کراچی’ محاذ گرم ہے یا ”چناچور” گرم؟

کراچی کا ”محاذ” گرم ہے، کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی۔ جناب شبلی فراز نے گزشتہ روز کہا ”بلاول بھٹو کی کیا حیثیت ہے” سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ”ہمیں سندھ حکومت ختم کرنے کی دھمکی دی گئی”۔ آرمی چیف نے بلاول بھٹو اور آئی جی سندھ کو ٹیلیفون پر تحقیقات کی یقین دہانی کروائی جس کے بعد آئی جی سندھ سمیت 47 سینئر پولیس افسروں اور سات ایس ایچ اوز نے چھٹیوں کی درخواست واپس لے لی۔ صاف سیدھی بات یہ ہے کہ جو ہوا اچھا نہیں ہوا۔ تفصیل مکرر عرض کرنے کی ضرورت نہیں البتہ یہ حقیقت ہے کہ تحریک انصاف کے ایک وفاقی وزیر سید علی زیدی اور سندھ اسمبلی کے پانچ ارکان نے جو رویہ اپنایا اور زبان استعمال کی وہ قابل ستائش ہرگز نہیں۔ سندھ مفتوحہ علاقہ نہیں یہ متحدہ ہندوستان کا وہ پہلا صوبہ ہے جس نے سب سے پہلے قیام پاکستان کیلئے قرار داد اپنی اسمبلی میں منظور کی۔ مطالبہ پاکستان کو رکھئے ایک طرف کسی دن غور کیجئے گا مسلم لیگ 1906ء میں ڈھاکہ میں قائم ہوئی، 1947 ء میں پاکسان بنا، 1971ء میں مسلم لیگ کا بانی صوبہ پاکستان سے الگ ہوگیا۔ ریفرنڈم میں پاکستان کے حق میں فیصلہ دینے والے صوبے این ڈبلیو ایف پی (اب خیبر پختونخوا) میں عدم تحفظ ہر گزرنے والے دن کیساتھ بڑھ رہا ہے۔ قیام پاکستان کے حق میں قرارداد منظور کرنے والے سندھ کی اسمبلی نے گزشتہ روز جزائز کو وفاقی ملکیت میں لینے کے صدارتی آرڈیننس کیخلاف قرارداد منظور کرلی۔ تحریک پاکستان میں آخری لمحوں میں شامل ہونے والے پنجاب میں الگ سے شکایات ہیں۔ پنجاب کے ہی سرائیکی بولنے والے اضلاع میں پچھلے 40 برسوں سے الگ صوبے کے قیام کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ یہ سنجیدہ ایشوز ہیں، ان پر توجہ دینے کی ضورت ہے۔ معاف کیجئے گا بات ذرا دور نکل گئی، کراچی میں آئی جی سندھ سے ہوئے برتاؤ کے بعد کھلنے والا محاذ گرم ہو رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اندراج مقدمہ کیلئے آئی جی کو دھمکیاں دینے والے گورنر سندھ، عمران اسماعیل، وفاقی وزیر علی زیدی اور سندھ اسمبلی کے پانچ انصافی ارکان ہزار زاویہ کی اُلٹی قلابازی لگا کر اب جو کہہ رہے ہیں اسے سن کر ہنسی آتی ہے۔ ہمیں کھلے دل سے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ مروجہ سیاست اور نظام ہائے حکومت نفرت پر کھڑے ہیں، سو دست بدستہ عرض ہے پہلے نفرت کے کوہ ہمالیہ سے اُتریں سیاسی اقدار، انداز تکلم کے ضابطوں اور سماجی روایات واقتدار کے تقاضوں کو شعوری طور پر سمجھنے کی کوشش کریں۔ بدقسمتی سے ہمارے یہاں دلیل سب سے ناپسندیدہ چیز ہے۔ آپ پچھلے چار دن کے اخبارات اُٹھا کر دیکھ لیجئے، کراچی میں مزارقائد والے معاملہ پر مقدمہ کے اندراج سے قبل اور بعد میں کس نے کیا کہا، فیصلہ کرنے میں آسانی ہوگی۔ حکومت کے کسی بھی محکمے میں سیاسی مداخلت ہونی چاہئے نا کسی محکمے کو سیاست کا شوق پالنے کی ضرورت ہے۔ پچھلے چار روز سے سندھ پولیس میں سیاسی مداخلت کی باتیں کرتے انصافی اور نفیس لوگ دونوں اس سوال کا جواب نہیں دیتے کہ چند دن قبل پنجاب کے ایک ضلع میں پولیس نے پانچ خواتین اور تین بچوں کو اغواء کیا، یہ مغوی چار دن بعد ایک نجی عقوبت خانے سے برآمد ہوئے، اپنے اس جرم پر پردہ ڈالنے کیلئے اس ضلع کی پولیس نے برآمد کی گئی خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد کیخلاف جھوٹا مقدمہ درج کرلیا۔ صوبائی حکومت کا ایک بھی ذمہ دار شخص کیا تیسرے درجہ کا انصافی رہنما اس معاملے میں نہیں بولا کیوں؟۔ پنجاب کے ایک واقعہ کا ذکر ضمناً ہے تاکہ سند رہے، ماضی قریب میں خیبر پختونخوا میں بڑی شخصیات تھانوں سے ملزم اور مجرم چھڑا کر لے جاتی رہیں۔ سندھ میں کچھ عرصہ قبل ایک دوسرے کے ہاتھوں بے توقیر ہونے والے پولیس افسر نے خود کو جو سزا دی اس سے آنکھیں بند نہیں کی جا سکتیں۔ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں تعینات ہونے والے سی سی پی او کی بدزبانی، غیر روایتی انداز نے پچھلے ایک دیڑھ ماہ کے دوران جو مسائل پیدا کئے وہ سب کے سامنے ہیں، حال ہی میں بدکلامی پر مبنی ایک آڈیو منظرعام پر آنے کے بعد وہ تین دن کی رخصت پر چلے گئے۔ یہ چند مثالیں ہیں لاریب پولیس کے داخلی نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اہلکاروں اور افسروں کی خودسری قابل سرزنش ہے۔ اسی طرح سیاسی مداخلت اور حکومتی شخصیات کا دباؤ بھی درست نہیں۔ اصلاح اور اصلاحات کی ضرورت ہے۔ مکرر عرض ہے کراچی کے واقعہ پر تحقیقات ہو لینے دیجئے، تحقیقات مکمل ہونے سے قبل چاند ماری اور بدکلامی (بدکلامی تو کسی طور درست نہیں) بند کیجئے۔ ہم سبھی کو ایک بات بطور خاص سمجھنا ہوگی ریاستیں، منہ زور طاقت، ایٹمی ہتھیاروں اور نفرت پر نہیں، عدل، مساوات، علم، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور اظہار رائے کی آزادی سے قائم رہتی اور آگے بڑھتی ہیں۔ یہاں باوا آدم نرالا ہے، سندھ کے ایک سیکرٹری نے ایک بااثر ادارے کو خط لکھا کہ آپ کے زیراستعمال عمارت کی واپسی ناگزیر ہے۔ اس خط کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک دوسری عمارت سندھ سے چھین کر وفاق کو دے دی حالانکہ 18 ویں ترمیم کے بعد یہ فیصلہ یا حکم دونوں غیر آئینی تھے۔ بار دیگر عرض ہے کہ جب تک طاقتور ترین شخص سے عام شہری تک اور ادارے و محکمے بھی خود کو قانون کا پابند نہیں سمجھیں گے اصلاح احوال ممکن نہیں۔