بھارت کی دہشت گردی کا مقدمہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار کی مشترکہ پریس کانفرنس میں پاکستان کے گرد دہشت گردی کے بُنے جانے والے جال کی تفصیلات بیان کی گئیں۔ ایک گھنٹے کی پریس کانفرنس میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اب مزید خاموش رہنا پاکستان اور خطے کے امن واستحکام کے مفاد میں نہیں۔ پریس کانفرنس میں بتایا کہ 2001سے 2020 تک پاکستان میں دہشتگردی کے 19130 واقعات ہوئے۔ 83000 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں، 32000افراد زخمی ہوئے۔ دہشت گردی کے واقعات میں پاکستان کا 26ارب ڈالر کا مالی نقصان ہوا۔ جن تنظیموں کی جڑیں پاکستان نے اکھاڑ پھینکی تھی بھارت نے انہیں اپنا لیا ہے اس کیلئے بی ایل اے، داعش، الطاف گروپ اور ٹی ٹی پی کے حوالے دئیے گئے۔ یہ بھی بتایا کہ کرنل راجیش نامی ماسٹر مائنڈ افغان قونصل خانے کے ذریعے کالعدم تنظیموں سے رابطے میں ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کو ناکام بنانے کیلئے سات سو دہشت گردوں کی فورس قائم کی جا چکی ہے۔ اس فورس کو چھ کروڑ ڈالر دئیے گئے ہیں۔ پریس کانفرنس میں کہا گیا پیسوں کی منتقلی کے چار شواہد بھی ملے ہیں۔ پاکستان کی سویلین اور ملٹری نمائندوں کی اس مشترکہ پریس کانفرنس میں پاکستان میں بھارت پر پوری چارج شیٹ عائد کی گئی ہے۔ ماضی میں اس معاملے میں سول اور ملٹری کی الگ پالیسی ہوتی تھی۔ سویلین حکومتیں بھارت کے معاملے میں حد درجہ احساس کمتری کا شکار ہوتی تھیں۔ اکثر حکومتیں بھارت کے معاملے میں غیرضروری احتیاط سے کام لیتی رہی ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے بیرونی طاقتوں کا ایک نادیدہ دباؤ بھی رہا ہے۔ امریکہ کی یہ کوشش رہی ہے کہ پاکستان میں بھارت کیخلاف تلخی کا اظہار کچھ حدود کے اندر رہے۔ بھارت کے دامن کو داغدار ہونے سے بچانے کی سوچ ہوتی تھی یا پاکستان کو بدنامی کے داغ یکطرفہ طور پر سہنے کی عادت ڈالنا مقصود تھا مگر جو بھی تھا یہ گہری منصوبہ بندی سے ہو رہا تھا۔ دلچسپ بات یہ کہ اس سوچ کو پاکستان کے اندر سے حمایت حاصل ہوتی ہے جب پاکستان کیخلاف بھارت کی چیرہ دستیوں کی بات ہوتی ہے تو ایک طبقہ ”اگر مگر” کیساتھ بھارت کے مؤقف کی حمایت میں سامنے آجاتا ہے۔ چند برس پہلے تک یہ طبقہ اعلانیہ خود کو بھارتی لابی کہتا تھا۔ یہ طبقہ اس مؤقف کی جگالی کرنے لگتا ہے کہ دیکھیں جی بھارت کی دہشت گردی تو اپنی جگہ مگر ہمیں بھی اپنا گھر ٹھیک کرنا چاہئے۔ ہمیں بھارت کیخلاف کارروائیاں نہیں کرنی چاہئے۔ صرف سویلین حکومت ہی نہیں پرویز مشرف کی فوجی حکومت بھی آخر میں ڈومور کے بوجھ تلے اپنی کمر اس حد تک جھکا چکی تھی کہ بھارت کی بے جا نازبرداریاں اُٹھاتے ہوئے اس کی چیرہ دستیوں کا ذکر کرنا بھولتی جا رہی تھی۔ جنرل مشرف اور اس کے بعد ادوار میں یہ ایک عجیب مخمصہ تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کون کروا رہا ہے۔ یہ کنفیوژن اس رخ جا رہا تھا کہ پاکستان کے ادارے خود ہی دہشت گردی کروا رہے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ تاثر گہرا کیا جا رہا تھا کہ پاکستان خود طالبان تخلیق کئے اور اب وہی طالبان پاکستان میں دہشت گردی کروا رہے ہیں اس طرح پاکستان خود اپنے دام میں پھنس گیا ہے جب بلوچ دہشت گرد تنظیموں کے حوالے سے سوال اُٹھایا جاتا کہ اس کے پیچھے کون ہے؟ تو ایک گہری خاموشی ہوتی اور فقط یہ کہا جاتا کہ علاقے کے عوام کی محرومیوں کا ردعمل ہے۔ ایک بار یوسف رضاگیلانی کی طرف سے من موہن سنگھ کو بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کے دستاویزی ثبوت دینے کی بات سامنے آئی مگر بعد میں یہ معاملہ پراسرار انداز سے گول ہوگیا۔ بہت دیر کے بعد پاکستان نے اپنے اوپر بیتنے والی ستم کہانی کے مرکزی کردار کا نام لینا شروع کیا۔ اس کیلئے بہت محنت سے کلبھوشن یادیو جیسا ثبوت ڈھونڈ نکالا جس کے بعد زبانوں پر لگے قفل کھلنا شروع ہوگئے اور اب بات یہاں تک پہنچی کہ سول اور فوجی نمائندے ملکر دہشت گردی کے کرداروں اور پس پردہ چہروں سے نقاب اُتار رہے ہیں۔ پاکستان کو اپنا مؤقف اب سلیقے اور تسلسل کیساتھ دنیا کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔ دنیا میں جو تجارتی اور سیاسی تقسیم ہو چکی ہے اس میں پاکستان نے جو پوزیشن اختیار کی ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ توقع عبث ہے کہ دنیا بھارت کیخلاف پاکستان کی عرض داشتوں کو اتنی ہی توجہ اور انہماک سے سنے اور سمجھے گی جتنی توجہ سے بھارت کو سنا گیا تھا مگر پاکستان کو اپنا کام کرتے رہنا ہوگا۔ اپنے عدالتی نظام کو ٹھیک کرتے ہوئے دہشت گردوں کے اندرونی سہولتکاروں کو کٹہرے میں لانا ہوگا۔ پاکستان اور بھارت اس وقت حالت جنگ میں ہیں۔ پاکستان کا مفاد جہاں ختم ہوتا ہے وہاں بھارت کا نقصان شروع ہوتا ہے۔ اسی طرح بھارت کے مفاد میں پاکستان کا خسارا ہے یہ کشمکش مستقبل قریب میں ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔ نریندر مودی نے جس سوچ اور ذہنیت کو ہوا دی ہے اس میں بھارت سے مودی کے متبادل کے طور پر بھی کسی مودی کے ہی اُبھرنے کا امکان موجود ہے۔ ایسے میں پاکستان کو اپنی مظلومیت کا مقدمہ طویل مدت کیلئے تیار کرنا ہوگا۔