کہانی گھر گھر کی

میں نے بہت سوچا کہ دنیا کا سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال کونسا ہوسکتا ہے، برسوں کی محنت اور تحقیق کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں اگر کوئی سوال آفاقی اور عالمگیر حیثیت رکھتا ہے تو وہ سوال یہ ہوگا کہ ”آج کیا پکائیں! ہیں جی؟ جی بالکل یہ گھروں میں دنیا کا سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال ہے۔ اسے آپ ملین ڈالر کوئسچن تو نہیں کہہ سکتے مگر اس سوال میں بہت سی باتیںضرور پوشیدہ ہیں۔ اس سوال کے جواب بھی مختلف ہو سکتے ہیں، کبھی خوشگوار اور کبھی ناخوشگوار۔ ڈپینڈ کرتا ہے کہ آپ کا موڈ کیسا ہے؟ یہ سوال عموماً خاتونِ خانہ کی جانب سے ہوتا ہے، دراصل اس سوال کے پس منظر میں خاتون خانہ کا عجز شامل ہوتا ہے۔ روز کھانا بنا بنا کر بے چاری یکسانیت کا شکار ہوجاتی ہیں تو اپنے اس عجز میں شوہر نامدار کو شامل کرنے کیلئے کہے دیتی ہیں کہ ”آج کیا پکائیں، ہیں جی؟” اس سوال کا ایک اور نفسیاتی پہلو یہ ہے کہ خاتون خانہ اپنے امورات خانگی میں اپنے لائف پارٹنر کو شامل کرنا چاہتی ہیں یا انہیں آگاہ کرنا چاہتی ہیں کہ گھر کے کتنے اہم کام ان کے ذمے ہیں۔ سوال کی کوئی بھی نفسیاتی وجہ ہو مگر اس کا جواب بڑا دلچسپ ہوسکتا ہے جو خالصتاً مجازی خدا کے موڈ پر منحصر ہوتا ہے اور آپ تو بخوبی جانتے ہیں کہ مڈل کلاس کے مردوں کے موڈ کا براہ راست تعلق ان کی جیب سے ہوتا ہے گویاآپ کہہ سکتے ہیں کہ مڈل کلاس شوہروں کے دل ان کی جیب میں دھڑکتے ہیں۔ کبھی یہ دھڑکن تیزو تواناہوجاتی ہے اور کبھی اتنی کم کہ استھیٹو سکوپ سے بھی سنائی نہ دے ”آج کیا پکائیں۔ہیں جی؟” اگر یہ سوال مہینے کی پہلی تاریخوں میں کیا گیا ہے تو اس کا جواب یقیناخوشگوار ہوگا۔ یہ جواب چہرے کی مسکان کیساتھ ادا ہوگا جیسے ”جو تمہاری مرضی۔ بریانی، چکن، جو بنا سکو اور تم تو جو بھی بناتی ہو اچھا ہی بناتی ہو” مرد کے چہرے کی مسکان بیوی کے ماتھے کو کشادہ کر دیتی ہے اور جواب میں وہ یہ کہہ کر ”میں آپ کیلئے اچھی سی چائے بناکر لاتی ہوں اور پھر آپ کو پڑوسن خالہ والی بات تفصیل سے سناتی ہوں” جلدی جلدی باورچی خانے کی طرف بڑھ جاتی ہے۔ (سوچئے شوہر کی ایک خوشگوار مسکراہٹ کتنے خطرناک نتائج کو جنم دے سکتی ہے) مہینے کے گزرنے کیساتھ اس جواب میں مختلف نوعیت کی تبدیلیاں آتی جاتی ہیں۔ چہرے کی خوشگوار مسکراہٹیں رفتہ رفتہ سپاٹ ہوتے ہوتے ناگواری میں بدلتی جاتی ہیں اور مہینے کی آخری تاریخو ں میں ”آج کیا پکائیں۔۔