یکے بعد دیگرے دو افسوسناک واقعات

پشاور کے علاقہ بڈھ بیر میں8سالہ کمسن بچی کو قتل کر کے یا آگ لگا کر جھلسا کر ماردینے کا دلخراش واقعہ سخت اضطراب کا باعث عمل ہے۔ بڈ ھ بیر پولیس سٹیشن کی حدود بالو خیل میں ایک روز قبل پراسرار طور پر لاپتہ ہو نے والی8سالہ بچی کی جلی ہوئی لاش برآ مد ہوئی۔ پولیس نے ایس ایس پی انو سٹی گیشن کی سر براہی میں تحقیقا تی ٹیم تشکیل دیدی ہے جبکہ متاثرہ خا ندان نے جلائی ہو ئی بچی کی نعش کو کوہاٹ روڈ پر رکھ کراحتجا جی مظاہرہ کیا ۔دریں اثناء وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ایک انسانیت سوز اور دل دہلا دینے والا واقعہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ انہوںنے کہا ہے کہ اس واقعے کے مرتکب افراد انسان کہلانے کے بھی لائق نہیں، وہ قانون کی گرفت سے کسی صورت بچ نہیں سکتے او ر اُنہیں عبرتناک سزاد ی جائے گی۔ متاثرہ خاندان سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ مجرمان کو ہر صورت کیفرکردار تک پہنچایا جائے گااور بچی کے والدین کو ہر صورت انصاف ملے گا۔ یکے بعد دیگرے ایک ہی علاقے سے دو تین دن کے وقفے سے دو بچوں کا قتل کس قدر غم وغصے اور احتجاج کا باعث امر ہے، یہ کسی درددل رکھنے والے کو بتانے کی ضرورت نہیں۔ یہ ایک ایسا گھنائونا فعل اور جرم ہے جس کی کوئی برادری، کوئی سیاسی جماعت اور کوئی بھی گروہ یہاں تک کہ قاتل یا قاتلوں کے والدین اور اہل خانہ بھی اس قبیح وشنیع جرم سے پناہ مانگتے ہوں گے۔ اس گھنائونے فعل پر لوگوں کا احتجاج قہردرویش برجان درویش کے بمثل امر ہے کہ لوگ اپنے جذبات کے اظہار کیلئے خود کو اور دوسروں کو تکلیف دینے پر تیار ہو جاتے ہیں اور سڑکیں بند کرکے بیٹھ جاتے ہیں اور کوئی جرم ہو تو پولیس اور حکومت پر الزام دھرنے کی گنجائش ہوتی ہے۔ پولیس پر ملزموں کی پشت پناہی کا الزام لگایا جا سکتا ہے حکومت کو ناکام قرار دیا جاسکتا ہے مگر یہاں اس کی بھی گنجائش نہیں، وزیراعلیٰ بھی کسی بیٹی کے باپ اور درد دل رکھنے والے انسان اور مسلمان ہیں، آئی جی کے گھر میں بھی بیٹیاں ہیں، علاقہ ایس پی اور ایس ایچ او بھی بچیوں والے ہیں، اگر کوئی بدبخت درندہ ہے تو صرف وہی جو مرتکب قتل وگناہ ہے باقی سارے لوگ ایک طرف ہیں۔ اس معاشرے میں ایسے درندے پیدا ہوگئے ہیں کہ کاش کسی کو ان پر شک گزرے تو اس دنیا میں اس کا آخری دن ہو لیکن سب ہم جیسے لوگ ہیں ایک ہی طرح کے، پھر کسی کو کیا حق ہے کہ دوسرے کو غلط سمجھے۔ اس قسم کی غلیظ ذہنیت کے لوگ جب واردات کر بیٹھتے ہیں، جب جرم کا ارتکاب ہو چکا ہوتا ہے اس کے بعد ہی حکومت اور قانون کی ذمہ داری شروع ہوتی ہے کہ وہ ان کو کیفرکردار تک پہنچانے کیلئے ہرقسم کے وسائل بروئے کار لائے۔ اس طرح کی وارداتوں کے ملزم بچ بھی جاتے ہیں اور ان کی گرفتاری وکیفر کردار تک پہنچانے کا امکان بھی ہوتا ہے۔ گزشتہ روز ہی اس طرح کے ایک مجرم کو عدالت نے تین بار موت کی سزاسنائی ہے، اسی طرح کے مجرموں کو سزائے موت اور سرعام پھانسی کی سزاء اور لاش کو کسی معروف چوراہے پر دن بھر لٹکائے رکھنے کی ضرورت ہے لیکن مصلحت اور کچھ بیرونی دبائو کے باعث ایسا ممکن نہیں ہوتا حالانکہ اگر رائے پوچھی جائے تو وزیراعلیٰ سے لیکر آئی جی اور ہم سب اس طرح کی سزاء کے متمنی نکلیں گے اور عبرتناک اور سرعام سزاء ہی کو بہتر حل خیال کریں گے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے جذبات اور آئی جی کا متاثرہ بچی کے والد سے رابطہ کی صورت میں جو صورتحال سامنے آئی ہے حکمرانوں کے پاس اس سے زیادہ اس مسئلے کا کوئی حل نہیں، زیادہ سے زیادہ سخت سے سخت سزائوں کا قانون منظور کر کے اس پر عملدرآمد کی کسر باقی رہ جاتی ہے۔ تازہ واقعے میں سفاک ملزموں نے بچی کی لاش کو جلا کر ثبوت مٹانے کی ہوشیاری ضرور دکھائی گئی ہے لیکن اس کے باوجود ہمیں توقع ہے کہ پولیس کو کوئی نہ کوئی سراغ ضرور ملے گا، معصوم کا لہو پکاراُٹھے گا اور ایک نہ ایک دن اس ملزم یا ملزموں کو بھی تین تین بار موت کی سزا ضرور ملے گی، اس طرح کے ملزموں کیلئے اس دنیا کی سزاء کا تذکرہ ہی فضول ہے، اگر اُس دنیا کی سزاء کا نہ صرف اِن کو بلکہ ہم سب کو صحیح معنوں میں ادراک اور احساس ہو جائے تو کوئی کسی کی ذرا بھی حق تلفی نہ کرے۔ علاقہ کے لوگوں کی جانب سے سخت جذبات کا اظہار فطری امر ہے اس کیساتھ ساتھ اب یہ بھی ان کی ذمہ داری ہے کہ ان میں سے جس کسی نے جو کچھ بھی دیکھا اور وہ درست یا غلطی ہی سے سمجھتے ہیں کہ شک کی گنجائش نکلتی ہے تو ان کو پولیس اور تفتیشی ٹیم سے ضرور اس کا ذکر کرنا چاہئے تاکہ تحقیقات کا عمل وسیع ہو اور ملزم یا ملزموں تک پہنچا جا سکے۔