قرض کی واپسی کا مطالبہ

2018ء کے انتخابات میں کامیابی کے نتیجے میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی تو معیشت کو سہارا دینے کیلئے برادر اسلامی ممالک یو اے ای اور سعودی عرب کی طرف سے تعاون کیا گیا ،دونوں ملکوں نے مجموعی طور پر پانچ ارب ڈالر سٹیٹ بنک آف پاکستان میں رکھوائے تھے ،پاکستان اس رقم میں سے سعودی عرب کو ایک ارب ڈالر واپس کر چکا ہے جبکہ دو ارب ڈالر اب بھی سٹیٹ بنک کے پاس موجود ہیں۔دوسری طرف متحدہ عرب امارات نے پاکستان کو دو ارب ڈالر فراہم کیے تھے جو رواں سال جنوری اور فروری میں دو اقساط کی صورت سٹیٹ بنک آف پاکستان کو موصول ہوئے تھے اور ان کی واپسی اگلے سال کے اوائل میں کی جانی ہے۔سٹیٹ بنک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق23 اکتوبر 2020ء تک اس کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر 12.12 ارب ڈالر تھے۔پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی کے تحت چھ ارب ڈالر کا معاہدہ بھی کر رکھا ہے جس کی شرائط میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین سے حاصل کی گئیں مالی امداد کو ری شیڈول کروانا بھی شامل ہے لہٰذا اس معاہدے سے انحراف آئی ایم ایف پروگرام کو مزید التواء میں ڈال سکتا ہے۔ پاکستان کو نومبر سے فروری تک کے عرصے میں دونوں ملکوں کے دو، دو ارب ڈالر واپس کرنے ہیں۔ خارجہ امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے او آئی سی کے کردار پر دیا گیا بیان متحدہ عرب امارات اور سعودی حکام کو ہضم نہیں ہوا ہے اسی لئے انہوں نے پاکستان کے قرضوں کو ری شیڈول نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات نے پاکستانیوں کے لیے سیاحت کے لیے ویزہ اور ورک پرمٹ دونوں روک دیئے ہیں، اگرچہ سرکاری طور پر یہی کہا جا رہا ہے کہ یو اے ای نے کورونا کے باعث 12 ممالک کے ویزوں پر پابندی عائد کی ہے تاہم معاملہ اتنا سادہ نظر نہیں آ رہا کیونکہ بھارت میں پاکستان سے کہیں زیادہ کورونا پھیلا ہوا ہے لیکن ان کے ورک پرمٹ نہیں روکے گئے، کہا جا رہا ہے کہ یہ سب سعودی ناراضی کا نتیجہ ہے کیونکہ سعودی عرب نے پاکستان پر کوئی دباؤ ڈالنا ہو یا ناراضگی کا اظہار کرنا ہو تو وہ خود براہ راست ایسا نہیں کرتا بلکہ یو اے ای کو سامنے کر دیتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ ایران، ترکی اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں ایک نفیس توازن قائم رکھا ہوا تھا جسے موجودہ دور میں برقرار نہیں رکھا جا سکا ہے۔ ترکی میں جمال خشوگی کے قتل کے بعد شہزادہ محمد بن سلمان اور طیب ایردوان کے درمیان تعلقات خراب ہو گئے تھے، وزیر اعظم عمران خان کا چونکہ زیادہ جھکاؤ طیب ایردوان کی طرف ہے تو اس وجہ سے پاکستان کے تعلقات بھی سعودی عرب سے متاثر ہوئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستانی کابینہ میں بعض ایسے وزراء ہیں جن پر سعودی عرب کو اعتراض ہے کیونکہ انہیں ایران نواز سمجھا جاتا ہے، یہ وزیر اعظم عمران خان اور سعودی ولی عہد کے درمیان دوری پیدا ہونے کی دوسری وجہ بنی ہے ۔وزیر اعظم عمران خان سعودی عرب کے دورے پر زلفی بخاری کو ساتھ لے گئے جنہیں ایرانی کیمپ کا حصہ سمجھا جاتا ہے، اس بات کو بھی سعودی عرب نے پسند نہیں کیا۔یہ وہ باتیں ہیں جو دونوں ممالک کے تعلقات میں خرابی کا باعث بن رہی ہیں۔ جب شاہ محمود قریشی نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں او آئی سی کے کردار پر سوالات اٹھائے تو اس کے بعد معاملات مزید بگاڑ کی طرف چلے گئے۔اس پس منظر کے بعد وزیراعظم عمران خان کو فکر دامن گیر ہے کہ سعودی عرب میں لاکھوں مزدوروں کا مستقبل کیا ہو گا کیونکہ سعودی عرب اور یو اے ای میں رہنے والے پاکستانی9 ارب ڈالرز سالانہ کی ترسیلات زر پاکستان بھیجتے ہیں، اگر ان پاکستانیوں کو وہاں سے واپس بھیج دیا جائے تو ایک بڑا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔صرف یہی نہیں پاکستان نے ایرانی وزیر خارجہ کو دورے کی دعوت دے کر مزید خرابی پیدا کر دی ہے ۔ ایرانی وزیر خارجہ کی ملاقات آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیراعظم عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے ساتھ ہوئی اور انہیں بھرپور پروٹوکول دیا گیا۔ اس دورے نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ اب دونوں ممالک کے معاملات میں خرابی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے، پاکستان کی طرف سے ایران، ترکی اور چین کے بلاک کا حصہ بننے کے بعد اگر خلیجی ممالک سے پاکستانیوں کو واپس بھیج دیا جاتا ہے تو ہماری معیشت بھی بری طرح متاثر ہو گی اور ملک کے اندر بے روزگاری بھی بڑھے گی۔ معلونا ہونا چاہئے کہ ملکوں کے تعلقات مفادات کی بنیاد پر ہی قائم رہ سکتے ہیں، ہمیں کسی کی بیساکھیوں کا سہارا تلاش کرنے کی بجائے اپنے وسائل کو سامنے رکھ کر دیرپا پالیسی ترتیب دینے کی ضرورت ہے، جس طرح چین، ملائشیا اور ترکی نے اپنی پالیسی ترتیب دی ہے، گزشتہ چند سالوں میں ترکی کے خلاف ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کئے گئے لیکن معیشت مضبوط ہونے کی وجہ سے اس کا اس قدر نقصان نہیں ہوا کہ اسے اپنے ملکی مفاد کو پس پشت ڈال کر سمجھوتہ کرنا پڑے، ہمیں بھی دور جانے کی بجائے خطے کے ممالک کے ساتھ روابط کو وسعت دینے کے حوالے سے غور وخوض کرنا چاہئے۔