سو پردوں میں چھپی حقیقت

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اپوزیشن کی گیارہ جماعتوں نے عوام کے درد محسوس کرتے ہوئے اور ملک وقوم کی فلاح کیلئے مشترکہ اتحاد تشکیل دیا ہے تو یہ آپ کی خام خیالی ہے، اگر آپ سمجھتے ہیں کہ اپوزیشن کی جماعتیں منتخب حکومت کو گرا کر پاکستان کو مسائل کے گرداب سے نکال دیں گی تب بھی آپ دھوکہ کھا رہے ہیں کیونکہ اپوزیشن کی تمام جماعتوں کو متعدد بار اقتدار کا موقع مل چکا ہے، توکیا پھر موجودہ حکومت پر کسی قسم کی تنقید نہیں کرنی چاہئے، کیا خاموشی سے حکومت کے پانچ سال پورے ہونے کا انتظار کرنا چاہئے؟ ہماری ناقص رائے میں پاکستان کے عوام اور سیاسی جماعتیں دو انتہاؤں پر جا کر فیصلہ کرنے کی عادی ہو چکی ہیں حالانکہ نجات درمیانی راہ میں ہے۔ کیا ایسا ممکن نہیں کہ حکومت پر تنقید بھی کی جائے اور اسے کام کرنے کا موقع بھی فراہم کیا جائے؟ ایسا اس صورت میں ہو سکتا ہے جب ذاتی مفاد اور سیاست کی بجائے ملک وقوم کے مفاد کو مقدم رکھا جائے، آج جسے سیاسی تحریک کا نام دیا جا رہا ہے وہ دراصل اپنے مؤقف پر ڈٹ جانے کا نام ہے، اس سے قطع نظر کہ اپنے مؤقف کو پیش کرنے میں سچ بولا جائے یا جھوٹ کا سہارا لیا جائے۔ واضح رہے عوامی اجتماعات چاہے اپوزیشن کے ہوں یا حکومت کے، عوام ان اجتماعات میں بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں اس لئے فریقین میں سے ہر کو ئی یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ پاکستان کے عوام کی انہیں حمایت حاصل ہے جبکہ حقیقت سو پردوں میں چھپ کر رہ گئی ہے۔پاکستان اس وقت ان گنت مسائل ومشکلات سے دوچار ہے، مہنگائی کا جن قابو سے باہر ہو چکا ہے، بیروزگاری کا عالم یہ ہے کہ اب تو دینے والا ہاتھ بھی بھیک مانگنے پر مجبور ہے، امن وامان کی داخلی صورتحال بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، ملک بھر میں اسٹریٹ کرائم جس دیدہ دلیری سے دن کی روشنی میں ہو رہا ہے اسے ہر بینا آنکھ دیکھ رہی ہے، بلوچستان میں دہشتگرد پھر سر اُٹھانے لگے ہیں، آئے روز ہمارے فوجی جوان اور سویلین ان ملک دشمنوں کے بارود کا ایندھن بن رہے ہیں، جموں وکشمیر کی کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارت کی جارحانہ سرگرمیاں روز کا معمول بن چکی ہیں، مقبوضہ کشمیر کو تو وہ عملی طور پر ہڑپ کر ہی چکا، جسے اس کے منہ سے نکالنے کیلئے دانستہ بے حس عالمی برادری کو متحرک کرنے میں بھی پاکستان تاحال کوئی قابل ذکر کردار اداکرنے سے قاصر ہے۔ اب تک صرف تقریروں سے کام چلایا جا رہا ہے، ملک میں ہونے والے احتساب پر بھی چاروں جانب یکسوئی دکھائی نہیں دیتی بلکہ یہ امر زیادہ تکلیف دہ ہے کہ عدالت عظمیٰ بھی اس پر سوالیہ نشان لگا چکی ہے، کورونا کا رونا تاحال جاری ہے بلکہ اب پھر کہا جا رہا ہے کہ کیسز بڑھنے لگے ہیں اور عین ممکن ہے کہ پھر ملک میں لاک ڈاؤن کی مشقت سے عوام کو گزارا جائے جس سے رہی سہی کسر نکل جائے گی۔ المیہ تو یہ ہے کہ ان بڑے مسائل سے نظریں چرائے حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے پر کیچڑ اُچھالنے میں مصروف ہیں، دونوں فریق کچھ بھی کہیں لیکن پاکستان کے عوام حقیقی صورتحال سے بخوبی آگاہ ہے۔ حکومت اور اپوزیشن لیڈروں کی تقاریر میں ایک دوسرے کی تضحیک کا تمام مواد موجود ہوتا ہے، لگتا ہے معاملات اب پوائنٹ آف نو ریٹرن کی طرف جا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے صاف کہہ دیا ہے کہ لوگ اب ایک بدلا ہوا عمران خان دیکھیں گے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پی ڈی ایم کی تحریک کو روندنے کی تیاری کر چکے ہیں جبکہ اپوزیشن رہنما حکومت کو گھر بھیجنے تک خاموش نہ بیٹھنے کا تہیہ کئے ہوئے ہیں اور یوں محسوس ہو رہا ہے کہ ہاتھیوں کی لڑائی میں مہنگائی میں پسے عوام کو مزید پسلیاں تڑوانے کیلئے تیار رہنا چاہئے۔ ایسے حالات میں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ حکومت ملک کے دگرگوں حالات کو دیکھتے ہوئے افہام وتفہیم کا راستہ نکالتی، عوام کو مہنگائی کے جن سے آزاد کرانے کی سعی کرتی، بیروزگاری کے گہرے ہوتے ہوئے کنویں کو بھرنے میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتی، امن وامان، اسٹریٹ کرائم کو روکنے کیلئے کابینہ کیساتھ سر جوڑتی، بلوچستان میں سراٹھاتی دہشت گردی کے آگے بند باندھنے کی کوئی حکمت عملی بناتی، سرحد پر بھارت کی بڑھتی ہوئی بدمعاشیوں کا توڑ کرتی، جموں وکشمیر کو اس کے ناجائز قبضے سے چھڑانے کیلئے عالمی برادری کو جھنجھوڑتی اور ملک میں ہونے والے احتساب پر سے یکطرفہ کی چھاپ ہٹانے کیلئے کوئی عملی قدم اُٹھاتی لیکن بدقسمتی سے حکومتی سطح ایسی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن کا بھی فرض تھا کہ وہ ان مشکل حالات میں ملک وقوم کی خاطر حکومت کیساتھ سینگ لڑانے کے بجائے صبر وتحمل کا معاملہ کرکے پاکستان کی سربلندی کیلئے انہیں پانچ سال برداشت کرتی لیکن اب حالت یہ ہے کہ اپوزیشن حکومت گرانے اور حکومت خود کو بچانے میں ملک اور قوم کے مسائل کو بالائے طاق رکھ چکے ہیں اور یہ حالات عوام غور سے دیکھ رہے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ حکومت واپوزیشن دونوںکا انداز درست نہیں، انہیں چاہئے کہ کشیدگی اتنی نہ بڑھائیں کہ نتیجے میں دونوں کو پچھتانا پڑے۔