فرانس میں گرجا گھر کے قریب چاقو کے حملے میں خاتون سمیت 3 افراد ہلاک

ویب ڈیسک(فرانس ) نیس میں ایک حملہ آور نے چاقو کے وار کر کے ایک خاتون کا گلا کاٹنے کے علاوہ 2 افراد کو ہلاک جبکہ متعدد کو زخمی کردیا۔برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق مقامی پولیس کے مطابق واقعہ شہر کے ایک گرجا گھر کے قریب پیش آیا، مذکورہ حملے کو شہر کے میئر سے دہشت گردی کا واقعہ قرار دے دیا۔پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ چاقو سے خاتون کا گلا کاٹا گیا ہے جبکہ فرانسیسی سیاستدان میرین لی پین نے بھی حملے میں گلا کاٹے جانے کا ذکر کیا۔
فرانس کے اسکول میں ایک استاد نے اظہار رائے کی آزادی سے متعلق سبق میں متنازع میگزین چارلی ہیبڈو کے شائع کردہ گستاخانہ دکھائے تھے جس کے بعد استاد کو ایک شخص نے قتل کردیا تھا جبکہ پولیس نے جائے وقوع پر ہی حملہ آور کو گولیاں ماری تھیں جس سے وہ جانبر نہ ہوسکا۔مذکورہ واقعے کے بعد مقتول استاد کی یاد میں منعقدہ ایک تقریب میں فرانس کے صدر نے گستاخانہ خاکے بنانے سے نہ رکنے کا اعلان کیا تھا، اس کے علاوہ فرانس کے 2 شہروں کی سرکاری عمارات پر گستاخانہ خاکے آویزاں بھی کیے گئے تھے۔فرانس کے اس اقدام پر مسلم دنیا کی جانب سے شدید رد عمل دیا جارہا ہے، ترک صدر رجب طیب اردوان نے فرانسییسی صدر کو دماغ کامعائنہ کروانے کی تجویز دے چکے ہیں۔
سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے میئر کرسٹین اسیٹروس نے بتایا کہ چاقو کا حملہ فرانس کے مشہور گرجا گھر نوٹرے ڈیم کے قریب پیش آیا۔
ساتھ ہی انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ پولیس نے حملہ آور کو گرفتار کرلیا ہے۔پولیس حکام کا کہنا تھا کہ چاقو کے وار سے3 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ واقعے میں متعدد افراد زخمی ہیں، تاہم اب صورتحال قابو میں ہے۔فرانس کے انسداد دہشت گردی پراسیکیوٹر ڈپارٹمنٹ نے بتایا کہ انہیں اس حملے کی تفتیش کا کہا گیا ہے، مذکورہ واقعے پر فرانسیسی پارلیمان کے اجلاس میں ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی۔تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ چاقو کے حملے کا مقصد کیا تھا اور کیا اس کا گستاخانہ خاکوں کے معاملے سے کوئی لینا دینا ہے یا نہیں۔فرانس کے وزیر داخلہ نے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ وہ ایک کرائسز منیجمنٹ اجلاس منعقد کررہے ہیں، ساتھ ہی انہوں نے لوگوں کو خبردار کیا کہ حملے کے مقام سے دور رہیں۔
علاوہ ازیں مشرق وسطی سمیت کئی ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا چکا اور اس پر احتجاجی مظاہرے بھی کیے جارہے ہیں۔