ہیں جی؟” کے جواب میں اکثر شوہر حضرات پہلے خاموشی سے محترمہ کو گھورتے ہیں، پھر ایک کرب بھری آواز میں کہتے ہیں ”جو اچھا پکا سکو پکا لینا” ظاہر سی بات ہے یہ جواب تو جواب کم طعنہ یا پیغور زیادہ ہوا، اب نتائج سے تو ماشاء اللہ آپ باخبر ہی ہوںگے کہ ایسی صورتوں میں انڈیا پاکستان کے کشیدہ حالات کی طرح گھروںکے اندر متحارب فوجیں اپنی اپنی باؤنڈری پر آکھڑی ہوتی ہیں۔ ایسی صورتوں میں بچوں کی ایک اور شامت بھی آجاتی ہے، میاں بیوی کی اس سردجنگ میں اکثر بچوں کو پوسٹ آفس کا کام کرنا پڑتا ہے ”ببلی بیٹا میں صبح بلو کوٹ پہنوں گا” ببلی ابھی ابو کے اس ” ٹیکسٹ میسج” کو فارورڈ کرنے کیلئے لب کشائی کرنے والی ہوتی ہی ہے کہ استری کرتی امی پکار اُٹھتی ہیں ”ببلو بیٹا! خدا نے مجھے دو ہی ہاتھ دئیے ہیں منحوس کوٹ الماری میں پڑا ہے، خدا جانے نیلا کوٹ پہن کر کس سے ملنے جانا ہے” بے چارے ببلو اور ببلی تو یونہی صیغہ واحد حاضر بن کر رہ جاتے ہیں ورنہ تو امی ابو خود ہی ایک دوسرے کو صیغہ واحد غائب بنا چکے ہوتے ہیں ”آج کیا پکائیں۔ہیں جی؟” ایک ایسا سوال ہے کہ جو ٹائمنگ ٹھیک ہونے پر اچھے اثرات رکھتا ہے اور ٹائمنگ کے غلط ہونے پر مارشل لاء لگنے کی نوبت آنے کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ یہاں مہینے کی پہلی اور آخری تاریخیں بھی اثر کھو دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر شوہر نامدار ٹی وی اینکرز کے سجائے کسی تماشے میں منہمک ہے یا ٹی وی پر دل کو چھونے والا گیت ٹی وی پر چل رہا ہے اور شوہر نامدار گیت کی لفظیات کو تخیل کی سکرین پر دیکھ رہا ہے یا میاں صاحب چند روز میں نکلنے والے انعامی بانڈ کی قرعہ اندازی میں اپنے تخیل میں اپنا پہلا نمبر نکال چکے ہیں اور کسی شوروم میں اپنی نئے ماڈل کی کرولا کے رنگ کا انتخاب کر رہے ہیں، ایسے میں آواز اس کے کانوں میں پڑتی ہے کہ ”آج کیا پکائیں۔۔ہیں جی؟ لیجئے اینکرز کے سجائے علم وآگہی کے سٹیج سے شوہر دھڑام سے نیچے آگرے۔ نغمہ کے سریلے گیت کے سارے سر منتشر ہوگئے اور شوروم میں کھڑی چمچماتی کرولا کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔ شوہر نے جواب میں یہی کہنا کہ ”میرا بھیجا پکالو” بیگم اپنے پیار بھرے سوال کے طنز بھرے جواب پر کچھ شرمندہ، کچھ رنجیدہ، کچھ حیران، کچھ پریشان وہاں سے کھسک جاتی ہے یا پھر ڈٹ جاتی ہے۔ اگر ڈٹ جاتی ہے تو پھر وہی دے دِھنا دِن۔ میرا ایسی خواتین کو مشورہ ہے کہ وہ ٹی وی پر سوپ سیریل یا رونے دھونے والے ڈرامے دیکھنے کے بجائے کھانا پکانا سکھانے والے چینل دیکھیں جہاں زندگی کا مقصد ہی کھانا ہوتا ہے۔ یوں انہیں موقع بے موقع نہیں پوچھنا پڑے گا کہ ”آج کیا پکائیں۔۔ہیںجی؟”۔