یہ کیسی محبت ہے؟

مجھے پاکستان سے بہت محبت ہے، زندہ دھڑکتی، سانس لیتی محبت۔ یہ ایسی محبت ہے کہ کئی بار دل چاہتا ہے کہ پاکستان کا ماتھا چوم لوں۔ اسے دل سے لگا لوں، اس کے راستے کے کنکر چن لوں، اس کو چوٹ لگے تو مرہم لگاؤں، اس کے بال سنواروں، اس کے چہرے پر ہنسی بکھیرنے کے جتن کروں، پاکستان سے محبت میری ہر ایک دھڑکن میں موجود ہے۔ میرے خون میں بہتی ہے شاید اسی لئے میں پاکستان سے کبھی کبھار ناراض ہوجاتی ہوں۔ کبھی دکھ جاتی ہوں، کبھی اسے زور سے جھڑک دینا چاہتی ہوں لیکن یہ سب کیسے ممکن ہے کیونکہ میں خود سے کہاں ناراض ہو سکتی ہوں، کیونکہ میں ہی تو پاکستان ہوں۔ خود کو کیسے گھرک دوں کیونکہ میں پاکستان ہوں، پھر میں سوچتی ہوں کہ اس ملک سے محبت میرے خمیر میں گوندھی گئی، میں تعلیم حاصل کر رہی تھی تو میری ماں میرے کان میں سرگوشی کیا کرتی تھی، ہم اس ملک کی وجہ سے ہیں، میرے پاپا مجھے بتایا کرتے تھے بیٹے ہم اسی ملک کے نام سے پہچانے جاتے ہیں، میں تمہیں دنیا دکھا دوں گا لیکن اس ملک کو چھوڑ کر کہیں اور جانے کا تصور بھی نہ کرنا۔ اس ملک کیلئے ہی اپنی زندگی ترتیب دینا، اس ملک سے محبت میں اپنے لئے راحت تلاش کرنا، میں خاموشی سے سنتی رہی، میرے دادا سید اسعد گیلانی، جماعت اسلامی سے وابستہ تھے، بچپن میں منصورہ میں لگنے والی کتابوں کی سیل میں کتنی کہانیوں کی کتابیں مجھے خرید کر دئیے جن میں بس ایک ہی درس تھا، اس ملک سے محبت اور اللہ کی اطاعت کا درس۔ بچوں کے لئے لکھی گئی ان کہانیوں میں میں نے جنوں، پریوں کے قصے نہیں پڑھے۔ ان بچوں کی کہانی پڑھی جنہوں نے اپنا محلہ گندا دیکھا تو صاف کیا، کہیں کسی کو جانور کیساتھ ظلم کرتے دیکھا تو منع کیا۔ میں کبھی اس کہانی کو بھول نہیں سکتی، جب ایک گھرانہ ایک نئے محلے میں جاکر آباد ہوا۔ اس محلے میں ایک میدان تھا جو کوڑے کرکٹ سے اٹا ہوا تھا، اس گھرانے کے بچے نے اپنے محلے کے بچوں کو اکٹھا کیا، وہ میدان انہوں نے صاف کیا، اس میں ایک جانب کچھ سبزیاں بوئیں اور دوسری جانب اپنے کھیلنے کا میدان بنا لیا۔ اس کہانی نے میری ساری شخصیت پر گرفت کرلی۔ اب بھی کئی بار مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہ گرفت باقی ہے۔ میں نے کبھی اس گرفت سے آزاد ہونے کی کوشش بھی نہیں کی۔ وہ بات بہت اچھی تھی، مجھے وہ تبدیلی بہت خوبصورت لگتی، چشم تصور سے میں نے کتنے ہی میدانوںکو یوں اپنے ہاتھوں سے سبزہ زاروں میں تبدیل کیا۔ اور کبھی کہیں موقع ملا تو میں نے اپنے تئیں پوری کوشش کی۔ یہ کہانی شاید میرے اندر موجود تھی اسی لئے جب تحریک انصاف نے تبدیلی کا نعرہ لگایا میں نے ہمک کر اس نعرے کو تھام لیا۔ نواز شریف، شہباز شریف، آصف زرداری، مولانا فضل الرحمن، کسی سے کوئی امید نہیں تھی۔ اور ایسے نہیںکہ کبھی انہیں آزمایا نہیں، انہیں بار بار آزمانے کے بعد ہی یہ امید ٹوٹی، جب عمران خان نے ملک میں اقتدار سنبھالا تو ہم میں سے ہر ایک نے بہت اُمیدیں باندھیں، ان اُمیدوں کو باندھنے میں کچھ باتیں ہم نے سنی ان سنی کردیں۔ انہوں نے مشکل دنوں کی بات کی، ہمیں مشکل دنوں کی بات ہی یاد نہ رہی اور سب سے بڑھ کر ہم یہ بھول گئے کہ سچائی کبھی آسمان سے بارش کی طرح نہیں برستی، وہ معجزہ تو حضرت عیسی کیساتھ ہی تھا کہ آسمان سے بارش برسی اور کوڑھیوں کے کوڑھ دُھل گئے۔ اب تو محبت کرنا پڑتی ہے، اب میدان صاف کرنا پڑتا ہے، زمین پر جھاڑرو لگانا پڑتا ہے، جہاں سبزی لگانی ہو وہاں گوڈی کرکے زمین نرم کرنی پڑتی ہے۔ کھاد بھی ڈالنا پڑتا ہے۔ بیچ ڈال کر آبیاری کرنا ہوتی ہے، کتنا وقت لگتا ہے اور یہ سب کوئی اور نہیں کرتا، اپنے ہاتھ سے کرنا پڑتا ہے۔ ہم نے بحیثیت قوم ہمیشہ ہی اپنی جگہ سے ذرا جنبش نہیں کی ہمیشہ اس بارش کی دعا کی ہے جس سے ہمارا کوڑھ دور ہوجائے اور یہ کوڑھ تو ہمارے اندر ہی اندر پھیلتا چلا گیا ہے۔ کسی نے کبھی اپنے ہاتھ کو نہیں روکا، کبھی بڑھتے قدم نہیں روکے، اب تو نفس بھی شیطان ہوچکا اور اس پر کوئی قابو نہیں، تبھی تو ہمارے بچے ہی مسلسل بھنبھوڑے جارہے ہیں اور ہم اس کا بھی کوئی حل تلاش نہیں کرتے، جب کسی بچے کے گم ہوجانے کی خبر ملتی ہے، میری جیسی مائیں دل تھام لیتی ہیں یااللہ بچہ زندہ سلامت واپس آجائے لیکن اب کوئی بچہ زندہ ماں کی گود میں واپس نہیں لوٹتا اور میں سوچتی ہوں کہ ہم پہلے کیا کہا کرتے تھے کہ منصف ہو تو اب حشر اُٹھا کیوں نہیںدیتے، یہ حشر تو انسان نے اُٹھا رکھا ہے اور کوڑھ تو ہم خود ہیں بارش ہوئی تو سارا پاکستان خالی ہوجائیگا۔ یہ ملک جس سے محبت آج بھی میری نس نس میں ہے، یہ ملک اپنے گلے سڑے نظام کی گرفت میں تڑپ تڑپ کر نیم مردہ ہوگیا۔ انصاف ملتا ہی نہیں تبھی تو درندے دندناتے پھرتے ہیں اور ہم نے جو محبت اس ملک کے نام سے اپنے دلوں میں پالی تھی، ہم نے اسے اپنے اپنے دلوں میں ہی مقفل کر رکھا۔ ہم اس ملک کیلئے کچھ نہیں کرتے کیونکہ ہمارا خیال ہے کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے۔ ہم مجبور ہیں، کیونکہ ہم نے سوچنا بند کردیا ہے ورنہ ہم خیال لوگ ملنے کیا مشکل ہوتے ہیں، آخر ہم یہ سب کب تک یونہی روا رکھیں گے، کب تک خود فیصلہ نہ کرینگے۔ کب تک! آخر کب تک۔