بلدیاتی انتخابات سے فرار اصل حقائقl l

جیسا کہ گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ جنرل ضیاء الحق کی حکمت عملی کامیاب رہی کیونکہ سیاسی قیادت نے ان کے بچھائے ہوئے جال میں آکر انتخابات کا بائیکاٹ کردیا اور یہی تو ضیاء الحق کا مطمح نظر تھا تاہم اس چالاک شخص نے ایک اور چال چلی اور نہ صرف یہ کہ انتخابات تو غیر جماعتی بنیادوں پر کرائے مگر اسی غیر جماعتی اسمبلی کی کوکھ سے مسلم لیگ برآمد کرلی اور پھر مرحوم محمد خان جونیجو کو مسلم لیگ کا سربراہ بنا کر ملک پر بطور وزیراعظم مسلط کیا تاہم جونیجو مرحوم نے بھی انہیں اس وقت حیران کردیا جب انہوں نے ملک سے مارشل لاء کے اختتام اور جماعتی سیاست کو با قاعد ہ اجازت دینے کیلئے ضیاء الحق پر دبائو ڈالا اس سے پہلے البتہ ضیاء الحق نے ایک عجیب وغریب ریفرنڈم کے ذریعے خود کو ملک کا با قاعدہ صدر قرار دلوایا،محولہ ریفرنڈم میں عوام سے ایک ہی سوال پوچھا گیا تھا کہ کیا آپ اس ملک میںاسلامی نظام کا نفاذ چاہتے ہیں ،جواب ہاں یا ناں میں تھا ظاہر ہے کون مسلمان اس سوال کو رد کرسکتا تھا؟اور ہاں کی صورت میں آپ یعنی ووٹ ڈالنے والوں نے تسلیم کرنا تھا کہ ان کی ہاں سے ضیاء الحق ملک کا منتخب صدر ہوتا یہ الگ بات ہے کہ اس ریفرنڈم کے سرکاری نتائج98فیصد ہاں قرار دیتے ہوئے ضیا ء الحق کو”منتخب صدر”قرار دیا گیا تاہم حقیقت یہ تھی کہ بہ مشکل چارفیصد عوام نے اس ریفرنڈم میںحصہ لیا تھا یعنی عوامی سطح پر مکمل بائیکاٹ کر کے ضیاء الحق کی آمریت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا۔اس بات کی گواہی کیلئے مجھے دور جانے کی ضرورت بھی نہیں کہ خود میں نے ریڈیو پاکستان کیلئے اس ریفرنڈم کی کوریج کی تھی اور مردان میں سارا دن گھومتے ہوئے پولنگ سٹیشنوں پر ہو کا عالم اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا یہی صورتحال ملک بھر میں تھی بہرحال جیسا کہ گزشتہ کالم میں بھی عرض کیا تھا کہ ضیاء الحق نے اپنے غیر جماعتی انتخابات کے تحت اسمبلیوں میں پہنچنے والے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ممبران کو عملاً بلدیاتی نمائندے بناکر رکھ دیا تھا۔ان کو قانون سازی کم اور گلیوں، نالیوں،سڑکوں کی تعمیر کیلئے صوابدیدی فنڈز دے کر جلب زر کی ایک نئی شکل دریافت کی ،جس کے بعد ملک میں بلدیاتی انتخابات کی ضرورت نہیں رہی اور جب ضیاء الحق ایک فضائی حادثے میں رخصت ہوئے تو ایک بار پھر ملک میں جماعتی بنیادوں پر انتخابات کا انعقاد ممکن ہوسکا،مگر فنڈز کی جو”لت”ضیاء الحق نے سیاست کے جسم میں انجیکٹ کی تھی اس سے جان نہیں چھوٹ سکی اس لئے بعد میں آنے والی حکومتوں کے ادوار میںبلدیاتی اداروں کو اسمبلیوںکا ”سوکن”سمجھتے ہوئے بلدیاتی انتخابا ت سے ہر طرح فرار کی کوششیں کی گئیں کیونکہ بلدیاتی مسائل کے حل کیلئے ظاہر ہے فنڈز ان اداروں کو مہیا کرنا لازم تھے اور محترمہ بے نظیر بھٹو نے اسی سوچ کو اپناتے ہوئے جب اسمبلی ممبران کے صوابدیدی فنڈز پر قدغن لگائی تو ہر طرف سے ہاہا کار مچی اور انہیں اس قدر سیاسی دبائو کا سامنا کرنا پڑا کہ ممبران اسمبلی کے فنڈز پر لگائی گئی پابندیاں اٹھانا پڑیں،تاہم بلدیاتی اداروں کے انتخابات کا ڈول بھی ڈالنا پڑا،لیکن کسی صوبے میں بلدیاتی انتخابات منعقد ہوئے تو کہیں اس سے فرار