دیوار گریہ سے مزار قائد تک

بیت المقدس ادیان عالم کے نزدیک مقدس مقام ہے، یہاں تک کہ یہ مسلمانوں کا بھی قبلہ اول ہے اور وہ عرصہ تک اس کی جانب رخ کر کے نماز ادا کرتے رہے،پھر حضورۖ پر نماز کے دوران وحی نازل ہوئی اور انہوں نے اپنا رخ خانہ کعبہ کی جانب پھیرا،ان کے تتبع میں جن صحابہ کرام نے بھی ایسا کیا انہیں اللہ رب العزت کی جانب سے جنت کی بشارت دی گئی، بیت المقدس پر یہودی بھی اپنا حق جتاتے ہیں بلکہ اس پر مسلمانوں اور یہود ونصاریٰ کے درمیان جنگیں تاریخ کا حصہ ہیں، جب مسلمانوں نے صلاح الدین ایوبی کی قیادت میں بیت المقدس پر قبضہ کر کے یہودیوں کو بے دخل کیا تو اس کے بعد یہودیوں نے اس مقدس عمارت کی ایک دیوار کو دیوار گریہ قرار دیکر اس کے پاس آکر اپنے گناہوں کی معافی مانگنے اور ہیکل سیلمانی کی دوبارہ تعمیر کیلئے یہاں گریہ وزاری کو معمول بنا لیا، دیوار گریہ کیساتھ کھڑے ہو کر آنسوں بہانا، اپنے اسلاف اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنا ان کا معمول بن گیا جب تک وہ (ایک بار پھر بیت المقدس پر قابض نہیں ہوئے) دور دور ممالک سے آکر دیوار گریہ کیساتھ سر ٹکڑا ٹکڑا کر آنسو بہاتے رہے، اب تو انہوں نے مسلمانوں پر کئی طرح کی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں اور بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے بعد صورتحال سے پوری دنیا واقف ہے اگرچہ فلسطینی مسلمان اس عالمی سازشی فیصلے کیخلاف ڈٹے ہوئے ہیں اور اب اپنے ان بزرگوں کی ناکردنیوں کی سزا پارہے ہیں جنہوں نے لالچ میں آکر یہودیوں کو اپنی زمینیں فروخت کر کے بالآخر فلسطین سے ہاتھ دھوئے اور اب ایک جانب اگر یہودی دیوار گریہ کے سائے میں آنسو بہا رہے ہیں تو فلسطینی مسلمان دربد رہو کر کف افسوس مل رہے ہیں مگر ان کی گریہ وزاری بھی رائیگانی کے زمرے میں شمار ہورہی ہے ۔ علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا
دہقان و کشت و جوئے و خیاباں فروختند
قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند
مسلمانوں کے ہاں یہ بھی روایت ہے کہ نہ صرف اپنے والدین سے دعالیں اور اگر وہ دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں تو ان کے مقابر پر جا کر ان کیلئے دعا مانگیں بلکہ وہاں اپنے لئے بھی دعا مانگیں، اللہ سے منت وزاری کریں، تو قبولیت کے امکانات روشن ہوتے ہیں۔ بابائے قوم حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار کو بھی سیاستدانوں نے گریہ وزاری کیلئے مختلف مواقعوں پر اپنی فریاد کا محور بنایا، تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ11ستمبر کو(جو یوم وفات قائد اعظم ہے) سال1971ء میں پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقارعلی بھٹو نے مزار قائد پر ایک جلسہ عام منعقد کر کے ایک تاریخی تقریر کی تھی، انہوں نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا تھا ”اگر آپ خاموشی سے میری بات سن لیں تو میں آپ کا ممنون ہوں گا کیونکہ ہمارے پاس لائوڈ سپیکرز نہیں ہیں میں یہاں قائد اعظم کو خراج عقیدت پیش کرنے اور ان کی یادداشت تازہ کرنے آیا ہوں، میرا یہاں تقریر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا مگر 6ستمبر کو چند معززین(اس وقت کے وزرائ)یہاں تشریف لائے اور تقاریر کیں’اس لئے توقع کرتاہوں کہ حکومت کو میرے تقریر کرنے پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ تعجب ہے کہ بابائے قوم کے مزار پر تقریر کرنے کی اجازت نہیں ہے، یہ ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ سب سے مقدس مقام پرہمیں اپنے دل کی بات کہنے کی اجازت نہیں مگر میں پورے خلوص کیساتھ اپنی روح کی گہرائیوں سے آپ سے بات کروں گا”۔ آگے چل کر بھٹو مرحوم نے کہا۔ ”میں طویل عرصہ سے مطالبہ کرتا چلا آرہا ہوں کہ لوگوں کی سیاسی آزادی بحال کی جائے، اے میرے قائد! آپ نے یہ ملک عوام کیلئے بنایا تھا ان چند لوگوں کیلئے نہیں جن کے ہاتھ میں آج عنان اقتدار ہے، اے میرے قائد آج میں آپ کے پاس احتجاج کرنے آیا ہوں، کیا یہی آپ کا تصور پاکستان تھا؟ ہم نے برصغیر کو تقسیم کیا تاکہ اپنی مرضی سے زندگی گزار سکیں، میرے قائد گواہ رہنا آج ہمیں لب کشائی کی اجازت نہیں، خاموشی ہم پر مسلط کردی گئی ہے، بولو میرے قائد بولو، بتائو جبر کی یہ رات کب ختم ہوگی؟” مرحوم بھٹو کی یہ طویل تقریر تاریخ کا حصہ ہے، ایسی صورت میں اگر قائد اعظم جو بابائے قوم ہیں، کے مزار پر ان حالات کے بارے میں گریہ وزاری اور احتجاج کا ڈول اکثر وبیشتر ڈالا جاتا رہا ہے، ابھی حال ہی میں جس طرح لیگ(ن) کے ایک رہنماء کی جانب سے مزار قائد پر کچھ نعرے بازی کی گئی، اگرچہ ان میں اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں کہ دونوں نعرے کسی کیخلاف نہیں تھے، یعنی بظاہر بے ضرر سے نعرے بازی میں کسی کیخلاف تحقیر آمیز الفاظ استعمال نہیں کئے گئے تھے، پھر بھی بعض حلقوں سے یہ الفاط برداشت نہیں ہوئے، یہ نعرے کیا تھے، پوری دنیا جانتی ہے، تاہم چونکہ مزار قائد پر کسی بھی قسم کی ہلڑ بازی قابل تعزیر جرم ہے اس لئے احتیاط لازمی ہے، یہ الگ بات ہے کہ موجودہ مقتدروں کے سرخیل نے بھی ماضی میں یہی رویہ اختیار کیا تھا اس پر بھی مخالف سیاسی رہنماء معترض ہیں اور مقدمہ درج کرانے کا سوچ رہے ہیں، بقول انجم رومانی
اول اول چلے من جملہ آداب جو بات
آخر آخر وہی تعزیر بنی ہوتی ہے