فیٹف’جرم ضعیفی کی سزا

فنانشل ایکشن ٹاسک بھی ایک عجیب وپیچیدہ ادارہ ہے اور اصل میں یہ طاقتور ممالک کی طرف سے اُن ملکوں کیلئے ایک شکنجہ سا ہے جو غریب ہوتے ہیں لیکن ساتھ ہی اُس میں کڑپنچ ٹائپ لوگ بھی ہوتے ہیں اس لئے جن ملکوں کو مرن کا شوق ہوتا ہے اُس کیلئے یہ ادارہ ایک ظالم استعمار سے کم نہیں، پاکستان میں گزشتہ چار پانچ دہائیوں سے جو صورتحال چلتی رہی تھی اُس میں بھی اگرچہ بنیادی ہاتھ ان ہی سپر پاورز کا تھا لیکن یہ بھی تو ایک حقیقت ہے نا کہ اگر ہمارے ہاں یعنی افغانستان میں خلق اور پرچم جیسی سیاسی جماعتیں نہ بنتیں اور نورمحمد ترکئی اور حفیظ اللہ امین وغیرہ نہ ہوتے تو روس کیوں ٹینکوں کیساتھ دندناتا ہوا آتا اور پھر اس سنہری موقع کو کیش کرنے کیلئے امریکہ عالم اسلام کے بیشتر ممالک سے مجاہدین کیوں اکٹھے کر کے افغانستان لاتا۔ اگر عالم اسلام میں کچھ شعور ودانش والے لوگ ہوتے اور پھر یہ تماشا ملاحظہ کیجئے کہ روس تو نکل گیا لیکن ساتھ ہی امریکہ بھی افغانستان کو لہولہان اور انچرپنچر چھوڑ کر چلتا بنا تو پیچھے یار لوگوں نے افغانستان میں اقتدار پر قبضہ کرنے کیلئے جو اودھم مچایا اُس کا مختصر الفاظ نتیجہ یہی سامنے آنا تھا کہ پاکستان پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی مدد کیلئے مالی مدد وتعاون فراہم کرنے میں جن تنظیموں نے ہاتھ بٹھایا، کچھ سچ اور کچھ جھوٹ لیکن بھارت نے فیٹف کے رکن کی حیثیت سے پاکستان کیساتھ ازلی دشمنی اور بغض کا خوب خوب ڈھنڈورا پیٹا جس کے نتیجے میں فیٹف نے 2018ء میں پاکستان کو ”گرے لسٹ” میں ڈال کر مطالبات کی ایک فہرست تھما دی کہ جب تک ان نکات پر قانون سازی کر کے عمل نہیں کرایا تب تک آپ ”گرے لسٹ” میں رہیں گے۔ اگر دی گئی مدت میں آپ عمل درآمد میں ناکام رہے تو آپ کو بلیک لسٹ میں بھی ڈالا جاسکتا ہے۔ مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق موجودہ حکومت نے گزشتہ حکومتوں کی نااہلی اور کوتاہیوں کی سزا بھگتتے ہوئے بھاگم بھاگ اتنا کام کیا کہ فیٹف کے ستائیس نکات میں اکیس پر قانون سازی اور عمل درآمد کی راہیں ہموار کیں اور فیٹف نے اس کا اعتراف بھی کیا لیکن باقی ماندہ سات نکات میں سے چند ایک بہت اہم ہیں۔ مثلاً دہشت گردوں پر فنڈنگ کے راستے بند کرنے کیلئے جو قانون سازی ہوئی اس کے تحت کتنے لوگ گرفتار ہوئے اور اُن میں سے کتنوں کو سزائیں ہوئیں اور کتنی وکیسی سزائیں ہوئیں اور جو چھوٹ گئے تو بتائیں کہ کیوں چھوٹ گئے؟ وغیرہ وغیرہ۔ اس کے علاوہ بعض شخصیات اور تنظیموں کے حوالے سے ایکشن پر بھی فیٹف مطمئن نہیں جس میں بھارت کا بڑا ہاتھ اور کردار ہے۔ بھارت حافظ سعید اور لشکرطیبہ وطالبان وغیرہ جیسے موضوعات کو بڑھا چڑھا کر اُچھالتا رہتا ہے لیکن اللہ کا کرنا دیکھئے کہ سچ ہے کہ جو دوسروں کی راہوں میں کنوئیں کھودواتا ہے اور کانٹے بچھواتا ہے تو ایک دن خود اُس میں گرجاتا ہے۔ امریکہ اور یورپ کے تفتیشی اداروں سے خبر آئی ہے کہ بھارت افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کو پاکستان کیخلاف اکٹھا کرنے اور اُن کی مالی مدد کرنے میں بری طرح ملوث ہے۔ بھارت کے چالیس بنک بھی منی لانڈرنگ میں ملوث پائے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود نریندرمودی کے متعصب تنگ نظر اور ہندوتوا ونازی ازم کے پیروکار بھارت کے دل سے پاکستان کیخلاف شدید وغلیظ عناد وبغض کم نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے21 تا 23اکتوبر کے فیٹف اجلاس میں بھارت نے اس ادارے کے تقریباً ہر رکن سے ملاقات کر کے پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈلوانے کیلئے اُن کے تلوے چاٹے لیکن اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ ایک تو چین، ترکی، ملائیشیا وغیرہ جیسے دوست ہیں، دوسرا پاکستان کی وہ اسٹریٹجک اہمیت ہے جس کے سبب امریکہ، یورپ اور روس تک کے ملکوں کو وطن عزیز کی ضرورت پڑتی رہتی ہے لیکن بہت افسوس کی بات ہے کہ پاکستان کے نالائق سیاستدان اور حکمران اس اہمیت کو کماحقہ کیش کرانے میں پوری طرح کامیاب نہ ہوئے۔ اب اس وقت کہ پاکستان کو فروری 2021ء تک کی مہلت بفضل خدا مل گئی ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ موجودہ حکومت فیٹف کے سات نکات کیلئے قانون سازی اور ان پر عمل درآمد میں تیزی دکھائے اور ساتھ ہی اپنی اقتصادی ومعاشی حالت کو سنوارنے کیلئے جنگی بنیادوں پر کام کرے اس کیلئے سادہ اور آسان نسخہ یہ ہے کہ حضور اکرمۖ کی مبارک تعلیمات سے بھرپور استفادہ کی راہیں تلاش کر کے روبہ عمل لایا جائے۔ حضورۖ نے فرمایا ”جس نے کفایت شعاری اختیار کی کبھی تنگ دست نہ ہوگا”۔ فیٹف معاشی طور پر کمزور بدحال ملکوں کا ہاتھ مروڑنے کا آسان اور نرم نسخہ ہے ورنہ اصل میں یہ استعماری دور کا نیا شکنجہ ہی ہے یہ بالکل مرگ مفاجات کی طرح ہے اور جرم ضعیفی کی سزا ہمیشہ اچانک موت ہی رہی ہے۔ بھارت کو اپنے اعمال سیاہ کے سبب ہمیشہ منہ کی کھانی پڑے گی لیکن ہمیں اپنا گھر بھی پہلی فرصت میں سدھارنا ہوگا تاکہ سعودی عرب جیسے دوستوں سے گلہ وشکایت کی نوبت ہی نہ آئے۔ ویسے سعودی عرب اور امارات کے بارے میں آج کل پروپیگنڈہ بھی زیادہ ہے لہٰذا تحقیق کے بعد ہی کوئی بات کرنی چاہئے۔ سوشل میڈیا کی قباحتوں سے بچنا چاہئے اور اپنی عزت وغیرت کی حفاظت کیلئے خودی اور خودداری کے اسباق کو قرآن کریم اور سنت مبارکہ سے علامہ محمد اقبال کی تشریح کے مطابق سیکھنے کی ضرورت ہے۔