دھاندلی یا میں نہ مانوں کی رٹ؟

گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج حسب توقع اپوزیشن نے مسترد کر دئیے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ”میرا الیکشن چرایاگیا”۔ مریم نواز کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے نتائج کا پہلے ہی اندازہ تھا میں انہیں ایکسپوز کرنے گئی تھی۔ گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج کا استرداد اور دھاندلی کا روایتی منترا بلاول اور مریم کے سیاسی قد کو اونچا کرنے کی بجائے نقصان ہی پہنچا رہا ہے۔ گلگت بلتستان میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی ملکر انتخاب لڑ رہی ہوتیں اور دونوں کو مولانا فضل الرحمان کا دست شفقت حاصل ہوتا تو انتخابی نتائج مختلف ہو سکتے تھے مگر پی ڈی ایم نے اپنی اتحادی فیوض وبرکات سے گلگت کی شاخوں اور کارکنوں کو محروم رکھنے میں ہی عافیت جان لی۔ اس طرح پیپلز پارٹی نے جس انہماک سے یہ الیکشن پی ٹی آئی کیخلاف لڑا اتنی ہی دلچسپی مسلم لیگ ن کے اپنے مدمقابل امیدواروں کو ہرانے میں دکھائی۔پی ٹی آئی نے صرف مسلم لیگ کے الیکٹبلز کو توڑا اور انتخابی نتائج نے اسے”گناہ بے لذت” ثابت کیا کیونکہ اس گروپ کے سب سے قدآور رکن اور سابق سپیکر فدامحمد ناشاد ہارنے والوں میں شامل ہیں اور باقی امیدوار بھی اپنی نشستیں برقرار نہ رکھ سکے۔ ان کی جگہ پی ٹی آئی کے پرانے کارکنوں اور پیپلزپارٹی، ن لیگ اور آزاد امیدواروں نے جیت اپنے نام کی۔ گلگت بلتستان کے انتخابات میں جوڑ توڑ کا جو حق ماضی کے وفاقی وزراء قمرالزمان کائرہ اور چوہدری برجیس طاہر نے استعمال کیا تھا اتنا ہی حق ان کے جانشین علی امین گنڈاپور نے بھی استعمال کیا۔ ماضی میں جو مشق مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی کی طرف سے کی جاتی تھی پی ٹی آئی نے بہت بچ بچا کر وہی مشق دہرائی اس میں خفیہ ہاتھ کی کارستانی کیا ہے؟ حد تو یہ پیپلزپارٹی کے امیدوار بعض مقامات پر یہ تاثر دیتے رہے کہ اسٹیبلشمنٹ کیساتھ بلاول کی خاموش مفاہمت کے بعد گلگت بلتستان اور آزادکشمیر میں پیپلزپارٹی کو واک اوور دینے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ ظاہر ہے گلگت بلتستان کے ماحول میں اس تاثر کا نقصان نہیں بلکہ فائدہ ہونا تھا اس لئے قیادت کی طرف سے اس موقف کی خاموش حوصلہ افزائی کی گئی۔
گلگت بلتستان میں مسلم لیگ ن کی شاخ اس وقت قائم ہوئی تھی جب پیپلزپارٹی کی حکومت نے2009میں گلگت بلتستان امپاورمنٹ آرڈر منظور کرکے اس علاقے میں وزیراعلیٰ کا عہدہ تخلیق دیا تھا اور اس علاقے میں مروجہ پارلیمانی انداز کے انتخابی عمل کا آغاز ہوا تھا اس لئے پی ٹی آئی کے دوسرے الیکشن میں معمولی برتری پر اپوزیشن کا چیں بہ جبیں ہونا عجیب ہے۔ بلاول کا اپنے اردگر د کارکنوں کی دھمالیں دیکھ کر اور نعرے سن کر خود کو یکطرفہ طور پر فاتح سمجھ لینا بھی خاصا عجیب رویہ ہے۔ مریم نواز نے گلگت بلتستان کی انتخابی مہم کو نوازشریف کے بیانئے کی تشہیر اور اسٹیبلشمنٹ کو چڑانے کیلئے استعمال کیا جو اپوزیشن جماعتیں گلگت میں متحد ہوکر الیکشن نہ لڑ سکیں اب متحد ہو کر دھاندلی کا منترا پڑھ رہے ہیں۔ یہ بے وقت کا مُکا ہے اور اسے کہاں مارا جائے وہ بخوبی جانتے ہیں۔ اتحاد ویگانت اور مولانا کی اطاعت کا جو مظاہرہ اب دھاندلی دھاندلی کے ذریعے کیا جا رہا ہے اگر الیکشن میں ہوتا تو پی ٹی آئی کیلئے نو سیٹیں جیتنا ممکن نہ ہوتا۔ اپوزیشن کے دونوں قائدین نے چائے کی پیالی پر اکٹھا ہونا تو پسند کیا مگر سیٹ ٹوسیٹ ایڈجسٹمنٹ کی راہ تلاش کرنے میں دلچسپی نہ لی۔ یہ وہی انداز ہے جو نوے کی دہائی میں پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ ن کیلئے اپنایا تھا۔ پیپلزپارٹی خود کو عوام کی واحد نمائندہ جماعت سمجھتی تھی اور صرف اپنی ہی جیت کو جیت مانتی تھی۔ اس کے خیال میں مسلم لیگ ن کنگز پارٹی تھی، مصنوعی جماعت تھی جس کی حیثیت اور ہستی کی حقیقت پنجاب سے تعلق رکھنے والی اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی کے سوا کچھ اور نہیں۔ عوام صرف پیپلزپارٹی کیساتھ ہیں اور عوام اسی پارٹی کا دوسرا نام ہے۔ اس مغالطے میں پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ ن کو سچ مچ کا خطرہ اور ایک حقیقی چیلنج بنا کر دم لیا۔ یہاں تک کہ بینظیر بھٹو شہید کو یہ حقیقت لندن جا کر عالم جلاوطنی میں میثاق جمہوریت کی صورت میں تسلیم کرنا پڑی جس حقیقت کا اعتراف سیاسی جماعتیں اپنے وطن میں نہ کر سکیں اسے ماننے کیلئے سات سمندر پار جانا پڑا۔ میثاق جمہوریت دونوں جماعتوں کیلئے زہرقاتل ثابت ہو کیونکہ ایک دوسرے کی مدمقابل جماعتوں کا یوں بہم شیر وشکر ہونا سیاست میں خلاء پیدا کرنے کا باعث بنا اور اس خلاء کو پی ٹی آئی نے پر کیا۔ اب مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی مل کر وہی غلطی دہرا رہی ہیں۔ وہ عمران خان کی سیاسی جدوجہد ان کی جماعت کی عوام کے ایک طبقے میں قبولیت کی حقیقت سے نظریں چرا رہی ہیں۔ ان کے خیال میں پی ٹی آئی کنگز پارٹی ہے جس کی حقیقت اسٹیبشلمنٹ کی حمایت سے زیادہ کچھ اور نہیں۔ عوام مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کیساتھ ہیں۔ یہی جماعتیں عوام ہیں اور عوام انہی دوجماعتوں کا دوسرا نام ہے، جیت صرف وہی ہوسکتی ہے جو ان جماعتوں کے حصے میں آئے اور اس کے سوا کوئی بھی جیت دھاندلی اور خفیہ ہاتھوں کی کارستانی ہوتی ہے۔ حقیقت کو تسلیم نہ کرنے کا یہ رویہ پی ٹی آئی کو حقیقی مدمقابل بنا کر دونوں جماعتوں کو ایک نئی مشکل کا شکار بنا سکتا ہے۔