فرانسیسی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے گستاخانہ خاکوں کی نمائش کی حوصلہ افزائی کر کے اسلام اور نبی آخر الزمان خاتم النبیین حضرت محمدمصطفی ۖکوہدف بنا کر مسلمانوں، بشمول اپنے شہریوں کو جان بوجھ کر مشتعل کرنے کی مذموم راہ اختیار کی۔ فرانسیسی صدرکے اس طرزعمل سے مسلمانوں میںسخت غم وغصے کی لہر دوڑگئی۔ ایک روزقبل ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے اپنے فرانسیسی ہم منصب پر مسلمانوں سے متعلق متنازع پالیسیوں پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایمانوئل میکرون کودماغی معائنہ کرانے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی فرانسیسی صدر کے اقدامات اور طرزعمل کے بارے میں بیان حقیقت پسندانہ ضرور ہے لیکن یہ پاکستان کے مسلمانوں کے جذبات کی صحیح ترجمانی نہیں کیونکہ پاکستان کے عوام فرانس کے سفیر کی وزارت خارجہ طلبی اور وزیراعظم کے بیان سے بڑھ کر سخت اقدامات کے خواہاں ہیں۔ اپنے پاک نبیۖ کے حوالے سے مسلمان کسی بھی قسم کی مصلحت کو برداشت نہیں کرتے، فرانس کے صدر کے اقدامات اور طرز عمل کا مسکت جواب ترکی کے صدر نے دیا ہے اور اب ترکی وفرانس کے درمیان سفارتی تعلقات ختم کرنے کی نوبت آگئی ہے۔ پاکستان کے عوام کسی بھی معاملے پر جذبات کااظہار قدرے تاخیر سے مگر سخت ردعمل دیتے ہیں۔ عرب ممالک میں فرانسیسی صدر کے تو ہین آمیز اور ناقبل برداشت طرز عمل کیخلاف جو ردعمل آیا ہے وہ موزوں اور جذبات سے عاری ہونے کیساتھ ساتھ نہایت مؤثر ہے۔ عرب ممالک میںفرانسیسی مصنوعات کے مکمل بائیکاٹ اور سٹوروں سے فرانسیسی مصنوعات کے اُٹھا لینے کے بعد فرانسیسی صدر نے گھٹنے ٹیکتے ہوئے مصنوعات کا بائیکاٹ نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مصنوعات کا بائیکاٹ ہی کافی نہیں بلکہ تمام اسلامی ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کیساتھ ساتھ مسلمانان عالم فرانسیسی بنکوں سے اپنا سرمایہ اور فرانس سے اپنا کاروباراور املاک منتقل کرنے کیلئے اقدامات کا آغاز کریں اور کسی بھی غیرمسلم ملک کی بجائے مسلم ممالک میں کاروبار اور املاک کی خریداری شروع کریں۔ مسلم دنیا کی دولت مسلم دنیا میں واپس آجائے تو مسلم دنیا کو کسی اورکی دست گیری کی حاجت ہی نہ ہوگی اور جو ممالک مسلمانوں کی دولت سے مسلمانوں ہی کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں ان کے بھی ہوش ٹھکانے آجائیں گے۔ فرانس میں جس واقعے کو بنیاد بنا کر فرانسیسی صدر نے انتہا پسندانہ اقدامات کئے اس کا کوئی جواز نہ تھا،گستاخی کے مرتکب اُستاد کو قتل کرنے والے مسلمان شخص کو پولیس نے گولی مار کر شہید کردیا جس کے بعد کسی انتہا پسندانہ اقدام کی ضرورت نہ تھی بلکہ معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی جاتی لیکن فرانسیسی صدر نے ایک عمل کے ردعمل اور جان کے بدلے جان لینے کے باوجود بھی دنیا کے پونے دو ارب مسلمانوں کے جذبات سے کھیلا اور پورے عالم اسلام کیلئے شدت پسندانہ ردعمل دیا جس کا جواب دینا اب پوری اُمت مسلمہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔پیغمبر اسلام کی عزت وناموس کیلئے کٹ مرنے کا جذبہ ہر مسلمان کے دین کی تکمیل ہے، تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے اس معاملے میں کبھی بھی کسی مصلحت سے کام نہیں لیا دنیا کو اس امر کا احساس ہونا چاہئے کہ وہ خواہ جتنی بار بھی مسلمانوں کی غیرت وحمیت کو للکاریں گے کمزور سے کمزور اور نام کے مسلمان تک کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