بجلی چوری اور دھڑلے سے سینہ زوری

ملک کے بااثر طبقہ سے تعلق رکھنے والے بجلی صارفین نے108ارب روپے بجلی واجبات کی ادائیگی سے انکار کر دیا ہے۔ یہ واجبات حکمران طبقہ اور سیاستدان بیوروکریٹس اور تاجر اور صنعتکاروں کے ذمہ واجب الادا ہیں۔ ملک کے تمام بڑے شہروں اور دیہی علاقوں میں5لاکھ63ہزار سے زائد بجلی صارفین نے108ارب روپے کی ادائیگی روک رکھی ہے جس سے ہر ماہ سرکلر ڈیٹ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت طاقتور طبقہ سے وصولی کی بجائے ہر ماہ بجلی ٹیرف میں اضافہ کرکے رقم غریب صارفین سے وصول کر رہی ہے۔ وزارت توانائی نے تمام ڈیلرز کو ہدایت کی ہے کہ کمپنی میں 100طاقتور ڈیفالٹرز سے ریکوری کریں اور مثال قائم کی جائے تاکہ دیگر ڈیفالٹروں کو سبق دیا جا سکے۔ حکومت کی ان ہدایت کے باوجود ڈیلرز نے اس حوالے سے کوئی اہم سرگرمی نہیں دکھائی بلکہ بجلی ٹیرف میں اضافہ کر دیا ہے۔ طاقتور طبقہ بجلی کے بل بھی ادا نہیں کرتا اور نہ کنکشن منقطع کرنے دیتے ہیں۔ اس تفصیلی خبر سے صورتحال بخوبی واضح ہے کہ وطن عزیز میں بجلی کی قیمتوں میں بار بار اضافہ کی بڑی وجہ کیا ہے اور بجلی کے بل کون بھر رہے ہیں۔ بجلی چوری میں صرف بڑے اور بااثر لوگ ہی ملوث نہیں عام لوگوں کی بڑی تعداد بھی بجلی کمپنیوں کے اہلکاروں سے ملی بھگت کر کے چوری کرتے ہیں بعض اوقات تو عملہ خود ہی ملوث ہوتا ہے اس کا تمام تر بوجھ اس صارف پر پڑتا ہے جو بجلی کے بل کی عدم ادائیگی کا متحمل نہیں ہوسکتاکیونکہ ان کی بجلی کاٹ دی جاتی ہے بعض غیرمہذب پیسکو عملہ صرف ایک ماہ بل جمع نہ کرنے پر صارفین سے نہایت بدتمیزی سے پیش آتا ہے اور بجلی کاٹنے کی دھمکیاں دے جاتے ہیں لیکن جو بااثر لوگ دھڑلے سے بجلی چوری کرتے ہیں ان سے نہ تو بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں وصولی کی جرأت کرتی ہیں اور نہ ہی حکومتی ادارے حرکت میں آتے ہیں۔ جب تک اس طرح کی صورتحال رہے گی عام صارفین بل ادا کرتے رہیں گے اور سرکلر ڈیٹ کا حجم بھی ساتھ ہی بڑھتا جائے گا۔ احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کی دعویدار حکومت اگر صارفین پر بوجھ دربوجھ ڈالنے کی بجائے بجلی کا بل ہڑپ کرنے والے بااثر افراد سے رقم نکلوالے تو سرکلر ڈیٹ کی ادائیگی کیساتھ ساتھ ممکن ہے عام صارفین کو کسی ایک مہینے کی ریلیف مل جائے۔
طیارہ حادثہ کی رپورٹ
چترال سے اسلام آباد جانے والی حویلیاں طیارہ حادثے کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد جو رپورٹ جاری کر دی گئی ہے چترال کے جن دیہات کے اوپر سے طیارہ گزرا تھا حادثے کے وقت ہی انہوں نے اس رپورٹ کے مندرجات بتائے تھے جو سالوں کی تحقیق وتفتیش اور لاکھوں روپے کے اخراجات کے بعد مرتب کی گئی۔ واضح رہے کہ حویلیاں طیارہ حادثہ چار سال قبل دسمبر 2016 میں پیش آیا تھا جس میں جنید جمشید سمیت 47 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔جاری کردہ رپورٹ کے مطابق طیارے کا ایک انجن بند اور دوسرے کا بلیڈ ٹوٹا ہوا تھا۔ طیارے کے انجن کا بلیڈ پشاور سے چترال جاتے ہوئے ٹوٹا تھا۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق دوران پرواز انجن خراب ہونے کے باعث اے ٹی آر طیارے کی رفتار کم ہوئی اور طیارہ حادثے کا شکار ہوگیا۔ سمجھ سے بالاتر امر یہ ہے کہ اتنے واضح خرابی کے باوجود طیارہ کو پرواز کی اجازت کیسے ملی۔ ایسا ممکن نظر نہیں آتا کہ اتنے بڑے فالٹ کی پائلٹ نے نشاندہی نہ کی ہو۔ ابھی کراچی میں طیارے کے حادثے سمیت اور دیگر معاملات کی تحقیقات ہونی ہے جس کے نتائج سے قطع نظر یہ اس طرح کا رویہ اور لاپروا ہی ہی ہے جس کے باعث پی آئی اے اب تقریباً بندش کا شکار ہے۔ پی آئی اے کی تباہ کے ذمہ داروں کا تعین کر کے اور ان کو ذمہ دار ٹھہرا کر سزا دینے کے بعد ہی پی آئی اے پر لوگوں کا اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹروں کو مشکلات کا شکار نہ بنایا جائے
صوبائی حکومت کی منظوری ملنے کے بعد محکمہ صحت نے کورونا کی ایمرجنسی کے دوران6ماہ کے ایڈہاک عرصہ کیلئے بھرتی کئے گئے999ڈاکٹرز کی مدت ملازمت میں 6ماہ تک کیلئے توسیع کردی ہے۔یوں تو سرکاری کاموں میں تاخیر معمول کی بات ہے لیکن بعض شعبے ایسے ہوتے ہیں جس میں تاخیر کی گنجائش نہیں ہوتی۔ ڈاکٹروں کے حوالے سے تاخیر سے آنے والا فیصلہ بہرحال مناسب ہے بہتر ہوگا کہ کورونا وائرس سے پیدا شدہ سخت حالات میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹروں کو تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر اور دوسرے انتظامی امور میں پریشان نہ کیا جائے ان کیلئے واضح پالیسی اختیار کر کے اس پر عمل یقینی بنایا جائے۔