اے این پی کا پشاور دھماکے میں شیخ رشید کو شامل تفتیش کرنے کا مطالبہ

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی ترجمان و رکن صوبائی اسمبلی ثمر ہارون بلور نے کہا ہے کہ پشاور کے مدرسے میں دھماکہ قابل مذمت اور اس میں معصوم جانوں کی شہادت افسوسناک ہے، عوامی نیشنل پارٹی حادثے میں شہید ہونے والوں کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لئے دعاگو ہے، اے این پی مطالبہ کرتی ہے کہ وفاقی وزیر شیخ رشید سے تحقیقات کی جائیں کہ نیکٹا کی جانب سے تھرٹ الرٹ آنے اور پشاور میں دھماکہ ہونے سے قبل وہ پشاور اور دیگر علاقوں میں کس بنیاد پر دہشتگردی کے واقعات کی پیشنگوئی کر رہے تھے اور اگر اس حوالے سے حکومتی اراکین کو معلومات تھی تو اس کا تدارک کرنے کیلئے اقدامات کیوں نہیں کئے گئے۔ دہشتگردی اور اس قسم کے دیگر واقعات چاہے دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو عوامی نیشنل پارٹی نے ہمیشہ اس کی مذمت کی ہے اور اس بارے اے این پی کا موقف ہمیشہ یکساں رہا ہے۔

باچا خان مرکز پشاور میں انفارمیشن کمیٹی کے اراکین تیمور باز خان، صلاح الدین مومند، حامد طوفان، رحمت علی خان، ڈاکٹر زاہد، صوبائی جائنٹ سیکرٹری ڈاکٹر شاہین ضمیر اور صوبائی سیکرٹری برائے اقلیتی امور آصف بھٹی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی کی صوبائی ترجمان ثمر ہارون بلور نے کہا کہ اے این پی کی قیادت نے پچھلے کئی عرصے سے ملک کے مختلف حصوں میں طالبان اور دہشت گرد گروہوں کی دوبارہ منظم ہونے کے حوالے سے خبردار کیا لیکن کسی نے ان باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا جس کا نتیجہ پشاور مدرسہ دھماکے کی صورت میں سامنے آیا۔ آرمی پبلک سکول کے دلخراش واقعے کے بعددہشتگردی کے تدارک کے لئے پاکستان کی تمام سیاسی، مذہبی اور عسکری قیادت نے مل کر ایک متفقہ نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا تھا لیکن اس پر اس طرح عملدرآمد نہیں ہو سکا جس طرح ہونا چاہیئے تھا، عوامی نیشنل پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر بلاتفریق عملدرآمد یقینی بنایا جائے ،صوبائی حکومت سانحہ دیر کالونی کے حوالے سے صوبے کے تمام سٹیک ہولڈرز کا ایک مشترکہ اجلاس بلائے اور مستقبل میں اس جیسے واقعات سے بچنے کے لئے لائحہ عمل تشکیل دے۔ انہوں نے کہا کہ دھماکہ میں متاثرہ افراد کے لئے حکومتی پیکج ناکافی ہے، اس میں اضافہ کیا جائے اور زخمیوں کو صحت کی بہترین سہولیات مہیا کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں ۔

اے این پی کی صوبائی ترجمان نے کہا کہ کسی بھی مذہب کے لوگوں کی دل آزاری کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں، باچا خان کے پیروکار ہونے کے ناطے اے این پی تمام مذاہب کا احترام کرتی ہے ،فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے جائیں لیکن حکومت کی غیر سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اتنے سنجیدہ حالات میں پچھلے کئی مہینوں سے فرانس میں پاکستان کا سفیر تعینات نہیں اور وزیر خارجہ کے علم میں یہ بات ہی نہیں۔ ثمر ہارون بلور نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک کروڑ نوکریوں کا دعوی کرنے والی حکومت نے یوٹرن لے کر لوگوں کو بیروزگار کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے، صوبائی حکومت نے جامعہ پشاور سے چھ سو کنٹریکٹ ملازمین نکال دیئے ہیں جن میں ایسے ملازمین بھی شامل تھے جو پچھلے 13 اور 14 سال سے وہاں پر اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے، اسی طرح ریڈیو پاکستان سے بغیر کسی پیشگی نوٹس کے 749 ملازمین کو برخاست کیا گیا اور جب انہوں نے اپنے حق کے لئے احتجاج کیا تو تبدیلی سرکار نے ان کو سلاخوں کے پیچھے بند کر دیا، اے این پی اس کی بھرپور مذمت اور ان ملازمین کی دوبارہ بحالی کا مطالبہ کرتی ہے، موجودہ حکومت اگر لوگوں کو ریلیف نہیں دے سکتی تو ان کو اذیت بھی نہ دیں، انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع کے لوگوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں، ان اضلاع کے طالبعلموں سے وعدہ کیا گیا تھا کہ انضمام کے بعد ملک کے دیگر صوبوں کے تعلیمی اداروں میں ان کا مخصوص کوٹہ بحال رکھا جائے گا، لیکن بدقسمتی سے پنجاب میں ان کا وہ مخصوص کوٹہ ختم کردیا ہے جس کی بنا پر ان اضلاع کے طالبعلم پنجاب کی سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں، اے این پی مطالبہ کرتی ہے کہ ان کا مخصوص کوٹہ بحال کر کے ان کے لئے سکالرشپس کا اعلان کیا جائے، تاکہ وہ اپنے تعلیمی حق سے محروم نہ رہیں۔

انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ صوبائی حکومت ضم اضلاع میں نئی یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں لائے تاکہ وہاں کے نوجوانوں کو تعلیم کے حصول کے لئے باہر جانے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ اے این پی کی صوبائی ترجمان نے کہا کہ25 اکتوبر کو تہکال میں شمولیتی جلسے سے واپسی پر گورا قبرستان چیک پوسٹ پراے این پی کارکنان کو روکا گیااوران کی گاڑیوں سے زبردستی جھنڈے اتروائے گئے، یہ آئین اور قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے،ایسا عمل کسی بھی طور پر قابل قبول نہیں، اے این پی کے ورکرز عدم تشدد کے پیروکار ہیں اسلئے خاموش رہے، متعلقہ ادارے اس حوالے سے تحقیقات کریں کہ کس قانون کے تحت زبردستی گاڑیوں سے جھنڈے اتروائے گئے۔ انفارمیشن کمیٹی کے رکن تیمور باز خان نے کہا کہ صوبہ کی بیشتر یونیورسٹیاں قائم مقام وائس چانسلرز کے زریعے چلائی جارہی ہیں جس کی وجہ سے بیشتر یونیورسٹیوں میں سنگین انتظامی اور مالی بحرانوں کا مسئلہ درپیش ہے، حال ہی میں صوبہ کی تاریخی اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں لاکھوں روپے کے عوض جعلی ڈگریاں فروخت کرنے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جو کہ باعث تشویش اور ہمارے تعلیمی نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے، جعلی ڈگریوں کے اجرا میں ملوث کلرک نے الزام قبول بھی کیا ہے لیکن تاحال کوئی تحقیقاتی رپورٹ سامنے نہیں آئیں، اب یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ شاید کچھ اعلی حکومتی عہدیداروں کے اس کیس میں ملوث ہونے کی وجہ سے اس معاملے کو دبانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ ایک انکشاف یہ بھی ہوا ہے اسی یونیورسٹی کے قائمقام وی سی نے اپنے رشتہ داروں کو غیر قانونی طور پر مختلف شعبوں میں اعلی عہدوں پر تعینات کیا ہے اور بعض تعیناتیاں ایسی بھی ہیں جن کے لئے بعد میں مختلف غیر ضروری پوسٹس بنائی گئیں۔ اسی وی سی کے خلاف وزیراعظم کے سیٹیزن پورٹل پر طالبات کی جانب سے جنسی ہراسانی کی شکایات بھی درج ہوئی تھی لیکن تاحال اس معاملے میں بھی کسی قسم کی کوئی انکوائری سامنے نہیں آئی۔

انہوں نے کہا کہ صوبے کا گورنر یونیورسٹیوں کا چانسلر ہوتا ہے لیکن جامعات کے اس تمام صورتحال میں موجودہ گورنر کا کوئی کردار سامنے نہیں آرہا جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہ خود ان میں ملوث اور گورنر کے عہدے کے لئے نااہل ہیں۔ اے این پی مطالبہ کرتی ہے کہ ان تمام مسائل کی تحقیقات کر کے حقائق سامنے لائے جائیں اور صوبہ کے تمام تعلیمی اداروں کو مالی اور انتظامی بحران سے نکالنے کے لئے بروقت اقدامات کئے جائیں تاکہ ہمارے نوجوانوں اور ان تعلیمی اداروں کا مستقبل تاریک ہونے سے بچایا جا سکے۔