پریشانی حالات سے نہیں خیالات سے پیدا ہوتی ہے

ایک آدمی نے اپنے جذبات کو قابو میں رکھنے میں ناکامی کے بعد سوچا کہ وہ خود کو سزا دے اور اپنے ہاتھ پیر کٹوا دے۔ اس مسئلے کو لیکر وہ ایک بزرگ کے پاس گیا اور ساری صورتحال بیان کردی۔
بزرگ: ”خود کو برباد کرنے سے بہتر ہے کہ تم اپنے برے خیالات کو تباہ کردو۔
آدمی: ”میں آپ کا مطلب سمجھا نہیں ‘اگر آپ اسے اور واضع کردے تو بہت اچھا ہوگا۔
بزرگ: ”ذہن آقا ہے، جب آقا خود پرسکون ہوگا تو خادم بھی خود بخود اس کی پیروی کریں گے۔ اگر تمہارے ذہن پر منفی خیالات حاوی رہیں گے تو اپنے ہاتھ پیر کٹوانے سے کیا حاصل ہوگا۔ جذبے ارادے سے پیدا ہوتے ہیں، ارادہ سوچ اور تخیل سے جنم لیتا ہے، جب دونوں پرسکون ہوں گے تو نہ ہوس ہوگی اور نہ تناسخ”
دوستو! بزرگ نے کتنا صائب مشورہ دیا تھا کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ جذبوں سے پریشانی پیدا ہوتی ہے اور پریشانی سے خوف جنم لیتا ہے۔ واصف علی واصف نے بھی کیا خوب کہا ہے ”پریشانی حالات سے نہیں خیالات سے پیدا ہوتی ہے” یاد رکھیں! ہم جو کچھ ہیں اپنے خیالات کی بدولت ہیں۔ یہ دنیا ہماری سوچ ہی کا نتیجہ ہے، اگر ہم منفی خیالات کیساتھ کچھ کریں گے تو نتیجہ پریشانی ہی پریشانی، مثبت خیالات کیساتھ کچھ کریں یا بولیں گے تو نتیجہ خوشی، اطمینان اور سکون ہی ہوگا۔
کیا ہم اپنے خیالات پر گرفت کر سکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب دینے سے پہلے یہ جاننا ضروی ہے کہ خیال ہے کیا؟ ”کوئی شے خیال بننے سے پہلے احساس ہوتی ہے، یہ تینوں چیزیں ہیں، احساس پہلے آتا ہے، پھر خیال آتا ہے، پھر عمل۔۔ ہر خیال ایک خاص احساس کا پیدا کردہ ہے۔ اگر احساس نہ ہو تو خیال بھی پیدا نہیں ہوگا۔ احساس خیال کی صورت میں حقیقت بنتا ہے، خیال عمل کی صورت میں حقیقت بنتا ہے۔ اب آپ کو ایک خاص احساس کو گرفت کرنا ہے، اگر پریشانی محسوس کر رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ زمین کے نیچے کچھ ہورہا ہے، کوئی احساس قوت پکڑ رہا ہے، بعض اوقات آپ اُداسی محسوس کرتے ہیں، اُداسی محسوس کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہوتی اور اسے اُبھارنے والا کوئی خیال بھی نہیں ہوتا، پھر بھی اُداسی ہوتی ہے، ایک عمومی احساس ہوتا ہے۔ اس مطلب یہ ہے کہ ایک احساس زمین کے اوپر آنے کی کوشش کررہا ہے، احساس کا بیچ اپنے پتے زمین کے اوپر بھیج رہا ہے۔ اگر آپ خیال سے آگاہ ہوگئے تو پھر جلد یا بدیر احساس سے بھی آگاہ ہوجائیںگے” آپ اپنے خیال کو نہیں پکڑ سکتے مگر احساس پر گرفت ضرور کرسکتے ہیں۔ اس کا دار ومدار آپ پر ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ خیالات کا انحصار احساسات پر ہے، اگر آپ اپنے احساسات کو بہتر بنائیں گے تو آپ کے خیالات خودبخود بہتر ہو جائیں گے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ آپ اپنے احساسات کو پاک’ خالص اور غیرآلودہ رکھیں، منفی چیزوں پر کان مت دھریں کیونکہ اگر آپ منفی چیزوں کا تصور کرتے ہیں تو وہ منفی چیزیں عملی طور پر واقع ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ ہر وقت سوچتے رہیں گے کہ آپ بیمار ہونے والے ہیں تو حقیقت میں آپ بیمار ہوتے جائیں گے۔ اگر آپ سوچتے رہیں گے کہ عنقریب کوئی شخص آپ کیساتھ سخت رویہ اختیار کرنے والا ہے تو عملی طور پر وہ ایسا ہی کرے گا۔ یہ آپ کا منفی خیال ہی ہوتا ہے جو ہوبہو ویسی ہی صورتحال کو تخلیق کرتا ہے۔ سوچ گمان یا خیال ہمیشہ دل سے دماغ کو جاتا ہے۔ آپ جیسا محسوس کرتے ہیں ویسے ہی خیالات اپنے دماغ کو بھیج دیتے ہیں، اس لئے سب سے پہلے اچھا محسوس کرنا شروع کریں اور اپنے دماغ کو اچھے خیالات بھیجیں تاکہ دماغ کے اندر پہلے سے موجود منفی خیالات کو کمزور یا شکستہ کیاجاسکے۔ اس کے باوجود بھی منفی خیالات اگر آپ کے ذہن کو ہر وقت گھیرے میں رکھتے ہیں تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ آپ خاموشی اختیارکریں۔ کوئی ردعمل ظاہر نہ کریں، اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کے ذہن میں جو خیالات پیدا ہوتے ہیں، وہ عارضی اور وقتی ہوتے ہیں۔ ایک لمحہ یہ خیالات موجود ہوتے ہیں، دوسرے ہی لمحے یہ خیالات معدوم ہو جاتے ہیں، ان کے متعلق فکرمند مت ہوں، نہ تو انہیں خود پر حاوی ہونے کی اجازت دیں اور نہ ہی ان پر قابو پانے کی کوشش کریں کیونکہ انہیں جانا ہی ہوتا ہے اور ان کی فطری نوعیت ہی ایسی ہے کہ یہ مستقل ہو نہیں سکتے۔ آپ یہ امر بھی ذہن نشین کرلیںکہ خوشگوار حالات کے بعد ناخوشگوار حالات کی آمد ناگزیر ہے، یہ زندگی کا تسلسل ہے۔ دن رات، زندگی اور موت، گرمی اور سردی زندگی کا یہ پہیہ یونہی گھومتا رہتا ہے۔ مارٹن لوتھر نے کتنی اچھی بات کہی ہے ”راستے پر کنکر ہی کنکر ہوں تو ایک اچھا جوتا پہن کر اس پر بھی چلا جاسکتا ہے لیکن ایک اچھے جوتے کے اندر ایک بھی کنکر ہوں تو ایک صاف ستھرے راستے پر بھی کچھ قدم چلنا مشکل ہو جاتا ہے یعنی باہر کے چیلنجوں سے نہیں ہم اپنے اندر کی کمزوری (منفی خیالات) کی وجہ سے ہارتے ہیں۔ ہماری سوچ اور ہمارے خیالات ہی ہمارا مستقبل طے کرتے ہیں، ہماری پریشانی کی اصل وجہ وہ منفی تفکرات ہوتے ہیں جو ہمارے اندر ہیں نہ کہ وہ عوامل جو باہر ہیں۔