سیٹیوں کے شور میں ایک خاموش سیٹی

اُردو ادب میں سیٹی صرف ریل کیساتھ منسوب ہے، شاید میر، غالب اور مصحفی کے زمانے میں قانون ساز ایوان تھے نہ مشاعروں کے یہ رنگ ڈھنگ کہ وہ سیٹی کو کسی اور سے بھی منسوب کرتے۔ اس کے بعد بھی فیض، فراز اور منیر کے عہد تک سیٹی صرف ریل سے ہی بریکٹ ہوئی نظر آتی ہے۔
منیر نیازی کے بقول
صبح کاذب کی ہوا میں درد کتنا تھا منیر
ریل کی سیٹی بجی تو دل لہو سے بھر گیا
ناصر کاظمی نے ریل کی سیٹی کا اور بھی خوبصورت استعمال کیا ہے
ریل کی گہری سیٹی سن کر
رات کا جنگل گونجا ہوگا
گزشتہ منگل کا دن قومی سیاست میں ہر اعتبار سے ہنگامہ خیز تھا، قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت چار بل منظور کروا رہی تھی اور اپوزیشن سیٹیاں بجاکر اپنا احتجاج ریکارڈ کرا رہی تھی۔ سندھ میں ایک سیاسی بھونچال سا آگیا تھا۔ کیپٹن (ر) صفدر مزار قائد بے حرمتی کیس میں صبح سویرے عالم خواب سے جگا کر گرفتار کر لئے گئے تھے۔ اس سے بھی بڑا معاملہ یہ تھا کہ کیپٹن (ر) صفدر کو کس اتھارٹی نے کس حکم کے تحت گرفتار کیا۔ کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری سندھ پولیس اور حکومت کا سبجیکٹ تھا مگر سندھ حکومت اس واقعے پر ندامت اور شرمندگی کا اظہا رکر رہی تھی۔ کچھ ہی دیر میں یہ معمہ حل ہوا کہ سندھ حکومت اور پولیس اس معاملے سے لاعلم تھی اور کسی اور فورس نے کیپٹن (ر) صفدر کو گرفتار کرکے پولیس کو ربر سٹیمپ کے طور پر استعمال کیا اور اس دوران آئی جی پولیس سندھ کو یرغمال بنانے کی بات بھی سامنے آئی۔ وزیراعلیٰ سندھ ٹی وی سکرین پر نمودار ہوئے تو ”جناب شیخ کا نقش قدم یوں بھی یوں بھی” کے انداز میں وکٹ کے دونوں طرف کھیلتے ہوئے محسوس ہوئے۔ وہ بیک وقت مزار قائد پر کیپٹن (ر) صفدر کی اداؤں اور نعروں سے بھی اور ان کی گرفتاری دونوں سے فاصلہ پیدا کرتے نظر آئے۔ انہوں نے اس واقعے کی تحقیقات کرانے کا حکم بھی دیا۔ کنفوژن بڑھتا گیا تو اچانک آئی جی سندھ سمیت پولیس کے کئی اعلیٰ افسروں کے چھٹیوں پر جانے کی خبریں آنا شروع ہو گئیں۔ یوں لگ رہا تھا کہ سندھ پولیس ہڑتال کرنے جا رہی ہے، نظام حکومت مفلوج ہو رہا ہے، اس سے بلاشبہ سندھ میں طاقت کا ایک خلاء پیدا ہو رہا تھا۔ یہ ایک بڑے بحران کا اشارہ تھا، پی ڈی ایم کے راہنماؤں کیساتھ پریس کانفرنس میں مریم نواز نے لگی لپٹی رکھے بغیر آئی جی سندھ کے اغوا اور وارنٹ گرفتاری جاری کرانے کا سارا الزام رینجرز پر عائد کیا اور یوں معاملہ پھر فوج تک پہنچ گیا۔ وزیراعظم عمران خان اس حوالے سے خاموش تھے، مولانا فضل الرحمان کی آتش بیانی میں کچھ نمایاں کمی دیکھی جا رہی تھی۔ بلاول بھٹو ایک الگ پریس کانفرنس کیساتھ سامنے آئے تو ان کا لہجہ بھی کچھ بدلا بدلا سا تھا، وہ الزام درالزام کے چکروں سے نکل کر معاملہ کو ٹھنڈا کرنے کا انداز اپنائے ہوئے تھے۔ وزیراعظم عمران خان نے گورنر عمران اسماعیل کو اسلام آباد طلب کیا، عین اسی دوران کورکمانڈرز کا اجلاس بھی منعقد ہو رہا تھا۔ اس اجلاس کے اعلامئے کی اپنی اہمیت تھی، صرف بیرونی حوالے سے ہی نہیں بلکہ اندرونی معاملات پر بھی کیونکہ اہل سیاست کی مہربانی سے فوج ہر مقام پر زیربحث تھی۔ آرمی چیف نے بلاول بھٹو کو فون کرکے واقعے کی تحقیقات کی یقین دہانی کرائی اور کورکمانڈر کراچی کو واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا اور اس کیساتھ ہی بلاول نے آرمی چیف کا شکریہ ادا کیا اور انہوں نے پریس کانفرنس میں کہہ دیا تھا کہ وہ کوئٹہ کے جلسہ عام میں اس لئے شریک نہیں ہوں گے کہ طے شدہ پروگرام کے مطابق انہیں گلگت بلتستان جانا ہے۔ کوئٹہ کا جلسہ محمود اچکزئی کی میزبانی میں ہو رہا ہے اور وہاں صرف اداروں ہی نہیں دوسرے صوبوں بالخصوص پنجاب کی خبرگیری بھی متوقع ہے۔ نوازشریف کا خطاب بھی متوقع ہے، پنجاب میں مسلم لیگ ن کی اسٹیبلشمنٹ سے محاذ آرائی کے نتیجے میں جو سپیس بنتی ہے اسے عمران خان پُر نہیں کرسکتے۔ تحریک انصاف نے پنجاب میں جتنی سپیس حاصل کرنا تھی کر لی ہے، اب اگر کسی کونے کھدرے میں خلاء پیدا ہوتا ہے تو اسے پیپلزپارٹی اور ق لیگ وغیرہ جیسی جماعتیں پُر کرسکتی ہیں۔ آصف زرداری جیسا کائیاں سیاستدان اس حقیقت کو سمجھتا ہے مگر بلاول کیلئے ابھی پی ڈی ایم کے سٹیج کی اہمیت ہے۔ اس ساری صورتحال میں کورکما نڈرز کانفرنس کا اعلامیہ بھی سامنے آیا جس میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات کا حوالہ دیکر کہا گیا تھا کہ ملک کو غیرمستحکم کرنے کی ہر کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ یہ سب فریقوں کیلئے پیغام تھا کہ عدم استحکام کی کوئی بھی صورت ناقابل قبول ہی نہیں بلکہ جواب بھی پائے گی۔ قومی اسمبلی کا ایوان ارکان کی سیٹیوں سے گونج رہا تھا تو کورکمانڈرز اجلاس میں بھی کچھ سیٹیاں بج رہی تھیں، یہ کھیل کے میدان میں بجنے والی سیٹیوں جیسی معلوم ہوتی تھیں، ریفری اور امپائر کی سیٹیوں کی طرح یہ سب فریقوں کیلئے تھی۔ اُمید کی جانی چاہئے کہ اس کے بعد ووٹ کی عزت افزائی کی تحریک کھیل کے آداب کیساتھ جاری رہے گی اور حکومت اپنا بوجھ خود اُٹھانا سیکھ لے گی۔ ناصر کاظمی کی روح سے معذرت کیساتھ ان کے مصرعے کی تضمین یوں کی جائے تو بے جا نہ ہوگا
”چیف” کی گہری سیٹی سن کر۔۔۔