مٹی پاؤ

کراچی کے پنج ستارہ ہوٹل میں پیش آنے والے واقعہ کی آرمی چیف کیساتھ ساتھ دیگر فورمز پر تحقیقات کے جاری عمل کے دوران وفاقی وزراء کا اس حوالے سے سندھ کی حکومت کو مطعون کرنا اور آئی جی کی جانب سے اغواء کا پرچہ نہ کٹوانے کا سوال معاملے کو سیاسی بنانے کیساتھ ساتھ وفاق اور سندھ کے درمیان فاصلہ بڑھانے کا باعث امر ہے جس سے احتراز ہی مصلحت کا تقاضا اور مرکزی حکومت کے مفاد میں ہے۔کم از کم اس بات سے تو کسی فریق کو بھی انکار نہیں کہ ایک واقعہ ہوا ہے اب مسئلہ واقعے کو اُچھالنا اور اس پر مخالفانہ وحمایت میں تبصرے اور اس واقعے کو ہر دو جانب سے سیاسی مقاصد وتنقید کیلئے استعمال کرنا احسن عمل نہیں، احسن اقدام یہ ہوگا کہ اس کے ذمہ داران اور اس میں شامل افراد کے عمل کا قانون کے دائرے میں جائزہ لیا جائے اور قانون کے تقاضوں کے مطابق ذمہ داری کا تعین کیا جائے اور واقعہ میں ملوث عناصر کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔سیاسی مقاصد کیلئے اداروں اور پولیس کے استعمال کی روایت کااب خاتمہ ہونا چاہئے اور سیاست میں دشنام تراشی،بلاوجہ کی الزام تراشی کی اب گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔کراچی کے واقعے پر جتنا جلد تحقیقات کو آگے برھایا جائے گا اورتبصروں سے گریز کیا جائے گا اتنا ہی بہتر ہوگا۔
انتظامیہ دبائو میں نہ آئے
پشاور کے مصروف ترین اشرف روڈ پر محکمہ خوراک کی کارروائی کے بعد تاجروںکی ہنگامہ آرائی اور احتجاج کا مقصد سوائے انتظامیہ کو دبائو میں لانے کے کچھ نہ تھا، بہرحال تاجروں کا الزام تھا کہ اشرف روڈ پر محکمہ خوراک کی جانب سے کارروائی کا جو طریقہ کار اپنایا گیا وہ درست نہ تھا۔ اس حوالے سے پوری تفصیلات کا علم نہیں البتہ تاجر اسسٹنٹ کمشنر کی گرانفروشیوں کیخلاف کارروائی پر سراپا احتجاج بن گئے۔ انتظامیہ کی کمزوری اس سے بخوبی واضح ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر نے تاجروں سے مذاکرات کئے اور ان کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرکے ان کا احتجاج ختم کروایا، انتظامیہ کے اس طرح دبائو میں آنے کے باعث ہی تاجروں کی ڈھٹائی میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے اور اشیائے صرف کی قیمتوں میں کمی تو درکنار قیمتوں میں استحکام نہیں آتا جس کے نتیجے میں روزانہ کی بنیاد پر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔آٹا کی مصنوعی قلت اور مہنگے داموں فروخت سرفہرست امر ہے۔انتظامی افسران کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کے مطابق اور تہذیب کے دائرے میں قوانین پر عملدرآمد کرائیں اور کسی قسم کا تکرار اور بد تمیزی کا مظاہرہ نہ کریں لیکن نفاذ قانون میں کوئی رعایت نہ برتی جائے۔ مہنگائی کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی پر مزاحمت کا انتظامیہ بھرپور جواب دے اور کوئی رعایت نہ رکھی جائے۔ قانون کا خوف اور ہر قیمت پر قانون کے نفاذ کا جب تک ماحول پیدا نہ ہوگا اور گرانفروشوں کو قرار واقعی سزانہ ملے گی تب تک انتظامیہ کی کوششیں بار آور ثابت نہیں ہوں گی۔
پی ایم ٹی’ریگی للمہ کی غلطیاں نہ دہرائی جائیں
13برس سے تعطل کا شکار پشاور ماڈل ٹائون منصوبے کیلئے پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے پشاور اور نوشہرہ کی ضلعی انتظامیہ کو سیکشن فور کے نفاذ کی ہدایت سے اس ضمن میں کچھ پیشرفت کے حوالے سے امید افزاء امر ہے۔ ڈائریکٹر جنرل پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی سید ظفر علی شاہ کے مطابق پی ایم ٹی خیبر پختونخوا کا سب سے بڑا حکومتی رہائشی پراجیکٹ ہے جو 2007 میں شروع ہوا تھا تاہم عدم توجہی کے باعث یہ مکمل نہ ہوسکا، اب اس کی تکمیل کا سہرا پی ڈے اے کو جائے گا۔ڈی جی پی ڈی اے کا عزم اپنی جگہ لیکن ریگی للمہ ٹائون شپ کے باعث پی ڈی اے پر عوام کا اعتماد جس طرح متزلزل ہوا ہے اس کی بحالی کا تقاضا ہے کہ پی ڈی اے پشاور ماڈل ٹائون شپ میں وہ غلطیاں نہ دہرائے جو ریگی للمہ ٹائون شپ کی تباہی وناکامی کا باعث بنیں۔
پبلک ٹرانسپورٹ میں حفاظتی تدابیر کی خلاف ورزیاں
ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر پبلک ٹرانسپورٹروں کو ایس او پیز پر عملدرآمد کے انتباہ کی حقیقت رسمی کارروائی سے زیادہ کچھ نہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ عدم احتیاط کے باعث صورتحال گمبھیر ہوتی جارہی ہے اور کورونا وائرس کے کیسز میں روزانہ کی بنیاد پراضافہ ہورہا ہے جو تشویشناک امرہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں حکومت کی جاری کردہ ایس او پیز پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا جس سے وائرس مزید پھیلنے کا خدشہ ہے۔ٹرانسپورٹروں کی ایس اور پیز پر عملدرآمد کی یقین دہانی پر اس وقت ہی یقین کیا جاسکے گا جب وہ اپنے عملے سے اس پرعملدرآمد کرواکر دکھائیں گے۔ دوسری جانب آج سے بی آرٹی کی بسیں شروع ہورہی ہیں، بندش سے قبل کی صورتحال یہ تھی کہ اٹھانوے فیصد مسافروں کی جانب سے احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کی جارہی تھیں، انتظامیہ نے ایک دونمائشی چھاپے مار کر لمبی تان کر سوگئی تھی جبکہ بی آرٹی کی سیکورٹی اور سٹاف کو مسافروں کے ماسک پہننے اور نہ پہننے سے غرض نہ تھی حالانکہ داخلی دروازوں پر بغیر ماسک کے مسافروں کو روکنا مشکل امر نہ تھا۔ اب جبکہ کافی عرصے بعد پشاور میں کورونا وائرس سے ایک متاثرہ شخص کی موت تک واقع ہوگئی ہے اور وائرس کے پھیلائو میںموسم کے بھی مددگار ہونے کا خدشہ ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہوش کے ناخن لئے جائیں اور ممکنہ حفاظتی اقدامات یقینی بنانے میں ہرادارے اور افراد کو اپنے اپنے دائرہ اختیار میں حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کے عمل کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