عالمی برادری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں کو تسلیم کرتی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ

ویب ڈیسک(اسلام آباد)پاکستان نے بھارت اور امریکہ کی طرف سے جاری کردہ “مشترکہ بیان” میں پاکستان کے حوالے کو غیرضروری قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق،ہندوستان اور امریکہ کی جانب سے وزارتی سطح کے مذاکرات کے بعد جاری کردہ “مشترکہ بیان” میں پاکستان سے متعلق حوالہ کو غیر ضروری اور گمراہ کن قرار دیتے ہیں۔
ہم پاکستان سے متعلق یک طرفہ مشترکہ بیان میں کیے جانے والے دعووئوں کو سختی سے مستردکرتے ہیں ، جو “مقصدیت کے معیار” پر پورا نہیں اترتے ہیں ۔
5اگست 2019 کو بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات سے متعلق بھارتی مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کا جائزہ لینے میں ناکامی بین الاقوامی ذمہ داری کو ترک کرنے کے مترادف ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ مشترکہ بیان میں ناخوشگوار اور خود ستاشی واقعات کے حوالے اس حقیقت کو دھندلا نہیں سکتے ہیں کہ ہندوستان ہی غیرقانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر سمیت خطے میں ریاستی دہشت گردی کا اعصابی مرکز ہے ۔بھارت ریاستی دہشت گردی کا اعصابی مرکز ، مسلمانوں اور اسلام کے خلاف نفرت انگیز جرائم کے مرتکب افراد کے لئے ایک محفوظ پناہ گاہ ہے ۔
خود کو دہشت گردی کا شکار قرار دینے کی کوشش کرکے ، بھارتی قابض افواج کے ذریعہ ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے انسانی بحرانوں سے توجہ نہیں ہٹا سکتا ہے۔
عالمی برادری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں ، قربانیوں اور کامیابی کو تسلیم کرتی ہے۔پاکستان سرحد پار دہشت گردی کا سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ملک کی حیثیت کے باوجود خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لئے علاقائی اور عالمی کوششوں میں تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔
شراکت دار ممالک جنوبی ایشیامیں امن و سلامتی کے امور کا ایک معروضی نظریہ اپنائیں ،شراکت دار ممالک ان عہدوں کی توثیق کرنے سے باز رہیں جو یک طرفہ اور زمینی حقائق سے طلاق یافتہ ہیں۔