ہم سب خانہ بدوش ہیں

چند خانہ بدوش قبیلوں پر یہ الزامات عائد ہوتے آ رہے ہیں کہ1990کی مسلح تحریک میں سرحد پار کرانے میں انہوں نے نوجوانوں کی مدد کی تھی، مگر ہندوستانی سیاسی جماعتوں نے انہیں ہمیشہ اپنے کھاتے میں محفوظ ووٹ بنک تصور کیا ہے۔پہاڑوں، بیابانوں اور جنگلوں میں گھومنے والے ان قبیلوں کی بہبود، تعلیم اور رہائش کے بارے میں کسی بھی سیاسی جماعت نے سنجیدگی سے کبھی نہیں سوچا۔ ان کی98فیصد آبادی ناخواندہ اور ملازمتوں سے محروم ہے مگر یہ محنتی، مذہبی اور اپنی مخصوص روایات کو عزیز رکھنے والے غیرت مند لوگ ہیں۔ یہ جہاں کہیں بھی جاتے ہیں اپنے پیچھے مٹی کے گھروندے چھوڑتے ہیں، پہاڑی جھرنوں سے پیاس بجھاتے ہیں، راہ چلتے چلتے بچوں کو جنم دیتے ہیں۔ دیسی خوراک پر انحصار ان کی تندرستی کا راز ہے۔ ایک دہائی قبل میں نے ان کے ساتھ تقریبا تین ماہ جنگلوں اور پہاڑوں پر چلتے چلتے گزارے تھے اور ان کے حالات زندگی پر بی بی سی سے مقبول ترین ڈاکومنٹری سیریز گھمانتو کے نام سے پیش کی تھی جس کے دوران میں ان کی سادگی سے انتہائی متاثر ہوئی۔جموں و کشمیر میں لاگو فاریسٹ ایکٹ کے تحت خانہ بدوشوں کو جنگلوں اور پہاڑوں پر عارضی سکونت اختیار کرنے کا حق حاصل تھا جہاں یہ مال مویشی پال کر اور کھیتی باڑی سے گزارہ کر لیتے تھے۔ یہ تقریبا چھ ماہ وادی کی جنگلوں میں رہنے کے بعد باقی چھ ماہ کے لیے جموں کا رخ کرتے ہیں۔
ریاست کو یونین ٹریٹری میں منتقل کرنے کے بعد سو سے زائد مرکزی قوانین کشمیر پر لاگو کیے گئے مگر فاریسٹ ایکٹ 2006 کو لاگو نہیں کیا گیا جس کی رو سے خانہ بدوشوں کو یہ سارے حقوق دوبارہ حاصل ہو سکتے ہیں مگر انہیں خدشہ ہے کہ وہ اس قانون میں ردوبدل کر کے ان کو ماحول بچانے کی آڑ میں مٹی کے بنائے ہوئے کوٹھوں سے بھی بے دخل کیا جائیگا۔ 2018 میں رسانہ کٹھوعہ میں سات برس کی بچی کی آبرو ریزی اور ہلاکت کے بعد ان کو ہراساں کرنا، جموں سے نکالنا اور جنگلوں میں عارضی مسکن بنانے سے روکنا اس منظم کاروائی کا سلسلہ تصور کیا جاتا ہے جو خطے میں مسلمانوں کو اپنی زمین اور جائدادوں سے بے دخل کرنے کا بی جے پی کا منصوبہ ہے جس کی شروعات پانچ اگست2019 کے اندرونی خودمختاری ختم کرنے کے مرکزی فیصلے سے بھی پہلے ہوئی ہے۔
جموں میں مسلمان انتہائی خوفزدہ ہیں جو برصغیر کے بٹوارے کے دوران 47کی اس خون ریزی کو اب تک نہیں بھولے۔ بعض خبروں کے مطابق جن سنگھیوں اور مہاراجہ کی ڈوگرہ فوج نے تین سے پانچ لاکھ مسلمانوں کو قتل اور لاکھوں کو گھر بار چھوڑ کر سرحد پار کرنے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ سرکار کے ایک تخمینے کے مطابق 21 ہزار کنال اراضی کو ملکیتی حقوق دینے سے 25 ہزار کروڑ کا سرمایہ حاصل ہو سکتا تھا مگرشواہد بتا رہے ہیں کہ اس کا فائدہ غریبوں کے بجائے با اثر سیاست دانوں، تاجروں اور افسروں نے اٹھایا جن کی فہرست موجودہ حکومت نے تیار کی ہے۔ چند ہفتے قبل جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے روشنی ایکٹ کو ناجائز اور غیر آئینی اقدام قرار دے کر اس کی مرکزی ادارے سی بی آئی سے تحقیقات کرانے کا حکم دیا ہے۔ فیصلے کے فورا بعد جموں کے مسلم اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں بیشتر تعمیرات کو منہدم کرنا شروع کر دیا گیا جس کی مذمت کرتے ہوے مین سٹریم رہنماں نے الزام لگایا کہ اس کے پیچھے کشمیری مسلمانوں کو اپنی جائیداد سے بے دخل کرنے کا بی جے پی کامنصوبہ ہے۔ رسانہ ریپ کیس کے وسل بلور اور انسانی حقوق کے کارکن طالب حسین اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں، جموں میں بی جے پی نے کافی عرصے سے ایک منظم سازش کے تحت مسلمانوں کے خلاف مہم شروع کی ہے مگر جموں میں انہیں کوئی مسلمان نہیں ملتا جس پر یہ تشدد کر کے تشہیر کرتے۔ گو کبھی کبھار کسی کشمیری ٹرک ڈرائیور یا مزدور کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ ان کیخلاف نفرت پھیلانے، انہیں مویشی چرانے کا الزام لگانے اور جنگل کی زمینوں پر ناجائز قبضہ کرنے جیسی باتیں پھیلا کر ان کو جموں کے ڈوگروں میں مشکوک بنا دیا گیا ہے۔ اس کی کڑی رسانہ ریپ سے ملتی ہے جب ایکتا منچ اور بی جے پی کے وزرا نے ریپ کے مجرموں کے حق میں جلوس نکالے تھے۔ جب ہندوستان کے22کروڑ مسلمانوں سے شہریت چھیننے کی کارروائی کی جارہی ہے تو بے چارے یہ غریب اور نادار گجروں کی کیا اوقات جن کے دفاع کیلئے قانون کے ادارے بھی بی جے پی کی زبان بولتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ کشمیر میں ہر طبقے، فرقے یا نسل سے وابستہ افراد بی جے پی کی ہندوتوا پالیسی کا ہدف ہیں اور خطے کا مسلم کردار ختم کرنے کے مربوط پروگرام پر کام سرعت سے جاری ہے، کشمیر کی شاداب وادیوں میں ایک سو سے زائد میگا صنعتی منصوبوں کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔ عنقریب وہ دن آئے گا جب کشمیر انبانیوں اور اڈانیوں کی جاگیر ہو گی جب کہ بے گھرکشمیری اپنے ہی باغات میں یومیہ اُجرت پر کام کرتے نظر آئیں گے۔