جنوبی بلوچستان کیلئے ترقیاتی پیکج کا اعلان جلد کروں گا- وزیراعظم

(اسلام آباد): وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ جلد بلوچستان کا دورہ کریں گے اور صوبے کے پیچھے رہ جانے والے جنوبی حصوں کے لیے ایک جامع ترقیاتی پیکج کا اعلان کریں گے، رپورٹ کے مطابق صوبے کے پیچھے رہ جانے والے علاقوں کے لیے ترقیاتی منصوبوں پر ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں جلد جنوبی بلوچستان کا دورہ کروں گا، اور جنوبی بلوچستان کے لیے ایک جامع ترقیاتی پیکج کا اعلان کروں گا اور منصوبوں کا افتتاح کروں گا، انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے بلوچستان کی ترقی کو اولین ترجیح دی ہے، تاکہ یہ علاقہ ملک کے دیگر حصوں کی طرح ترقی کرسکے،وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ماضی میں جنوبی بلوچستان کو نظرانداز کیا گیا،

جس کی وجہ سے اس علاقے کے لوگ غربت کا سامنا کر رہے اور وہ پیچھے رہ گئے، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گوادر رپورٹ انتہائی اہمیت کی حامل ہے، جوملک کی ترقی کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوگی، اجلاس کے دوران بلوچستان کے پیچھے رہ جانے والے اضلاع خاص طور پر خضدار، آواران، چاغی، کھاران، واشک، لسبیلا، گوادر، پنجگور اور تربت کے لیے مجوزہ ترقیاتی پیکج کے بارے میں آگاہ کیا گیا، اس کے علاوہ جنوبی بلوچستان کے لیے سڑکوں، توانائی، پانی کی کمی کے لیے ڈیمز، تعلیم، صحت، زراعت، لائیو اسٹاک، فشریز اور دیگر منصوبوں پر بھی بریفنگ دی گئی،

علاوہ ازیں افغان وزیر برائے صنعت و تجارت نثار احمد فیضی گھوریانی سے ملاقات میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن پورے خطے کے لیے فائدے مند ہوگا اور اس سے علاقائی تعاون بڑھے گا، جبکہ اقتصادی تعاون کے لیے نئے مواقع فراہم ملیں گے، دفتر وزیراعظم سے جاری اعلامیہ کے مطابق انہوں نے افغان وفد کا خیرمقدم کیا اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات پر روشنی ڈالی، اس موقع پر وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد بھی موجود تھے، اس دوران ملاقات وزیراعظم نے افغانستان میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا اور بات چیت کے ذریعے سیاسی تصفیے پر زور دیا،

ان کا پاکستان اور افغانستان کے درمیان اقتصادی ہم آہنگی اور تکمیلات موجود ہیں، جو صرف معاشی اور تجارتی شعبوں میں باہمی تعاون کے ذریعے ہی حاصل ہوسکتی ہیں، اس موقع پر افغانستان کے وزیر نے امن عمل میں تعاون میں پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون کے فروغ کی خواہش کا اظہار کیا۔