پہلے تولو پھر بولو

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کوئٹہ میں حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) میں ہونے والی باتوں کو خطرناک قرار دیتے ہوئے آزاد بلوچستان کے بیانیے کی شدید مذمت کی ہے۔ خیال رہے کہ کوئٹہ میں ہونے والے پی ڈی ایم کے جلسے میں شاہ اویس نورانی نے کہا تھا کہ ہم چاہتے ہیں بلوچستان ایک آزاد ریاست ہو۔کوئٹہ میں پی ڈی ایم کے جلسے میں ایک مقرر کی جانب سے بلوچستان کے آزاد ریاست ہونے کی اعلانیہ حمایت اور جلسہ عام میں اس کا اظہار ابتدائی طور پر زبان کی پھسلن ہونے کا امکان تھا مقرر کا جوش خطابت میں ایسا کچھ کہہ جانے اور اختتام تقریر تک اس کا احساس نہ ہونے کی بھی گنجائش تھی لیکن سٹیج پر پی ڈی ایم کے قائد ین میں سے کسی کا اس کا نوٹس نہ لینا وضاحت اور اس مؤقف سے برأت کا اعلان نہ ہونا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس مقرر کا بعد میں اس طرف مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید اور توجہ دلانے کے باوجود اس پر قائم رہنے کا کوئی جواز نہ تھا۔ ہم سمجھتے ہیںکہ سیاسی اختلافات کا ایک خاص دائرے میں اظہار کی گنجائش ہے غلطی ہونے پر فوری طور پر اس سے رجوع اور اس کی وضاحت کی اولاً نوبت نہیں آنی چاہئے اور اگر سہواً ایسی صورتحال پیدا ہوئی تو غلطی تسلیم کرنا معذرت خواہی اور غلطی کی تصحیح ہر ذمہ داررہنماء اور شخصیت کی ذمہ داری ہوتی ہے جس کا کوئٹہ کے جلسے میںمظاہرہ نہیں کیا گیا۔بلوچستان وفاق کی ایک اکائی ہے جہاں صوبے کی اپنی حکومت قائم ہے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی اس کی نمائندگی موجود ہے، بلوچستان کے عوام سے ظلم وزیادتی، ان کو پسماندہ رکھنے، مواصلات، صحت اور تعلیم کی سہولتیں فراہم کرنے میں کوتاہی کابھی اعتراف ہے۔ بلوچستان کے رہنما ء وقتاً فوقتاً اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے آئے ہیں اور بلوچستان کے عوام کے حقوق اور ان سے روا رکھے جانے والے سلوک پر آواز بھی اُٹھاتے رہے ہیں۔ بلوچستان کے عوام کے حقوق کی بات کرنے ان کے مسائل کے حل کیلئے کوشاں ہونا سب کی ذمہ داری ہے لیکن سیاسی مقاصد کیلئے اس قسم کے خیالات کے اظہار کی گنجائش نہیں جس سے ملک دشمنی کی بو آتی ہو۔ حکومت اور حزب اختلاف معمول کے مطابق تو ایک دوسرے پر لعن طعن کرتے رہتے ہیں ایسے میں ایک فریق کی جانب سے خود اپنی زبانی دوسرے کو موقع دینا سیاسی طور پر بھی کوئی بہتر حکمت عملی نہیں۔ بہتر ہوگا کہ اس بیان کو اُچھالنے کی بجائے اس موضوع کو بند کرنے پر توجہ دی جائے جس مقرر رہنما سے غلطی سرزدہوئی ہے اسے الفاظ واپس لینے اور معذرت کر کے قصہ ختم کر دینا چاہئے۔سیاسی جذبات میں اتنا آگے نہ بڑھا جائے کہ ملکی وحدت کا بھی خیال نہ رہے۔
حکومت کو لاک ڈائون پر مجبور نہ کیا جائے
