انڈوں کا انتقام اور ٹماٹروں سے مسابقت

انڈوں کیساتھ وہ جو کسی زمانے میں حضرت انسان نے نامناسب رویہ اختیار کیا تھا اس کا بدلہ چکانے کیلئے انڈوں نے اب پر نکال کر اس مصرعہ کو درست ثابت کر دیا ہے کہ ”پر نہیں تو پر پرواز مگر رکھتے ہیں” حضرت علامہ اقبال ہی نے یہ بھی کہا تھا ناکہ
اُٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے
ان کے اس شعر کی معنویت کو سمجھے بغیر لوگ ”گندے” انڈوں سے دو کام لے لیا کرتے تھے، ایک تو چونکہ وہ دور تھیٹر کا تھا اور سٹیج ڈرامے بہت شوق سے دیکھے جاتے تھے سو جس ایکٹر کی حوصلہ افزائی مقصود ہوا کرتی تھی اس پر تو سکوں (روپیہ، اٹھنی، چونی وغیرہ) کی بارش کی جاتی اور جس ایکٹر کی ایکٹنگ پسند نہ آتی اس پر گندے انڈے اور گندے ٹماٹروں سے ”حملہ آور” ہوا جاتا۔ دوسرا یہ ہے کہ ایسا ہی حشر ان سیاسی (شعبدہ باز) رہنماؤں کا کیا جاتا جن سے عوام مایوس ہوجاتے، اب ان دونوں یعنی انڈوں اور ٹماٹروں نے (متحد ہوکر) اپنے ساتھ ماضی میں روا رکھے جانے والے حشر کا بدلہ چکانا شروع کر دیا ہے اور اس وقت دونوں نے قیمت کی دوڑ میں مسابقت شروع کر رکھی ہے اور ان میں سے کونسی چیز کلو اور کونسی درجن کے حساب سے مل رہی ہے اس کا اندازہ ایک نوجوان سیاسی رہنماء کے حالیہ بیان سے لگایا جاسکتا ہے جس پر انہیں ”بے خبری” کے طعنے دئیے جارہے ہیں، حالانکہ انڈوں اور ٹماٹروں نے جو ”ات” مچا رکھی ہے اس سے پریشان ہو کر بندہ ایسے ہی بیانئے ”ایجاد” کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے چونکہ حضرت علامہ نے نئی تہذیب کے انڈوں کا ذکر کیا تھا اس لئے ”دیسی انڈوں” کے بعد یہ جو شیور انڈے اب ہر طرف بہار دکھا رہے ہیں انہیں ہی اگر ”نئی تہذیب” کے انڈے قرار دیا جائے تو شاید بات حلق سے اُتر جائے، مگر وہ جو ایک بھارتی فلم کا ایک (بے ہودہ) گانا ہے اس کی اہمیت بھی موجودہ صورتحال میں دوچند ہوجاتی ہے یعنی جسے اس گانے میں ”انڈے کا فنڈہ” قرار دیا گیا ہے اور جس کی دھن پر فلم کے منظر میں درجنوں افراد رقض کرتے دکھائی دے رہے ہوتے ہیں۔ تو اس انڈے کا فنڈہ یہ ہے کہ اب وہ دور گزر گیا جب یار لوگ گندے انڈے اور گندے ٹماٹر اکٹھے کرکے تھیٹر دیکھنے یا پھر لوٹا نما سیاستدانوں کے جلسوں کو خراب کرنے کے بارے میں سوچا کرتے تھے، اب تو ان دونوں چیزوں کے نرخ دیکھ کر ویسے ہی ہوش ٹھکانے آجاتے ہیں اور انہیں ”گندہ” ہونے سے پہلے ہی لوگ سینت سینت کر رکھنے اور بوقت ضرورت کام آوے کے کلئے پر عمل کرتے ہوئے دیکھے جاتے ہیں کہ اس مہنگائی کی یلغار میں بھلا کس کو اتنی جرأت ہے کہ سونے کے بھاؤ بکنے والی یہ چیزیں سیاسی رہنماؤں کی ”پذیرائی” کیلئے استعمال کریں بلکہ اب تو سیاسی اختلاف میں بھی سعود عثمانی کے اس شعر پر گزارہ کرنا پڑتا ہے کہ
