جسٹس فائز عیسیٰ ریفرنس کا فیصلہ

سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر کئے گئے صدارتی ریفرنس کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اپنے تفصیلی فیصلے میں جو سوالات اٹھائے یا ریفرنس کی تیاری میں کردار ادا کرنے والی حکومتی شخصیات بارے یہ کہا کہ”اپنے صوابدیدی اختیارات آئین کے مطابق استعمال کرنے میں ناکام رہے جج کے خلاف تفتیش کی منظوری دینے کا آئینی وقانونی اختیار نہیں تھا۔قانون سے انحراف ہوا”ان امور پر ٹھنڈے دل سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل میں جانا حکومت کا حق ہے اور یہ فیصلہ بہر طور حکومت کو ہی کرنا ہے کہ وہ اپیل دائر کرتی ہے یانہیں۔البتہ یہ عرض کرنا مناسب نہیںہوگا کہ حکومت اس ریفرنس کی تیاری میں کردار ادا کرنے والے افراد کے حوالے سے ایسے اقدامات ضرور کرے جس سے اس کی متاثر ہوئی ساکھ کی بحالی میں مدد مل سکے۔فیصلے میں جج کی جاسوسی کروانے ،ٹیکس ریٹرن افشا کرنے جیسے معاملات پر جن کے خلاف کارروائی کا کہا گیا ان سے فوری طور پر استعفیٰ لئے جانا بہت ضروری ہے۔خوش آئند بات یہ ہے کہ اس فیصلے میں واضح طور پر یہ کہا گیا ہے کہ ریفرنس کا فیض آباد دھرنے کے فیصلے سے کوئی تعلق نہیں۔اس امر پر دو آراء ہر گز نہیں کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کے فیصلے نے بعض شخصیات اور محکموں کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیئے ہیں۔ بہر طور ہمیں امید کرنی چاہیئے کہ وفاقی حکومت قانونی عمل کو ان کا مسئلہ نہیں بنائے گی اور مستقبل میں ایسے ہر اقدام کی حوصلہ شکنی کرے گی جس سے یہ تاثر ابھرے کہ حکومت ملک میں ایک خاص طرز کی شخصی آمریت کے قیام کی خواہاں ہے۔
کورونا کے پھیلائو کی تشویشناک خبریں
این سی او سی کے مطابق ملک میں کورونا سے پچھلے24گھنٹوں کے دوران13افراد جاں بحق ہوئے جبکہ586کی حالت تشویشناک ہے۔کورونا سے متاثرہ ممالک میں پاکستان کا نمبر24واں ہے۔یہ صورتحال خاصی تشویشناک ہے اور اس امر کی متقاضی ہے کہ عوام الناس حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کریں عطائیوں کے دعوئوں اور توجیہات سے خود کو فاصلے پر رکھیں۔امر واقع یہ ہے کہ کسی بھی وبا سے نجات کے لئے جہاں مئوثر حکومتی اقدامات اہم ہیں وہیں خود عوام الناس کا سنجیدہ ہونا بھی ضروری ہے کورونا کی پہلی لہر کے دوران بد قسمتی سے عوام ہر قسم کے عطائیوں کے دعوئوں کو مقدس سمجھتے رہے جس سے خاصا جانی نقصان ہوا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر شخص اس حوالے سے اپنی ذمہ داری کا احساس کرے طے شدہ طبی اصولوں(ایس اوپیز)پر عمل کو یقینی بنائے اور متعلقہ حکام سے بھر پور تعاون کرے تاکہ صورتحال بگڑنے نہ پائے۔
افغان معاہدہ امن کے فریقین سے اپیل
افغان صوبہ نمروز میں گزشتہ روز طالبان کے حملے میں20افغان سیکورٹی اہلکار جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے افغان وزارت داخلہ کے مطابق6افراد کو یرغمال بنالیا گیا ہے ۔افغان معاہدہ امن کے بعد امید کی جارہی تھی کہ فریقین ایک دوسرے کے خلاف عسکری قوت کے استعمال سے گریز کریں گے تاکہ معاہدہ امن کے حقیقی ثمرات عوام تک پہنچ سکیں۔بد قسمتی سے پچھلے ایک ڈیڑھ ماہ کے دوران معاہدہ امن کی خلاف ورزی کے درجن بھر سے زیادہ واقعات رونما ہوچکے ان واقعات سے قیام امن کے منتظر افغان عوام اور ان کے خیر خواہوں کو تکلیف پہنچی ہے۔مناسب ہوگا کہ افغان معاہدہ امن کے فریق طاقت کے مظاہرے کی بجائے معاہدہ امن پر عمل کے لئے مئوثر اقدامات کریں اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ جنگوں،خانہ جنگیوں اور دوسرے واقعات سے تباہ حال افغانستان میں پائیدار امن کا دور دورہ ہو خطے کے مختلف ممالک میں بکھرے ہوئے افغان شہری باعزت طور پر مادر وطن واپس جاسکیں اور افغانستان تعمیر وترقی کے اس نئے دور کی بنیاد رکھ پائے جس سے ماضی کے گھائو بھر سکیں۔