کل کے لئے آج کو نہ کھونا۔۔آنے والے کل کا خوف

جب تک انسان زندہ ہے خوف ایک سائے کی طرح اس کے ساتھ کسی نہ کسی شکل میں موجود رہتا ہے۔۔۔خوف نے ہماری جانوں ،ہماری معاشرت، ہماری قومی اور بین الاقوامی زندگی کو باندھ رکھا ہے۔۔۔خوف نے چاروں طرف ،اوپر اور نیچے،ہمارے چہرے پر اور ہمارے دل پر ڈیرہ ڈال رکھا ہے۔ ۔بے چینی کی فضا اور غیر یقینی حالات نے ہمیں اندیشے عطا کئے ہیں۔۔یہ خوف ہماری زندگی کو گھن کی طرح کھائے جا رہا ہے۔۔
‘ کل کیا ہوگا۔۔ یا ۔۔آئندہ کیا ہوگا” ؟۔۔۔یہ ایک ایسا جملہ ہے جس نے درحقیقت ہر ایک کی خوشیاں چھین لی ہیں ‘ہر ایک کی نیندیں حرام کررکھی ہیں اور ہر ایک کو ایک دائمی خوف میں ڈال دیا ہے۔
آنے والے کل کا خوف انسان کے ذہن پر ہر وقت حاوی کیوں رہتا ہے ۔۔۔؟ اور اس خوف نے انسان کی نیندیں کیوں حرام کررکھی ہیں۔۔ ؟
اس کی بنیای وجہ یہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت حال کی بجائے ماضی اور مستقبل میں جی رہی ہے ۔ ۔۔حال یعنی لمحہ موجود میں بہت ہی کم لوگ جی رہے ہیں ۔ ۔اپنی تمام تر توجہ حال پرمرکوز کرنے کی بجائے مستقبل اور ماضی میں بار بار جھانکنا حماقت کے سوا کچھ نہیں۔۔۔
یادرکھیں!! ” حال ”ہی سب کچھ ہے ۔۔مگر سوال تو یہ ہے کہ حال کیا ہے ۔۔۔؟
حال بھی ایک عجیب لمحہ ہے جیسے جیسے ہم اس کو حال کہتے جاتے ہیں ویسے ویسے وہ ماضی بنتا جاتا ہے ۔۔یہ چھوٹا سا لمحہ ہوتا ہے ،ہم اس چھوٹے سے لمحے کو ضائع کررہے ہوتے ہیں۔۔ ۔”زندگی کو بہترین اور خوشحال طریقے سے گزارنے کی صرف ایک ہی صورت ہے ۔۔وہ یہ کہ اس کی جڑیں حال میں ہو ں۔اس کی جڑیں اور کہیں ہو ہی نہیں سکتیں۔ماضی تو ایک یاد ہے جبکہ مستقبل ایک خیال۔۔دونوں ہی غیر حقیقی ہیں۔۔”اس سے بڑی حماقت کیا ہوگی کہ ہم خیال کوحقیقت اور حقیقت کو خیال بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔۔ماضی گیا ہے اور مستقبل ابھی آیا نہیں ہے ،پس جولوگ ماضی اور مستقبل میں زندہ رہتے ہیں تودرحقیقت زندہ نہیں ہوتے ۔۔ صرف سوچتے ہیں کہ وہ زندہ ہیں۔”
اس حوالے سے کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ” حال کی بجائے مستقبل اور ماضی میں جینے کا ایک ہی مطلب ہے کہ آپ اپنا ایک پاؤں ماضی میں رکھتے ہیں ایک مستقبل میں جبکہ پیشاب حال پہ کر رہے ہوتے ہیں۔”۔اسلئے بہتر یہ ہے کہ آپ مستقبل کے بارے میں کم سے کم سوچیں۔ ۔ آ پ کا فوکس مستقبل کے بجائے حال ہونا چاہئے کیونکہ مستقبل آج سے تخلیق ہوتا ہے یعنی ہمارا آج ہی آنے والے کل کا بیج ہے۔۔ ذرا سوچئے جب آپ کا حال ہی بدحال ہے تو آپ کسی مستقبل کے خوشحال ہونے کا تصور کیسے کرسکتے ہیں۔۔
