مشرقیات

ابو معلق نامی ایک صحابی تجارت کی غرض سے اکثر سفر پر رہتے تھے۔ ایک بار مال تجارت لے جارہے تھے کہ راستے میں ایک ڈاکو نے ان کو گھیر لیا اور کہا: تمہارا مال اور جان دونوں لینا چاہتا ہوں’ فرمانے لگے’ میری جان لیکر کیا کروگے’ مال حاضر ہے’ مجھے چھوڑ دو لیکن وہ نہیں مانا اور کہا: مجھے تمہیں قتل بھی کرنا ہے، انہوں نے فرمایا: تو مجھے چار رکعت نماز پڑھنے کی مہلت دیدو۔ ڈاکو نے مہلت دیدی’ صحابی نے چار رکعت نماز ادا کی اور آخری سجدے میں یہ دعا کی ”اے محبت کرنیوالے’ اے محبت کرنیوالے’ اے بزرگ عرش والے’ اپنے ارادے کے مطابق عمل کرنیوالے، میں تجھ سے تیری اس عزت کا سوال کرتا ہوں جس کا ارادہ نہیں کیا جا سکتا اور اس ملک وبادشاہت کا وسیلہ دیکر سوال کرتا ہوں کہ جس کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا اور تیرے اس نور کے ذریعے سے سوال کرتا ہوں جس نے تیرے عرش کے ارکان کو روشن کیا ہے کہ تو مجھ کو اس ڈاکو کی برائی سے بچالے’ اے مدد کرنیوالے میری مدد فرما! اے مدد کرنیوالے میری مدد فرما۔” اتنے میں ہاتھ میں نیزہ لئے ایک شہسوار نمودار ہوا’ اس نے ڈاکو کو قتل کرکے سربسجود صحابی سے کہا کہ سر اُٹھا’ صحابی نے سر اُٹھا کر دیکھا کہ ڈاکو مرچکا ہے تو پوچھا: آپ کون؟ وہ کہنے لگا میں چوتھے آسمان کا فرشتہ ہوں’ تم نے پہلی مرتبہ دعا کی تو میں نے آسمان کے دروازوں کے کھلنے کی آواز سنی’ دوسری بار دعا کی تو میں نے اہل سما میں ہلچل کی آواز سنی’ تیسری مرتبہ دعا کی تو مجھ سے کہا گیا کہ یہ ایک مصیبت زدہ کی فریاد ہے’ میں نے اللہ تعالیٰ سے ظالم کے قتل کرنے کی درخواست کی جو منظور ہوئی۔ (الجواب الکافی ص:12)
حضرت سیدنا وہب بن منبہ سے مروی ہے کہ کسی جابر بادشاہ نے ایک محل بنوایا اور اسے خوب پختہ کیا’ ایک مسکین بڑھیا نے پناہ لینے کیلئے محل کے قریب ایک جھونپڑی بنالی’ ایک دن اس ظالم نے محل کے اردگرد چکر لگایا تو بڑھیا کی جھونپڑی کو دیکھ کر اس جھونپڑی کے گرانے کا حکم دیا اور جھونپڑی گرا دی گئی۔ جب بڑھیا آئی تو اسے گرا ہوا پاکر پوچھا: ”اسے کس نے گرایا ہے؟” اسے بتایا گیا کہ ”بادشاہ نے”۔ بڑھیا نے اپنا سر آسمان کی طرف اُٹھایا اور عرض کی: ”اے پروردگار میں تو موجود نہ تھی’ مگر تو تو موجود تھا؟” راوی بتاتے ہیں ”پس اللہ عزوجل نے حضرت جبرائیل کو حکم دیا کہ محل کو اس میں رہنے والوں پر اُلٹ دیں” چنانچہ حضرت جبرائیل نے اسے اُلٹ دیا۔ بعض تاریخی کتب میں لکھا ہے کہ محل کی باقی ماندہ بعض دیواروں پر یہ اشعار لکھے ہوئے پائے گئے تھے۔ ترجمہ: کیا تم بددعاؤں کا مذاق اُڑاتے ہو اور اسے حقیر جانتے ہو’ تمہیں پتہ نہیں ہے کہ ان بددعاؤں سے کتنے بڑے بڑے کام ہو جاتے ہیں۔ رات کے تیسرے پہر کی بددعا کبھی خطا نہیں ہوتی۔ اب تمہارا ملک تمہارے پاس نہیں رہا (بلکہ تو خود بھی نہیں رہا)۔
(بحوالہ دعوة المظلوم)