پاکستان کی امن کی خواہش اور بھارتی رویہ

بھارت پاکستان میں انتشار پھیلانے کیلئے ایک بار پھر سرگرم ہو گیا ہے، اس کا واضح ثبوت پاکستان میں پے درپے حملوںکا ہونا ہے، 15اکتوبر کو بلوچستان میں دہشت گردوں کیساتھ جھڑپ میں سات ایف سی اہلکار جبکہ سات سیکورٹی گارڈ شہید ہوگئے تھے۔ بلوچستان میں ایف سی اہلکاروں اور سیکورٹی گارڈز کی دہشت گردوں کیساتھ جھڑپ ایک ایسے وقت ہوئی جب اپوزیشن کی جماعتوں کے کوئٹہ میں جلسے میں محض دس دن باقی تھے، بلوچستان کوسٹل ہائی پر دہشت گردوں کی کارروائی واضح طور پر اشارہ ہے کہ وہ اپوزیشن کے جلسوں کی آڑ میں پاکستان میں بدامنی اور انتشار پھیلانے کی منصوبہ بندی کر چکے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے پشاور میں22نومبر کو اپنے اگلے جلسے کا اعلان کر رکھا ہے لیکن شرپسندوں نے اس سے پہلے پشاور میں بڑی کارروائی کر دی ہے، پشاور اور کوئٹہ میں ہونے والے دھماکوں نے پاکستان میں قیام امن کے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ پشاور میں حملہ کرنے والوںکے سرپرستوں کو بے نقاب کریں۔ گزشتہ روز بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول نے کہا ہے کہ جنگ اس ملک تک لیکر جا سکتے ہیں جہاں سے خطرہ سر اُٹھا رہا ہوگا، انہوں نے جارحیت کی دھمکیوں کو بھارت کے نئے بیانئے سے جوڑتے ہوئے کہا کہ اپنی زمین کیساتھ ساتھ غیرملکی زمین پر بھی جاکر لڑیں گے، چین سے حالیہ ہزیمت اُٹھانے والے اجیت دوول نے نیا انڈیا کے عنوان سے نیا ڈاکٹرائن پیش کرتے ہوئے کہا کہ غیرملکی سرزمین سیکورٹی خطرات کا باعث ہے، بھارت پہل نہ کرنے کے ماضی کے نظریئے میں تبدیلی کررہا ہے۔ نیو انڈیا ڈاکٹرائن کے تحت جہاں سے خطرہ ہوگا وہاں میدان جنگ بنا دیں گے۔ بھارت کو نہیں بھولنا چاہئے کہ ابھی نندن اور کلبھوشن غیرملکی سرزمین سے پکڑے گئے تھے دوسرے کی سرزمین پر آنے والے ابھی نندن اور کلبھوشن کیساتھ کیا ہوا، نئے انڈیا ڈاکٹرائن کے خالق مت بھولیں کہ سیکولر اور مہذب ہونے کے دعویدار بھارت کی ہندوتوا پالیسی اب ڈھکی چھپی نہیں رہی۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں ایک طرف اپوزیشن جماعتیں حکومت مخالف جلسے جلوس کر رہی ہیں جس میں بلامبالغہ ہزاروں لوگ شرکت کر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف ملک میں ایک بار پھر بدامنی نے سر اُٹھا لیا ہے، اپوزیشن جماعتیں اپنی تحریک کو روکنے کیلئے کسی صورت آمادہ دکھائی نہیں دیتی ہیں، ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت انہیں سیکورٹی فراہم کرے، کیونکہ سیکورٹی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، سیکورٹی خدشات کے باعث ہی کوئٹہ میں جلسے کیلئے حکومت نے ابتدائی طور پر جلسے کی اجازت نہیں دی تھی لیکن بالآخر آخری مراحل میں اجازت دیدی گئی، پشاور میں ہونے والے آج کے دھماکے کے بعد حکومت کی طرف سے ایک بار پھر اپوزیش سے جلسہ نہ کرنے کا مطالبہ کیا جائیگا کیا اپوزیشن اس پر راضی ہو جائے گی یا کوئٹہ کی طرح آخری مراحل میں حکومت کو اجازت دینی پڑے گی؟ جہاں تک ہمارا خیال ہے یہ ایسا وقت ہے کہ حکومت اور اپوزیشن آپسی لڑائی کو کچھ عرصہ کیلئے پس پشت ڈال کر مشترکہ لائحہ عمل سے بیرونی دشمن کا مقابلہ کریں، اگر بھارت واقعی نیو انڈیا ڈاکٹرائن کے نام سے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی ٹھان چکا ہے تو پھر ہماری بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم بھارت کو اس لہجے میں جواب دیں جو لہجہ وہ سمجھتا ہے کیونکہ بھارت کشمیر میں5اگست2019ء کے اقدام کے بعد پاکستان کی امن کی کوشش کو ہماری کمزوری سمجھنے لگا ہے، خطے کے حالات پر گہری نظر رکھنے والے اور دفاعی تجزیہ کار آگاہ کر رہے ہیں کہ بھارت مقبوضہ کشمیر تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے اگلے ہدف آزاد کشمیر اور گلگت ہوگا۔ وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں منعقدہ پاک افغان تجارت اور سرمایہ کاری تقریب سے خطات کے دوران کہا کہ بھارت کیساتھ خوشگوار تعلقات اور دوستی کیلئے تمام کوششیں ناکام ہوئی ہیں کیونکہ بھارت پاکستان کا دشمن ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ کے موقع پر وزیراعظم عمران خان نے بھارت کو ایک بار پھر امن کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ ہم امن چاہتے ہیں، میں آج بھی بھارت سے کہتا ہوں کہ پاکستان امن چاہتا ہے، اقتدار سنبھالتے ہی بھارت سے کہا تھا آپ ایک قدم آئیں ہم دو قدم آپ کی طرف آئیں گے۔ آج برصغیر کے لوگوں کیلئے سب سے اہم چیز امن ہے، امن سے ہی ترقی کی راہیں کھلیں گی اور خوشحالی آئے گی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم امن کیلئے تیار ہیں لیکن اس مقصد کیلئے بھارت کو مقبوضہ کشمیر کا فوجی محاصرہ ختم کرنا ہوگا، امن کیلئے کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دینا ہوگا۔ بھارت کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ استصواب رائے سے کر سکیں۔ وزیراعظم عمران خان کی امن کی خواہش اور خطے میں امن کیلئے کی جانے والی کوششیں قابل ستائش ہیں تاہم اب ہمیں سوچنا ہوگا کہ کہیں بھارت ہماری امن کی خواہش کو ہماری کمزوری تو نہیں سمجھ رہا ہے؟