درس وتدریس میں طلبہ کی اہمیت

تعلیم کی اہمیت کسی تشریح کی محتاج نہیں ہے، یہ ایسا شعبہ ہے جس میں تحقیق کا سفر ہمیشہ جاری رہتا ہے، اس حوالے سے سوچنے والے نت نئے تجربات کرتے رہتے ہیں، عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ پڑھنے پڑھانے میں اُستاد کا کردار بڑا اہم ہے، یقینا اُستاد کے بغیر بات تو نہیں بنتی لیکن جہاں اُستاد کا کردار اہم ہے وہاں طلبہ کو بھی کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جاسکتا بلکہ اب تو یہ نظریہ پیش کیا جاچکا ہے کہ سیکھنے سکھانے کے عمل میں طالب علم یعنی سیکھنے والا زیادہ اہم ہے۔ میری لین ایک ماہر تعلیم ہیں، ان کا کہنا ہے کہ سیکھنے کا عمل اُستاد کی وجہ سے مکمل نہیں ہوتا اسے طالب علم ہی مکمل کرتے ہیں اور طالب علموں کو مکمل بھی کرنا چاہئے۔ درحقیقت درس وتدریس کے عمل میں زیادہ ذمہ داری سیکھنے والے کی ہے۔ یہ تحقیق ایک حوالے سے مکمل طور پر سوچ یا نظرئیے کی تبدیلی ہے۔ روایتی سوچ تو یہی ہے کہ اُستاد کا کام طالب علم کو سکھانا ہے اور ایک اچھا اُستاد ہی اچھے طالب علم پیدا کرسکتا ہے۔ یہ ایک جزوی سچ تو ہو سکتا ہے لیکن یہ پورا سچ نہیں ہے۔ یہ عام مشاہدہ ہے کہ ایک کلاس میں تیس چالیس طالب علم ہوتے ہیں اور اُستاد ایک ہوتا ہے جو سب کو پڑھاتا ہے لیکن ہر طالب علم اپنی استعداد کے مطابق ہی سیکھتا ہے، ایک کلاس اور ایک اُستاد سے تعلیم حاصل کرنے والے ان طالب علموں میں کوئی پروفیسر بنتا ہے تو کوئی جج اور ان کے ہم جماعت ایسے بھی ہوتے ہیں جو کچھ بھی نہیں سیکھ پاتے اور اپنے تعلیمی سفر میں بری طرح ناکام ہوجاتے ہیں۔ اُستاد ایک ہی ہے مگر نتائج مختلف آرہے ہیں، اس کا سادہ سا حل یہ ہے کہ طلبہ پر بہت کچھ چھوڑ دیا جائے۔ دوران تعلیم مختلف مضامین میں جن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے انہیں خود حل کرنے کا موقع دیا جائے، وہ زیادہ سے زیادہ مشقیں خود حل کریں، اس طرح وہ اپنے سیکھنے کی مہارت میں بہتری لاسکتے ہیں۔ درحقیقت سیکھنے کا عمل اسی وقت مکمل ہوتا ہے جب طلبہ خود اس کا حصہ بنتے ہیں، اُستاد کا کام بس اتنا ہونا چاہئے کہ وہ طلبہ کی رہنمائی کرتا رہے اور انہیں یہ سکھاتا رہے کہ کیسے سیکھا جاتا ہے۔ طلبہ نہ صرف اپنا کام خود کریں بلکہ کام مکمل ہوجانے کے بعد اس پر غور وفکر کرتے رہیں، اگر کسی جگہ کوئی کمی رہ جائے تو اسے خود درست بھی کریں اور اس کی ذمہ داری بھی قبول کریں۔ جب ان تمام مراحل سے ایک طالب علم گزرتا ہے تو یقینا وہ بہت کچھ سیکھ جاتا ہے اور اگر سب کچھ اُستاد کی طرف سے مہیا ہوتا رہے تو طالب علم کبھی بھی نہیں سیکھ پاتے۔ اُستاد کا کام یہ ہے کہ وہ طلبہ میں اپنے مضامین سے محبت اور ان کی اہمیت کا احساس پیدا کرتا ہے، طلبہ اسی وقت اپنے مضامین میں دلچسپی لیتے ہیں جب انہیں عملی زندگی میں ان کی اہمیت کا احساس ہو جاتا ہے، ہر کام میں اپنے فائدے کی تلاش انسان کی سرشت میں ہے اس لئے انہیں یہ بتانا ضروری ہوتا ہے کہ آج کا پڑھا ہوا ان کی عملی زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل ہوگا اور وہ کس طرح اپنے معاشرے میں اپنے حصے کی شمع روشن کرسکتے ہیں۔ بڑے انسان وہی ہوتے ہیں جس کی وجہ سے مخلوق خدا کو فائدہ پہنچتا ہے جو اپنے معاشرے کی خدمت کرتے ہیں، اپنے سیکھے ہوئے سے دوسروں کو سکھاتے ہیں، ان کی زندگی میں بہتری لانے کا سبب بنتے ہیں، یہی وہ سوچ ہے جس سے ایک طالب علم نہ صرف اچھا طالب علم بنتا ہے بلکہ آنے والے وقت میں وہ اپنے معاشرے کا ایک اہم اور مفید فرد بھی ہوتا ہے اور یہی تعلیم کا مقصد بھی ہونا چاہئے۔ انسان اسی وقت قابل قدر ہوتا ہے جب اس کی زندگی کا مقصد لوگوں کی خدمت ہو، لوگوں کو فائدہ پہنچانا ہو۔ ہر انسان اپنے کردار اپنے عمل سے پہچانا جاتا ہے، اگر ہم اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بھی خودغرض، مفادپرست، کینہ پرور، جھوٹے اور لالچی ہیں تو کیا فائدہ ایسی تعلیم کا؟ تعلیم سے زیادہ اہمیت تربیت کی ہوتی ہے، انسان کا رویہ اسے انسان بناتا ہے۔ شاہین کو اقبال نے پرندوں کی دنیا کا درویش کہا تھا، شاہین کی بہت سی اقسام ہوتی ہیں، ان کی شکل اور جسامت میں بھی فرق ہوتا ہے لیکن آپ انہیں ان کی شکل وصورت سے نہیں بلکہ ان کے روئیے سے انہیں پہچانتے ہیں اور ان کی قیمت کا تعین بھی ان کے روئیے سے ہوتا ہے۔ درس وتدریس کے عمل میں طلبہ پر بہت کچھ چھوڑ دینا چاہئے، انہیں طوطے کی طرح چیزیں زبانی یاد کرنے سے کچھ فائدہ بھی نہیں ہوتا، اصل اہمیت ان کی سیکھی ہوئی چیزوں کو سمجھنے کی اور انہیں غور وفکر کے بعد سیکھنے کی ہوتی ہے اور یہی وہ علم ہے یہی وہ تعلیم وتربیت ہے جو نہ صرف ہمارے طلبہ کیلئے اہمیت کی حامل ہے بلکہ ہمارے معاشرے کیلئے بھی بہت فائدہ مند ہے اور اسی سے اچھے اور کامیاب معاشرے تشکیل پاتے ہیں۔