کورونا وائرس کے پھیلنے کے خدشات کے پیش نظر پشاور میں سٹی، کینٹ اور ٹائون میںچھوٹے بڑے بازارحفاظتی نقطہ نگاہ سے عارضی طور پر سیل کرنے کی تجاویز کیساتھ پبلک ٹرانسپورٹ اور شادی ہالز سے متعلق رپورٹ بھی طلب کرلی گئی ہے جس کی روشنی میں ممکنہ طور پر اندرون شہر، بین الاضلاعی اوربین الصوبائی روٹس پر آمد ورفت محدود کرنے کیلئے دوبارہ پابندی عائد کئے جانے کا امکان ہے جبکہ ممکنہ طور پر شادی ہالز کی دوبارہ بندش کے امکانات بھی ہیں۔ ہمارے نمائندے کے مطابق صوبائی دارالحکومت پشاور میں کورونا ایس او پیز کی پامالی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور کورونا وائرس کے پھیلائو کی روک تھام کو سنجیدگی سے نہیں لیا جارہا ہے۔ پشاور میں ایس او پیز کا ایک مرتبہ پھر خیال نہیں کیا جانے لگا ہے اور شہریوں اور کاروباری حلقوں کی جانب سے ایس او پیز کی لاپرواہی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ وہ لوگ جو ایس او پیز پر تھوڑا بہت عمل درآمد کرتے بھی ہیں ان کا بھی مذاق اُڑایا جارہا ہے۔ہمارے نمائندوں کی رپورٹس میں جس قسم کی صورتحال کی نشاندہی کی گئی ہے اور انتظامیہ کی جانب سے کارروائی کے باوجود بھی کاروباری طبقہ بالخصوص اور عوام بالعموم تعاون کرنے کو تیار نہیں ایسے میں حکومت کے پاس مجبوراً انتہائی اقدام ہی کا حربہ بچتا ہے جو کوئی اچھی صورت نہیں بلکہ ملک وقوم سبھی کیلئے نقصان دہ امر ہے۔ انسانی جانوںسے زیادہ قیمتی کوئی بھی چیز نہیں، عوام حکومت کو اپنے طرز عمل سے اس مقام تک نہ لے جائے کہ حکومت کو مجبواً لاک ڈائون اور کاروبار کی بندش کا فیصلہ کرنا پڑے۔خود احتیاطی اور اپنی صحت کاآپ تحفظ بہتر طریقہ ہے۔ عوام کو خواہ مخواہ کی ضد ترک کر کے حفاظتی تدابیر پوری طرح اختیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کورونا سے ممکنہ بچائو کیا جاسکے۔
پیسکو چیف نوٹس لیں
بدھو ثمر باغ میں پلازہ کے سامنے سے بجلی کا پول ہٹا کر گھروں کے قریب لگانے میں پیسکو اہلکاروں نے جس پھرتی کا مظاہرہ کیا اس سے لگتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے، عام مشاہدہ ہے کہ سرکاری کاموں کو ”سرکاری کام” قرار دے کر دنوں کے کام مہینوں میں ہوتے ہیں مگر یہاں مکینوں کے تحفظات اور شکایات کا نوٹس لیکر مسئلہ سلجھانے کے بجائے راتوں رات کھدائی کر کے عجلت میں بجلی کا پول منتقل بھی کر دیا گیا۔ پیسکو اہلکار معمول کے مطابق اتنی پھرتی کا مظاہر کررہے ہوتے تو معترض ہونے کی گنجائش نہ تھی۔ پیسکو چیف کو بدھو ثمرباغ کے مکینوں کے تحفظات کا نوٹس لینا چاہئے اور اس سارے واقعے کی تحقیقات کرانی چاہئے کہ بجلی کا متنازعہ پول منتقل کرنا ضروری تھا یا پھر ملی بھگت سے ایسا کیا گیا۔ غیرجانبدارانہ تحقیقات کے بعد قصوروار ہونے کی صورت میں تاددیبی کارروائی سے گریز نہ کیا جائے اور مکینوں کی دادرسی کی جائے۔