”اسلئے اپنے حال کو ہر حال میں خوبصورت بنانے کی کوشش کیجئے کیونکہ اگر حال خوبصورت ہے تو مستقبل کا خوبصورت ہونا یقینی ہے۔۔ آپ کو مستقبل کے بارے میں فکر مند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔مستقبل کے بارے میں پیش گوئیوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کو لمحہ موجود سے خوشی کشیدکرنا چاہئے اور اگلا لمحہ اسی لمحہ موجود سے پیدا ہوگا۔۔اس کے باوجود بھی اگر آپ ہر وقت مستقبل کے ہی خواب بنتے رہتے ہیں تو یہ حماقت کے سوا کچھ بھی نہیںکہ ایسا مستقبل کبھی رونما نہیں ہوگا۔مستقبل ایک بالکل غیر متعلق چیز ہے۔۔ ۔بہتر یہ ہے کہ آپ آج کو حسین بنائیں کہ کل نے آج کی کوکھ سے جنم لینا ہے۔۔اگر آپ ہر وقت ماضی اور مستقبل کے حوالے سے سوچتے رہیں گے تو پھر آپ کی توانائیاں احساس سے محروم ہوجائیں گی۔کیونکہ مستقبل اور ماضی صرف اور صرف سوچوں ‘ تفکرات اور خوف کو ہی آگے لاتے ہیں ۔جس کے باعث احساسات منتشر ہوجاتے ہیں۔”
آنے والاکل کا خوف انسان کو اپنے گھیرے میں کیسے لے لیتا ہے۔۔۔۔؟
بات دراصل یہ ہے کہ خوف ہمیشہ ،مستقبل کے بارے میں ہوتا ہے ۔چاہے خوفزدہ ہونے کا واقعہ حال ہی میں کیوں نہ پیش آرہا ہو ۔نفسیاتی طور پر بندہ مستقبل کے بارے میں خود کو غیر،محفوظ تصور کرتے ہوئے خوفزدہ ہوجاتا ہے ۔۔وہ ،مستقبل جس کی ابھی کچھ خبر نہیں کہ ہوگا بھی کہ نہیں ۔۔۔یا ہوگا تو کیسا ہوگا۔۔ ۔۔۔
ایک دن ایک بادشاہ نے درباری بڑھئی کی کسی بات پر ناراض ہو کر کہا کہ میں تجھے کل پھانسی دے دونگا۔ بڑھئی بے چارہ خوف کے مارے رات بھرجاگتارہا ۔۔صبح سویرے سپاہیوں کے پیروں کی آواز سنی تو اس کے چہرے کا رنگ اڑگیا۔مایوسی اور پریشانی سے سپاہیوں کی طرف دیکھا ۔کانپتے ہاتھوں سے دروازہ کھول کر دونوں ہاتھوں کو آگے بڑھادیا کہ سپاہی اسے ہتھکڑی پہنادیں۔۔ سپاہیوں نے تعجب سے کہا :” بادشاہ مرگیا ہے ۔ہم اسلئے آئے ہیں کہ بادشاہ کا تابوت بنادو۔بڑھئی کے بدن میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور وہ خوشی خوشی سپاہیوں کے ساتھ روانہ ہوگیا۔۔۔
دوستو!! یہ آنے والے کل کا خوف ہی تو ہے جس نے ہم سب کو چاروں طرف سے گھیرا ہوا ہے۔آنے والے کل کے خوف کی یہ غیر مرئی رسی ۔۔۔۔کسی نے نہیں بلکہ ہم نے خوداپنے گلے میں ڈال رکھی ہے ۔۔۔ اس رسی نے ہمیں پوری طرح باندھے رکھا ہے۔۔’کہتے ہیںجو ڈرگیا وہ مرگیا ۔ ۔۔۔۔جو لوگ آنے والے کل کے حوالے سے ڈر ڈر کر جیتے ہیں۔۔ان کی کوئی زندگی نہیں اوران کا جینا کوئی جینا نہیں ہوتا۔اس سے بہتر ہے کہ وہ مر ہی جائے۔۔۔۔۔ زندگی صرف خوفزدہ رہنے کے لئے نہیں ملی ۔خوف کی بندشوں سے آزاد رہ کر ہی ایک خوشحال اور اطمینان کی زندگی گزاری جاسکتی ہے۔۔۔ مستقبل کے بارے میں اتنا زیادہ نہ سوچیں کہ یہ سوچ حال کی مسرتوں کوچھین لے گی ۔۔۔۔جو ہونا ہے ہوکر رہے گا۔۔۔کل کی فکر کے خنجر سے آج کی مسرت کا گلا مت گھونٹیئے۔۔۔۔۔