مرے سکوت کو تائید مت سمجھ اپنی
یہ اختلاف ہے اور خامشی سے ہوتا ہے
یا پھر زیادہ سے زیادہ اب پلاسٹک کے لوٹے متعلقہ ”ناپسندیدہ” سیاسی قلابازوں کے سروں پر رکھ کر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں اور جہاں تک انڈوں کا تعلق ہے تو جیسا کہ کالم کے ابتدائی سطور میں گزارش کی ہے ان انڈوں نے یہ جو بلند پروازی شروع کر رکھی ہے تو لگتا ہے کہ ان کا مطالبہ اب اس بات کا فیصلہ کرانا ہے کہ انہیں یہ تو بتا دیا جائے کہ پہلے مرغی پیدا ہوئی تھی یا انڈہ؟ اور جب تک یہ سوال حل نہیں ہوگا، انڈہ اپنی ”شاہین صفت” پرواز ختم کرنے پر تیار نہیں ہوگا، یعنی شاہیں کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا، اس لئے ابھی تو اس کو اپنی بلند رفتاری کیلئے ”سردی کے آسمان” بھی موجود ہیں، یعنی ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا والے شعر کی مانند اگر سردیوں کے آغاز ہی میں یہ صورتحال ہے کہ انڈے فی درجن (کلو؟) 180اور 190روپے جبکہ ٹماٹر فی کلو (درجن؟) دوسو روپے تک پہنچ گئے ہیں، تو سردی میں انڈوں کی مانگ بڑھ جانے سے صورتحال کیا ہوگی؟ اس پر سوچنا ہی فضول ہے اس حوالے سے ان دنوں جو لطیفے وائرل ہو رہے ہیں ان میں سے اگرچہ کچھ تو خوف فساد خلق کے زمرے میں آنے کی وجہ سے ضبط تحریر میں نہیں لائے جاسکتے البتہ ایک بے ضرر سا لطیفہ یہ بھی ہے کہ تحریک انصاف کے زمانے میں انصاف کا یہ عالم ہے کہ اب انڈہ خریدنے والا بھی تقریباً اسی تکلیف سے گزرتا ہے جس سے مرغی انڈہ دیتے وقت گزرتی ہے، یعنی دونوں یکساں مصیبت کا شکار ہیں اور بقول ایک فکاہیہ کالم نگار خالد مسعود خان، اب حکومت اس سے زیادہ بڑھ کر اور کیا انصاف کرے؟ حکومت نے تو انصاف کی اخیر کر دی ہے”
مسئلہ مگر یہ ہے کہ ہمارے ہاں صارفین کی نہ تو اپنی انجمنیں ہیں نہ ہم لوگ من حیث القوم کسی بھی مشکل کے حل کیلئے ایک آواز ہونے پر تیار ہوتے ہیںسو ہمارے سماجی روئیے کرچی کرچی ہو کر ہمیں سوشل ڈسٹنسنگ کا شکار بنا رہے ہیں، یعنی کورونا کے معاملے میں تو ہم اس سماجی فاصلے کو برقرار رکھنے پرتیار نہیں ہیں مگر مہنگائی کے معاملے پر اس سماجی فاصلے پر خوب خوب عمل کرتے رہتے ہیں، ورنہ وہ جو کسی زمانے میں ایک مغربی ملک میں انڈوں ہی کی مہنگائی پر ایک کاؤنٹی کی خواتین نے یک زبان ہو کر انڈوں کے استعمال کا بائیکاٹ کرکے گروسری شاپس والوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا، اسی طرح اگر ہمارے ہاں بھی ایسا ہی رویہ اختیار کیا جائے تو انڈوں کے اس انتقام سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے، لیکن کون ایسا کرے؟ کہ بقول شاعر
اب کوئی اور کرے پرورش گلشن غم
دوستو ختم ہوئی دیدۂ تر کی شبنم