مشرقیات

ایک موچی دن بھر جوتے سیتا، چپلیں ٹانکتا، چمڑا کوٹتا، محنت سے کام کرتا۔ شام ہوتے ہی سامان سمیٹ کر جو کچھ کماتا اس سے کباب خریدتا، شراب پیتا اور چار دوستوں کو جمع کرکے رات گئے تک اپنے گھر میں دھما چوکڑی مچاتا ترنگ میں بار بار ایک شعر الاپتا، جس کا مطلب کچھ یوں ہوتا کہ لوگوں نے مجھے اپنے ہاتھوں سے کھو دیا، ایک ایسے بہادر کو جو لڑائی کے موقع پر دشمنوں کے منہ پر تلواریں مارتا ہے۔ یہ موچی شہر کوفہ میں رہتا تھا، ابن خلکان نے لکھا ہے، امام ابوحنیفہ اس کے پڑوسی تھے۔ امام صاحب بھی راتوں کے جاگنے والے وہ ذکر وفکر میں لگے رہتے اور ادھر ان کے پڑوسی کے گھر دھما چوکڑی مچتی۔ ناچ گانا، سازآواز، گالی گلوچ کا ایک طوفان بدتمیزی جاری رہتا۔ امام صاحب کو بڑی تکلیف ہوتی، بڑی سخت تکلیف کے باوجود وہ خاموش رہتے، چاہتے تو لمحوں میں تدارک ہو جاتا، شہر کا بڑا چھوٹا ہر ایک ان کی عزت کرتا تھا لیکن وہ اللہ کے نیک بندے اپنے پڑوسی موچی سے کچھ نہ کہتے۔ ایک رات کچھ سپاہی جو شہر میں گشت کرتے پھر رہے تھے اُدھر آنکلے، دیکھا ایک ہنگامہ برپا ہے، شرابی ناچ رہے ہیں، گارہے ہیں، سارے محلے کو سر پر اُٹھایا ہوا ہے تو انہوں نے موچی کے گھر پر دھاوا بول دیا۔ موچی اور اس کے ساتھیوں کو پکڑ کر لے گئے۔ ان سے کہا تمہیں یہ بھی خیال نہ رہا کہ ساتھ کون رہتا ہے؟ ان کی عبادت میں کتنا خلل پڑتا ہوگا؟ رات جو ہنگامہ رک گیا اور خاموشی چھائی رہی تو صبح امام ابوحنیفہ نے اپنے پاس آنے والوں سے پوچھا کیا بات ہے رات ہمارے خوش فکر ہمسائے کے پاس سے بہت جلد خاموشی ہوگئی؟ لوگوں نے بتایا اسے تو رات پکڑ لیا گیا، اب وہ حوالات میں ہے۔ کہنے والوں کا اندازہ تھا کہ بڑی خوشی کی بات ہے، ایک مصیبت سے چھٹکارہ ملا مگر امام صاحب کی کچھ اور ہی کیفیت تھی۔ انہوں نے یہ بات سنی تو اُٹھ کھڑے ہوئے، کپڑے تبدیل کئے اور سیدھے حاکم شہر کے پاس جاپہنچے۔ عیسیٰ ابن موسیٰ خلیفہ منصور کا بھتیجا ان دنوں کوفہ کا گورنر تھا۔ اسے اطلاع ہوئی کہ امام ابوحنیفہ اس سے ملنے آئے ہیں تو فوراً درباریوں کو ان کے استقبال کیلئے بھیجا اور خود ان کی سواری تک پہنچا اور بڑی عزت سے انہیں اپنے ساتھ لے آیا۔ امام صاحب نے اس سے کہا ایک موچی میرا پڑوسی ہے رات تمہارے سپاہی اسے گرفتار کر کے لے گئے، میں خاص طور پر اس لئے آیا ہوں کہ اس کی سفارش کردوں اور اُسے قید سے چھڑاؤں۔ عیسیٰ نے فوراً قاصد کو طلب کیا، حکم دیا جاؤ موچی کو اپنے ساتھ لے آؤ ذرا دیر نہ ہو! موچی جب گھر پہنچا تو اس کا دل شراب وکباب سے پھر گیا۔ امام صاحب کی عنایت اور التقات نے اس کی زندگی کا رنگ ہی بدل دیا۔ کچھ زیادہ دن نہیں گزرے کہ لوگوں نے دیکھا وہ امام صاحب کے درس میں بیٹھنے لگا اور نماز کا پابند ہوگیا۔