ایف اے ٹی ایف کی بند گلی

فقیر راحموں اور میں پچھلے دس بارہ گھنٹوں سے سوچ رہے ہیں کہ وفاقی وزیرصنعت وپیداوار حماداظہرکے اس بیان پر کہ ”ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنا بڑی سفارتی کامیا بی ہے” پر ہنسنا ہے یا رونا ہے یا پھر سر میں خاک ڈال کر دھمال ڈالنا ہے، ”ایف اے ٹی ایف” کے حالیہ اجلاس میں کیا ہوا، بین الاقوامی میڈیا ایک کہانی سنا رہا ہے، پاکستانی وزارت خارجہ اس کہانی کی تردید کر رہی ہے۔ گزشتہ کالم میں وزارت خارجہ کا مؤقف تفصیل کیساتھ قارئین تک پہنچایا، لیکن لگتا یہ ہے کہ حکومت کے اپنے سرکردہ وزراء حماد اظہر کی طرح کی باتیں کرتے رہے تو پانڈورا باکس کھل جائے گا۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ ہمارے یہاں کس نے جناب وزیراعظم کی خدمت میں یہ عرض کرنے کی سعادت حاصل کی کہ حضور! یہ جو پچھلے دو سال سے آپ تواتر کیساتھ کرپشن کو منی لانڈرنگ سے جوڑنے کے جذباتی بیانات دے رہے ہیں یہ بیانات بذات خود ایک مسئلہ ہیں اور ایف اے ٹی ایف میں پاکستان مخالف عناصر اس بیان کو استعمال کرتے ہیں، تب ہمارے نمائندے بغلیں جھانک رہے ہوتے ہیں کیا جواب دیں۔ معاملہ صرف کرپشن کو منی لانڈرنگ سے جوڑنے کا نہیں آپ منی لانڈرنگ کی کچھ بھی تعبیر وتفسیر کرتے ہوں دنیا منی لانڈرنگ کو دہشت گردی کیلئے سرمایہ کاری سمجھتی قرار دیتی ہے۔ فیٹف کے حالیہ اجلاس میں ایک بار پھر رائے شماری نے ہمیں (پاکستان کو) گرے لسٹ میں رکھا۔ اس لسٹ میں مزید 5ماہ قیام کرنا پڑے گا۔ ایک طرف آپ کہہ رہے ہیں کہ بھارتی سازش ناکام بنا دی، دوسری طرف وہ نامناسب بیانات ہیں جنہیں بھارتی نمائندہ ہمارے خلاف استعمال کرتا ہے۔ بہت احتیاط بلکہ ٹھنڈے دل سے ہمیں اپنی اداؤں بیانات پر کچھ دوسرے معاملات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے 27نکات میں سے 21نکات پر ہم تسلی بخش اقدامات کر چکے، اصولی طور پر باقی ماندہ 6نکات پر عمل 23اکتوبر کے اجلاس سے قبل کر لیا جانا چاہئے تھا۔ یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ کرپشن کو منی لانڈرنگ (دہشت گردی کیلئے مالیاتی امور کی فراہمی) سے جوڑنے والے بیانات نے ہمیں مجرم بنا کر اقوام کی برادری کے سامنے لاکھڑا کیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف متقاضی ہے اقوام متحدہ نے جن 1267 تنظیموں پر پابندی لگائی اور خود پاکستانی وزارت داخلہ نے جن تنظیموں کو کالعدم قرار دیا ہر دو کیخلاف عالمی معیار کے اقدامات کئے جائیں۔ ان تنظیموں کے سرکردہ افراد کیخلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔ نام بدل کر کام کرنے کی قانونی طور پر حوصلہ شکنی کی جائے۔ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کیلئے مالی معاونت یعنی ٹیررازم فناسنگ کی روک تھام کیلئے مناسب اقدامات کئے جائیں۔ عالمی اداروں اور متعلقہ ممالک کیساتھ ملکر مشترکہ تحقیقات کی جائیں۔ ملکی وغیرملکی دہشت گرد وکالعدم تنظیموں کیساتھ ملکر کام کرنے والوں کیخلاف عالمی معیار کے اقدامات کئے جائیں۔ کالعدم تنظیموں سے منسلک افراد کو ہر قسم کی سہولت سے محروم کیا جائے، گرفتاریوں کیساتھ ان کی منقولہ وغیرمنقولہ جائیدادیں ضبط کی جائیں، مالیاتی اداروں سے ان کیلئے قرضوں کا حصول اور بنک اکاؤنٹس پر پابندی عائد کی جائے، پہلے سے موجود اکاؤنٹس کی سبکدوشی کی جائے، ان نکات پر اگلے پانچ ماہ میں عمل لازمی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ایف اے ٹی ایف اور پاکستان کے درمیان جس اہم نکتہ پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا وہ انسانیت وامن دشمن تنظیموں (مقامی وعالمی دہشت گرد تنظیمیں) سے منسلک مقامی افراد کی لسٹ ہے۔ دعویٰ یہ کیا جا رہا ہے کہ اس لسٹ میں درج بعض ناموں کو ریلیف دیا گیا۔ کس نے کیوں ریلیف دیا؟ اس سوال کا جواب حکومت کو دے دینا ہے۔ اسی طرح ایف اے ٹی ایف کے حالیہ اجلاس میں پاکستان پر واضح کیا گیا کہ باقی ماندہ 6نکات پر اگلے پانچ ماہ میں عمل کرنے کیساتھ دہشت گرد تنظیموں سے منسلک افراد اور معاونین کو دیئے گئے ریلیف (یہ فیٹف کامؤقف ہے) پر بھی تسلی بخش جواب دینا ہوگا۔ ہم سفارتی طور پر کہاں کھڑے ہیں اس کا اندازہ رائے شماری میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی عدم شرکت ہے۔ یہ دونوں برادر اسلامی ملک اگر ہمارے حق میں ووٹ دے دیتے تو نتیجہ تبدیل ہوسکتا ہے۔ کیا دونوں ملکوں نے امریکہ اور بھارت کے دباؤ سے باہر نکلنے کیلئے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا یا پس پردہ کچھ اور معاملات ہیں۔ بھارت سے خیر کی تو قع تھی ہے نا ہوگی لیکن دوست ممالک نے مدد کیوں نا کی؟ اس سوال پر غور وفکر اور اس حوالے سے عوام کو اعتماد میں لینے کیساتھ ساتھ ہمیں باردیگر اپنے ذمہ داران (وزیراعظم اور دوسری حکومتی شخصیات) کی خدمت میں یہ عرض کرنا ہوگا کہ کرپشن کے مبینہ الزامات ومقدمات کو منی لانڈرنگ سے جوڑ کر پیش کرنے میں کچھ احتیاط کیجئے۔ ہم سب (حکومت اپوزیشن اور عوام) کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ایف اے ٹی ایف کی بند گلی سے نکلنے کیلئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت تو ہے ہی مگر اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ بیانات دیتے وقت الفاظ کے چناؤ میں احتیاط کریں، دنیا بال کی کھال اُتارتی ہے اس لئے غیرذمہ دارانہ بیانات سے اجتناب کیجئے۔