جناب وزیراعظم!کچھ توجہ ادھر بھی

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ مہنگائی نے میری راتوں کی نیند اُڑادی ہے۔عام شہریوں کو پہنچی تکالیف پر بہت دکھی ہوں مہنگائی کے خاتمہ کے لئے اقدامات کر رہے ہیں ہفتے بھر میں قیمتیں کم ہونا شروع ہو جائیں گی۔ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ قوم ساتھ دے مسائل حل کردوں گا۔انہوں نے ایک بار پھر اپنے اس موقف کااعادہ کیا کہ”کچھ بھی ہو جائے کسی کو این آر او نہیں دوں گا”۔وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ بھارتی میڈیا نوازشریف کو ہیرو بنا رہا ہے۔نوازشریف کو واپس لانے کے لئے برطانیہ جانا پڑا تو جائوں گا۔انہوں نے ایک بار پھر اپوزیشن کو ملک دشمن قرار دیا۔حکومت سنبھالنے کے سوادو سال بعد بھی وزیراعظم کا یہ کہنا کہ این آر او نہیں دوں گا پھر ان کے کارکنوں کے لئے ولولہ تازہ ہوسکتا ہے مگر عام آدمی کے لئے یہ اس لئے حیران کن ہے کہ حکومت دو قدم بھی آگے نہیں بڑھ پائی۔بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ارباب اختیار دو سوا دوسال گزرنے کے باوجود یہ نہیں سمجھ پائے کہ دکھ اورطرح کے ہیں دوا اور طرح کی”۔اپنی جدوجہد کے بیانیہ اور پارٹی منشور کے مطابق اقدامات کا یقیناً وزیر اعظم اور ان کی جماعت کو حق حاصل ہے سیاسی جماعتیں پارٹی منشور پر عمل کے لئے ہی حصول اقتدار کی جدوجہد کرتی ہیں ۔البتہ اس امر کا تجزیہ بہت ضروری ہے کہ کیا پارٹی منشور اور بیانیہ کو دہراتے رہنا کافی ہے یا پھر اس پر عمل کی بھی ضرورت ہے؟۔جناب وزیراعظم مہنگائی سے پیدا شدہ صورتحال کی سنگینی کا جس انداز میں ذکر کیا اور مہنگائی کو ضروری طور پر کم کرنے کے لئے اقدام کا اعلان اس حوالے سے حکومت کی سنجیدگی اور نتائج کا انتظار کیا جانا چاہیئے۔جہاں تک اپوزیشن کو دشمن ممالک سے ملے ہوئے قرار دینے کا تعین ہے تو اس ضمن میں ان کی خدمت میں یہ عرض کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستانی سیاست کے گزرے ماہ وسال کی تاریخ پر ایک نگاہ ڈال لیجئے۔ماضی کے مختلف ادوار میں بعض حکومتوں نے خود کو حب الوطنی کے کوہ ہمالیہ پر جلوہ افروز قرار دیتے ہوئے اپنی حزب اختلاف کو دشمن قوتوں کا ایجنٹ قرار دیا تو نتائج کیا نکلے؟۔امر واقعہ یہ ہے کہ سیاسی اختلافات میں جس تحمل شائستگی اور بردباری کی ضرورت ہوتی ہے مروجہ سیاسی عمل کے سارے محترم کردار(رہنما)اس سے محروم ہیں۔پتہ نہیں پاکستانی سیاست میں جمہوری اقدار برداشت مکالمہ اور پارلیمان کا کردار اہم کیوں نہیں ہوسکا۔نرم نرم الفاظ میں یہی عرض کیا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم نے گزشتہ روز ایک ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹر ویو کے دوران اپنے مخالفین کے لئے بعض ایسے الفاظ استعمال کئے جوان کے منصب ہی نہیں شرف انسانی کی بھی توہین ہیں۔زیادہ بہتر ہوتا کہ وہ الفاظ کے چنائو میں احتیاط کرتے بد قسمتی سے انہوں نے ایسا نہیں کیا۔رہا سوال اپوزیشن کو این آر او نہ دینے کا تو ان کی خدمت میں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ این آر او مانگنے والوں کے بارے میں قوم کو تفصیل کے ساتھ آگاہ کریں کیونکہ ان کے بعض ساتھی پچھلے چنددن سے جس کاغذ کو لہرا کر یہ کہہ رہے ہیںکہ یہ اپوزیشن کی این آر او کے لئے درخواست ہے وہ کاغذ درحقیقت ایف اے ٹی ایف کے لئے ہوئی قانون سازی کے عمل میں حزب اختلاف کی تجاویز ہیں۔یہ عرض کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ سیاست اور حکومت بند گلی میں ممکن نہیں،سیاسی عمل عوام کے سامنے اور عوام کو ساتھ لے کر آگے بڑھنے کا نام ہے جبکہ حکومت اپنی کارکردگی سے پہچانی جاتی ہے۔کیا وہ اس امر سے آگاہ ہیں کہ پچھلے پندرہ دن کے دوران مہنگائی مزید بڑھی ہے۔کورونا وبا سے متاثرہ معیشت ومعمولات زندگی ہر دوابھی معمول پر نہیں آسکے؟۔اصولی طور پر ان کی حکومت کی اولین ترجیح مہنگائی کا خاتمہ عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات یوٹیلیٹی بلوں کو صارفین کی قوت برداشت تک محدود رکھنا تھا لیکن بہت افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ ان حوالوں سے کارکردگی صفر ہے۔پچھلے سوا دوسال سے عوام جن پچھلی حکومتوں کی لوٹ مار کے قصے سُن رہے ہیں ان کے دور میں چینی55روپے کلو تھی آج110روپے کلو فروخت ہورہی ہے روزمرہ ضرورت کی دوسری درجنوں اشیاء کی قیمتوں کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے 25سے30روپے کلو میں ملنے والا پیاز70روپے کلو ہے40روپے کلو والے ٹماٹر200روپے کلو ہیں 60روپے درجن فروخت ہونے والے انڈے180روپے درجن ہیں۔یہ چند مثالیں ہیں قیمتوں میں بے لگام اضافے کی اندریں حالات اگر ارباب اختیار سے یہ دریافت کر لیا جائے کہ گرانی کے اس طوفان کی ذمہ دار پچھلی حکومتیں کیسے ہوئیں تو اسے نامناسب سوال یا حکومت کے خلاف ملک دشمنوں کے پروپیگنڈے میں حصہ ڈالنا قرار نہیں دیا جانا چاہیئے۔ارباب اختیار اور ان کے نا قدین وحزب اختلاف سبھی کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ عدم برداشت اورنفرتوں کو بڑھاوا دے کر کوئی بھی ملک وقوم کی خدمت نہیں کررہا۔مسائل کی چکی میں پستے عوام کی حالت دن بدن خراب ہوتی جارہی ہے۔وزیراعظم تو خود کچھ عرصہ قبل یہ کہہ چکے کہ مختصر فیملی ہونے کے باوجود تنخواہ میں ان کا گزارہ نہیں ہوتا وہ ٹھنڈے دل سے سوچیں12سے15ہزار روپے اوسطاً ماہوار کمانے والا ایک عام شہری5سے7افراد پر مشتمل خاندان کی کفالت کیسے کر سکتا ہے؟۔امید واثق ہے کہ وہ اپنی حقیقی ذمہ داریوں پر توجہ دیں گے یہی ان کا فرض ہے کہ وہ عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لئے مئوثر اقدامات کریں۔