کی راہ ڈھونڈنے کی کوششیں پوری کی گئیں کہ ہر صوبے میں اپنے اپنے طرز کے بلدیاتی اداروں کی تشکیل کیلئے قوانین بنانے کو طول دیکر صوبائی اسمبلیوں میں بحث مباحثے کی آڑ میں جان چھڑانے کی کوششیں کی گئیں یہاں تک کہ جنرل مشرف نے اقتدار پر قبضہ کر کے پورے ملک میں ایک ہی طرز کے بلدیاتی نظام کو رائج کیا اور جیسا کہ گزارش کرچکا ہوں کہ انہوں نے بھی اپنے بلدیاتی نظام کو اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے استعمال کرنے کی سوچ اپنائی تھی مگر سیاسی دبائو اس قدر شدید تھا کہ وہ بلدیاتی نظام کی آڑ لینے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ سب سے اہم نکتہ یہ تھا کہ ہر یونین کونسل کیلئے پورے پورے پینل ترتیب دیتے ہوئے یہ عجیب وغریب شرط عائد کی گئی تھی کہ چیئرمین اور وائس چیئر مین جیسے عہدوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا گیا تھا یعنی دونوں کو ایک ہی ووٹ پڑتا تو دونوں کامیاب قرار پاتے ،چاہے ان میں سے ایک پر ووٹروں کو اتفاق اور دوسرے پر ناپسندیدگی ہوتی مگر اپنے پسندیدہ فرد کوووٹ دینے سے جو ناپسندیدہ یا جس کو آپ منتخب کرنا ہی نہیں چاہتے تھے وہ بھی آپ کی خواہش کے برعکس منتخب ہوجاتا،یہ ایک عجیب صورتحال تھی اور انفرادی انتخاب کی نفی تھی اسی طرح مزدور اور کسان کے نام پر نہ صرف مرد بلکہ خواتین امیدواروں کو بھی نمائندگی دی گئی یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہمارے معاشرے میں بے چارے کسان اور مزدور کو(انتہائی معذرت کے ساتھ) سرے سے انسان ہی نہیں سمجھا جاتا تو انہیں ووٹ کون دیگا انہیں رزق کے لالے پڑے ہوتے ہیں تو انتخابی اخراجات برداشت کرنے کی سکت کہاں رکھ سکتے ہیں یوں ان عہدوں کے نام پر بھی کھلواڑ کیا جاتا ہے ۔خاص طور پر جب ماسوائے چیئر مین اور نائب چیئرمین کیلئے معمولی معاوضے کے باقی کسی کونسلر کیلئے کوئی ماہانہ معاوضہ یا وظیفہ تک مقرر نہیں تو ایک کسان اور مزدور(مردوخواتین) کواپنے لئے حصول رزق کے حصول کو چھوڑ کر”عوام”کی خدمت بلا معاوضہ پر کیونکر آمادہ کیا جاسکتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہم ایسے کئی لوگوں کو جانتے ہیں جو سرکاری ٹھیکوں میں اپنا”جائز” حصہ وصول کرنے پر مجبور تھے،ایسے بھی ہیں جنہیں ان کا ”حصہ”دیا گیا تو انہوں نے لینے سے معذرت کی گویا اچھے اور ۔۔۔۔ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔جنرل مشرف کے رخصت ہونے کے بعد اقتدار میں آنے والی سیاسی جماعتوں نے ایک بار پھر بلدیاتی اداروں کے انتخابات کی راہ میں مختلف حیلوں بہانوں سے روڑے اٹکانے شروع کررکھے ہیں اور صوبائی حکومتوں کی شعوری کوشش بلدیاتی انتخابات سے مفر کی راہیں ڈھونڈ نا ہی رہ گیا ہے اس کی دیگر وجوہات تو جو بھی ہوں وہ اپنی جگہ مگر سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان مقتدر حکومتوں نے عوام کی کوئی خدمت نہیں کی اس لئے انہیں یہ خوف دامنگیر ہے کہ اگر انہوں نے بلدیاتی انتخابات کرائے تو عوام مخالف سیاسی جماعتوں کوووٹ دیکر ان کی”خدمات”کا بھانڈہ پھوڑسکتے ہیں بہرحال اب یہ معاملہ سپریم کورٹ کے پاس ہے سو دیکھتے ہیں کہ کورٹ میں شنوائی کے دوران کیا احکامات سامنے آتے ہیں۔
مرے خدا کہیں کوئی جزیرہ میرے لئے
میں تھک گیا ہوں سمندر کو پار کرتے ہوئے