گلگت بلتستان کے انتخابات’ کورونا اور تعلیمی ادارے

اس وقت وطن عزیز میں گلگت بلتستان کے انتخابات پر بحثیں جاری ہیں اور ہفتہ ڈیڑھ تک اخباری میڈیا اور عوام کے درمیان یہ سلسلہ جاری رہے گا اور پھر آہستہ آہستہ معاملہ مدھم پڑ جائے گا اور جی بی میں نئی حکومت وجود میں آجائے گی اور بلاول بھٹو اور مریم نواز وغیرہ اپنے دیگر اہم معاملات میںمشغول ہو جائیں گے کیونکہ دونوں کے والد گرامی بہت تکلیف میں ہیں۔ ایک طرف اُن کی صحت کے مسائل ہیں دوسری طرف نیب کے مسائل ہیں گویا، غم اور بھی ہیں زمانے میں محبت کے سوا۔ ہماری دعا ہے کہ گلگت بلتستان ایک مضبوط اور شہری حقوق سے بھرا پڑا صوبہ بن کر وہاں کے عوام کیلئے آج کی جدید سہولیات فراہم کرنے والا علاقہ بن جائے۔ جی بی کے عوام مبارک باد کے مستحق ہیں کہ اُنہوں نے پرامن انداز میں انتخابات میں اپنے ووٹ کا استعمال کیا اور اب ایک نئی حکومت ہوگی اور اُس کے سامنے نئے حالات کے مطابق جی بی کے آئینی معاملات اور عوام کے حقوق ہوں گے۔ اس میں شک نہیں کہ جی بی کے عوام غیور لوگ ہیں، انہوں نے قربانیاں دے کر ڈوگرہ راج کے مظالم سے اپنی عظیم الشان جدوجہد کے بل بوتے پر آزادی حاصل کی اور پاکستان کیساتھ الحاق کیا، یہاں ان انتخابات سے قبل پی پی پی اور ن لیگ کی پانچ پانچ سال حکومتیں رہی ہیں لیکن خدالگتی بات یہی ہے کہ بس حکومت ہی کی ہے اس غریب، دشوار گزار پہاڑی علاقے کے عوام کیلئے کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا۔ یہاں نہ کوئی ڈھنگ کے تعلیمی ادارے ہیں اور نہ ہی کوئی ہسپتال، یہاں کے دیہاتوں میں اب بھی ایسے لوگ اور علاقے ہیں جنہوں نے کبھی چارپہیوں والی گاڑی میں سفر نہیں کیا ہے۔ لوگ اب پھٹے پرانے جوتوں میںدشوار گزار پہاڑی راستوں پر سفر کرتے ہیں، روکھی سوکھی کھا کر اور پہاڑوں پر دستیاب قدرتی پودوں اور درختوں پر لگے پھلوں اور ساگ پات پر گزارہ کرتے ہیں اور یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جس طرح ہماری ان دوبڑی سیاسی جماعتوں کی طویل دور اقتدار میں جنوبی پنجاب اور اندرون سندھ کے دیہات بالخصوص تھر وغیرہ کے علاقے بنیادی شہری سہولیات سے محروم ہیں،جی بی بھی ان کے دس برس کی حکومتوں کے سبب کم ازکم شہری سہولیات سے اکیسویں صدی میں بھی محروم ہیں۔ اب پی ٹی آئی کی حکومت بنے گی، اگرچہ ن لیگ اور پی پی والے دھاندلی کا شور پہلے سے مچائے ہوئے ہیں لیکن بہرحال حکومت پی ٹی آئی ہی کی بنے گی اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ جی بی کے عوام اور انتخابی اُمیدوار بے چارے وفاق میںبرسراقتدار حکومت کے حمایت یافتہ اُمیدواروں کو ووٹ دیکر یہ اُمید رکھتے ہیں کہ اس طرح شاید ہمارے دن بھی بدل جائیں گے اگرچہ پی ٹی آئی گزشتہ ڈھائی برس سے وفاق میں برسراقتدار ہے اور مہنگائی کے ہاتھوں عوام بلبلا رہے ہیں لیکن پڑھے لکھے باشعور لوگ اب بھی عمران خان سے ایک اُمید اس بات پر استوار کئے رکھے ہیں کہ عمران خان بذات خود کرپٹ نہیں ہیں اور عوام کا درد سمجھتے اور محسوس کرتے ہیں لہٰذا اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ خدارا جی بی کی سٹریٹجک اہمیت کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان وہاں حکومت قائم کرنے کے بعد خصوصی پیکج کے ذریعے وہاں کے عوام کیلئے کم ازکم تعلیم، صحت اور روزگار کے حوالے سے فوری اقدامات وانتظامات کریںتاکہ ن لیگ اور پی پی والوں کے اعتراضات کا عوام کو عملی جواب مل سکے ورنہ یاد رکھنا ہوگا کہ انتخابات چار سال بعد پھر بھی ہوں گے۔اس وقت ملک میں کورونا ایک بار پھر اپنے وار تیز کئے ہوئے ہے۔گزشتہ روز وفاقی وصوبائی وزرائے تعلیم کے درمیان میٹنگ ہوئی کہ تعلیمی اداروں کو بندکیا جائے یا کھلارکھا جائے، فیصلہایک ہفتے کیلئے ملتوی کیا گیا اور 23نومبر کو دوبارہ غوروحوض کے بعد فیصلہ ہوگا۔ اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ بے شک جان بہت عزیز اورقیمتی متاع ہے جان ہے تو جہان ہے لیکن مغرب بالخصوص برطانیہ میں جہاں کورونا کے وار ہمارے ملک کی نسبت بہت تیز ہیں اُنہوں نے ابھی تک تعلیمی اداروں کو بند نہیں کیا ہے لہٰذا اُن سے سیکھتے ہوئے اور اُن کو دیکھتے ہوئے اگر فیصلے کئے جائیں تو مناسب ہوگا۔چھ مہینے تعلیمی ادارے بند رہنے سے بہت نقصان ہوچکا اب جبکہ خدا خدا کر کے کچھ تھوڑا بہت سلسلہ شروع ہوا ہے اگر دوبارہ تعلیمی ادارے بند ہوئے تو تعلیمی سال ضائع ہونے کا قوی امکان ہے کیونکہ دوتین مہینے بعد انتخابات شروع ہوں گے اس لئے کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ایس اوپیز پر سختی کیساتھ عمل درآمد کرایا جائے اور جن اساتذہ اور طلبہ کو کورونا ہوجائے اُن کو دس پندرہ دن قرنطینہ کیا جائے احتیاط اور تدبیر اور دعا سب ملا کر، اُٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے، پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے، ورنہ اساتذہ کی اکثریت تو سکول بند ہونے کیلئے دن گن رہے ہیں اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں والے کسی صورت بندش کے حق میں نہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ فیصلے ہوںجس میں ہم سب کی خیر ہو۔