہمارے اندر مسلکی، فقہی اور دینی بنیادوں پر تفرقہ ڈالنے کی مذموم حرکتیں مہمیز کی جارہی ہیں، یوں ہماری نظریاتی سرحدوں پر وار کرکے معاشرے کو کھوکھلا کیا جارہا ہے، ایسے میں ہم نے اگر ہوش کا دامن نہیں تھاما تو اللہ نہ کرے صورتحال ‘تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں” والی نہ بن جائے، تو کیا ذاتی غیض وغضب، غصے، نفرت، کدورت کے جذبات کو ہم تج نہیں سکتے؟ ڈاکٹر اظہار اللہ اظہار نے کیا خوب کہا ہے
توڑ کر رکھ دیا تہذیب کے آئینے کو
میرے اندر کسی وحشی کا بسیرا تو نہیں؟