باصلاحیت حکمران کی خوبیاں

بادشاہوں کے واقعات پڑھتے ہوئے ایک عجیب سی سرشاری کا احساس ہوتا ہے، ہمیں بچپن میں ہی پتہ چل گیا تھا کہ شیخ عمر مرزا کا بارہ سالہ بیٹا محمد ظہیرالدین بابر کیسے فرغانہ کے جنگلوں میں مارا مارا پھرتا تھا اور اپنے دشمنوں کیخلاف برسرپیکار رہتا۔ وہ کتنے جان لیوا مراحل سے گزرا، اس نے کتنی ہوشیاری اور بہادری سے فرغانہ کی کھوئی ہوئی ریاست حاصل کی اور پھر اس کی زندگی میں وہ دن بھی آیا جب اس نے پانی پت کے میدان میں ابراہیم لودھی کو شکست دی اور ہندوستان جیسے وسیع وعریض ملک کی حکمرانی کا اعزاز حا صل کیا۔ شیرشاہ سوری کے کارنامے پڑھے تو ایک انسان کی محنت، ذہانت، ہوشیاری، موقع شناسی، انتظامی صلاحیت، عدل وانصاف اور بہادری کا قائل ہونا پڑا۔ یہ وہی پٹھان حکمران تھا جس کی حکومت میں شیر اور بکری ایک گھاٹ پانی پیتے تھے۔ کسی ظالم کی یہ مجال نہیں تھی کہ وہ کسی کی طرف اپنے ظلم کا ہاتھ بڑھا سکتا۔ یہ وہ حکمران تھا جس کی نظروں میں رعایا کا ایک عام سا شخص اور اس کا بیٹا برابر تھے مقدمات کا فیصلہ کرتے وقت وہ انصاف کا دامن کبھی بھی ہاتھ سے نہ چھوڑتا۔ مسلمان ہندوستان میں اقلیت میں تھے لیکن انہوں نے اس خطے پر شاندار طریقے سے حکمرانی کی۔ مغلوں کی بنائی ہوئی عظیم عمارتیں مسلمانوں کے دورعظمت کی شاندار یادگاریں ہیں، اب بھی دنیا بھر سے سیاح ہندوستان آتے ہیں اور مغلوں کے طرزتعمیر کو دیکھ کر عش عش کر اُٹھتے ہیں۔ اگر ان عظیم الشان عمارتوں کی تعمیر کیساتھ ساتھ انہوں نے علم کی سرپرستی بھی کی ہوتی، یونیورسٹیاں بھی بنائی ہوتیں۔ طلبہ کیلئے اعلیٰ تعلیم کے مواقع پیدا کئے ہوتے تو آج ہم عصرحاضر کے علوم میں کسی سے پیچھے نہ ہوتے، آج ہمیں دوسروں کے پیچھے اپنا کشکول لیکر نہ پھرنا پڑتا، ہم غیروں کے کاسہ لیس نہ ہوتے، ہمیں چھوٹی سے چھوٹی چیز کیلئے مغرب کی طرف نہ دیکھنا پڑتا۔ صلاحیتوں کی تو اب بھی کمی نہیں ہے صرف سوچنے کے انداز بدلنے کی ضرورت ہے، بجٹ میں تعلیم کیلئے رقم بڑھانے کی ضرورت ہے لیکن یہ سب کچھ اسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنے کردار کو بہتر بنا لیں۔ ہمارے اندر اجتماعی سوچ پیدا ہو جائے، وطن عزیز کی تعمیر وترقی ہماری سب سے پہلی ترجیح ہو جائے، بدعنوانی سے ہم اپنا دامن چھڑالیں۔ رشوت، اقربا پروری اور مال کی محبت وہ دیمک ہے جو ہماری جڑوں کو روزبروز کھوکھلا کر رہی ہے۔ اکثر سننے میں آتا ہے کہ ہمارے رہنما اثاثے بڑھانے کی فکر میں رات دن گھلتے رہتے ہیں، اگر ہم تاریخ میں جھانکنے کی زحمت گوارا کریں تو ہم جان جائیں گے کہ باصلاحیت رہنما کسی بھی قوم کا عظیم سرمایہ ہوا کرتے ہیں۔ اس وقت ذہن میں نظام الملک طوسی کا نام آرہا ہے شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ آج ہمارے یہاں بدانتظامی کا دوردورہ ہے، ہماری کوئی واضح سمت نہیں ہے جس پر چل کر ہم منزل مقصود کی طرف بڑھ سکیں اور نظام الملک ایک بیدار مغز منتظم، دیانتدار رہنما اور اپنی قوم کی بھلائی چاہنے والا تھا اسے ہر وقت یہ فکر ستائے رکھتی کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کیسے مہیا کی جائیں۔ اس زمانے میں سلجوق حکمران الپ ارسلان کی حکومت تھی جس نے اپنی فوج کی کم تعداد کے باوجود صلیبیوں کی بہت بڑی افواج کو شکست دیکر اپنے آپ کو ایک اہل اور بہادر حکمران کے طور پر منوا لیا تھا۔ الپ ارسلان کو جب نظام الملک طوسی کی صلاحیتوں کا علم ہوا تو اس نے اسے دربار میں ایک چھوٹا سا عہدہ دیا۔ نظام الملک کی یہ عادت تھی کہ وہ جب حکومتی ذمہ داریوں سے فارغ ہو جاتے تو رات دو بجے تک کتابوں کا مطالعہ کرتے۔ ان کا مطالعہ ہمیشہ اچھی حکمرانی کے اصول جاننے کیلئے ہوتا وہ یہ جاننا چاہتے تھے کہ وہ کون سے زریں اصول ہیں جنہیں بنیاد بنا کر ایک اچھا حکمران بنا جاسکتا ہے۔ ہمارا تو یہ خیال ہے کہ اس موضوع کو ہماری یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل ہونا چاہئے کیونکہ آج ہمیں سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ ایک عدد اچھا حکمران ہے۔ نظام الملک ہر کام کی خود نگرانی کرتے اور کسی بھی کام کو اپنے ماتحتوں کے حوالے کر دینے کے بعد بے فکر نہیں ہوتے تھے بلکہ مسلسل اس کام کی نگرانی کرتے۔ ان کے پاس وسیع اختیارات تھے لیکن انہوں نے کبھی بھی اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال نہیں کیا۔ ان کا ایک عظیم کارنامہ تعلیم کا فروغ تھا انہوں نے شہروں اور دیہات میں سکول کالج اور یونیورسٹیاں قائم کیں، خاص طور پر بغداد اور نیشاپور میں بڑے بڑے تعلیمی مراکز قائم کئے جو آج تک مدارس نظامیہ کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ وہ تعلیم کے فروغ کیلئے بے تحاشہ روپیہ خرچ کرتے تھے۔ کیا آج اس کا تصور بھی کیا جاسکتا ہے کہ ہمارے یہاں اپنی جیب سے تعلیم کیلئے پیسہ خرچ کیا جائے؟ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے نظام تعلیم کی کسمپرسی سب کے سامنے ہے۔ نجی تعلیمی اداروں کے مالکان دیکھتے ہی دیکھتے کروڑوں روپوں میں کھیلنے لگے لیکن عوام کیلئے کسی نے نہیں سوچا۔ کسی کے ذہن میں یہ خیال نہیں آتا کہ پڑھے لکھے اور باشعور عوام ہی کسی ملک وقوم کا اصلی اور حقیقی سرمایہ ہوا کرتے ہیں اور وہ ملک کبھی زوال پذیر نہیں ہوتا جہاں عوام خوشحال ہوں۔