بلدیاتی انتخابات سے فرار’ اصل حقائق

ملک کے اندر بلدیاتی اداروں کے انتخابات کرانے یا ان سے فرار کے حوالے سے دو نظریات کام کررہے ہیں، گزشتہ روز سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا میں بلدیاتی الیکشن کے عدم انعقاد پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کی آئینی شقوںپر عمل نہ ہوا تو صوبائی حکومت کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کریںگے۔ فاضل عدالت کی برہمی کے حوالے سے جب ہم صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں تو کالم کے ابتدائی سطور میں جن دو نظریات کا ہم نے تذکرہ کیا ہے ان کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے۔ فاضل عدالت کے ریمارکس کے کیا نتائج نکلتے ہیں اس سے قطع نظر یہ محولہ دونوں نظریات کی وضاحت کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ سیاسی رہنماء جب بھی اقتدار میں آتے ہیں تو وہ یعنی حکمران بلدیاتی انتخابات سے کوسوں دور بھاگتے ہیں، اگرچہ حزب اختلاف کی جماعتیں بضد ہوتی ہیں کہ صوبوں میں بلدیاتی اداروں کا قیام عمل میں لایا جائے اور مقامی حکومتوں کے ذریعے عوام کے مسائل حل کرنے پر توجہ دی جائے، اس کی کیا وجوہات ہیں اس پر آگے چل کر بات ہوگی جبکہ جمہوریت کے دعویدار سیاسی رہنمائوں کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ بلدیاتی اداروں کو فعال بنانے کی راہ میں حتی المقدور روڑے اٹکاتے رہیں، اس کے برعکس ملک میں جب بھی آمریت نے قدم جمائے تو ہر ڈکٹیٹر نے بلدیاتی نظام کی آبیاری کی، بلدیاتی انتخابات کرائے اور اسی نظام کو اپنے اقتدار کیلئے بنیاد بنا کر کامیاب حکومت کی، اگرچہ بلدیاتی نظام کا آغاز انگریز حکمرانوں کے دور میں ہوا تھا اور محدود اختیارات دیکر عوام کی سیاسی تربیت کا بھی اہتمام کیا، تقسیم کے بعد وہی نظام کسی نہ کسی حد تک جاری رہا مگر بعد میں جب اس نظام کی مدت پوری ہوئی تب ملک میں سیاسی نظام پر طوائف الملوکی کے سائے گہرے ہونے اور آئے روز حکومتیں تبدیل ہونے کی وجہ سے بلدیاتی نظام بھی متاثر ہوا، تاہم جب ایوب خان نے ملک میں مارشل لاء لگایا تو ابتدائی سالوں میں تو اس نے ہر قسم کی سیاسی سرگرمیوں کو معطل کئے رکھا، پاپولر سیاسی قیادت کو جیلوں میں ڈالا یا ایبڈو کے قانون کے تحت ان کی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر پابندیاں عاید کیں اور بلاشرکت غیرے ملک پر حکمرانی کرنے لگا، تاہم بعد میں جب ایبڈو کے قانون کے خاتمے کا وقت آیا،تب تک موصوف نے بنیادی جمہوریت کے نام سے ایک نظام قائم کر کے محدود طور پر سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی، اسی بنیادی جمہوریت کے نظام کے تحت ملک بھر میں 80 ہزار بی ڈی ممبروں کا انتخاب یوں کرایا کہ نہ صر ف ہر یونین کونسل میں ایک چیئرمین اور دس بارہ بی ڈی ممبر مختلف شہروں کے میونسپلٹی کیلئے چنے گئے جو ایک جانب عوامی مسائل مقامی سطح پر حل کرائے، گلیوں کی تعمیر ومرمت، نالیوں کی تعمیر، پانی کی فراہمی وغیرہ وغیرہ جیسے مسائل انہی یونین کونسلوں کے تحت حل کرائے جائے جبکہ یہ80ہزار بی ڈی ممبر قومی اسمبلی، دو صوبائی اسمبلیوں (مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان) کے علاوہ صدارتی انتخابات کیلئے الیکٹورل کالج کہلاتے تھے اور پہلی بار انہی ممبروں کی لگ بھگ 98فیصد ووٹوں سے ایوب خان کو صدرمنتخب کرانے کا کام لیا گیا، صدر ایوب کے آمرانہ دور کی خامیاں اور ملک میں جمہوریت کی بیخ کنی ایک طرف مگر حقیقت یہ ہے کہ بنیادی جمہوریت کے اس نظام سے اچھا بلدیاتی نظام آج تک اس ملک میں نہیں آسکا، یعنی جہاں تک بلدیاتی مسائل بشمول چھوٹے چھوٹے گھریلو مسائل اور خانگی جھگڑوں میں مددگار نظام کے طور پر یہ نظام مربوط، قابل تعریف اور سادہ نظام تھا۔ اس کے بعد جتنے بھی بلدیاتی نظام آئے ان میں ایوبی بنیادی جمہوریت والے نظام کی جیسی خوبیاں نہیں تھیں اگر غیرجانبدارانہ انداز میں جائزہ لیا جائے اور اس نظام میں سے الیکٹورل کالج والی شقیں نکال لی جائیں تو ایوبی بلدیاتی نظام کا مقابلہ بعد میں آنے والا کوئی بلدیاتی نظام نہیں کر سکتا۔ بعض لوگ اگرچہ جنرل پرویز مشرف کے بلدیاتی نظام کو بہتر قرار دیتے ہیں تاہم یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایوبی دور یا تو دیکھا نہیںیا پھر ان کی عمریں تب اتنی کم تھیں کہ انہیں زیادہ معلومات حاصل نہیں ہیں، مشرف دور کے بلدیاتی نظام میں کئی پیچیدگیاں تھیں،خصوصاً اس نظام میں یہ نیبرہڈ کونسلر، مزدور اور کسان کے نام پر نمائندگی پر کئی طرح کے سوال اُٹھتے ہیں کیونکہ آج انتخابی عمل میں دولت کی جو ریل پیل دکھائی دیتی ہے اس میں ایک غریب کسان اور بے کس مزدور کیسے حصہ لے سکتا ہے اور انہیں ووٹ کون دینے کو تیار ہو سکتا ہے جبکہ یہ دونوں طبقات دو وقت کی روٹی کمانے کی فکر میں رہتے ہیں۔ بھلا بغیر کسی معقول معاوضے کے یہ محنت مزدوری چھوڑ کر ”عوام کی خدمت” کیلئے کیونکر تیار ہوسکتے ہیں، صاف ظاہر ہے یہ ایک ڈھکوسلہ ہے البتہ خواتین کی نمائندگی ایک بہتر سوچ ہے۔ جنرل مشرف نے بلدیاتی نظام میں دراصل اتنے ”طبقات” کو شامل اس لئے کرایا تھا کہ اس کے پیچھے بھی مقصد ایوبی دور کے بنیادی جمہوریت کی طرح بعد میں اسے الیکٹورل کالج بنا کر اپنے اقتدار کو طول دینا تھا، (باقی صفحہ7)