کوروناکی تباہ کاریاں اور ہمارے قومی رویے

دنیا کے بیشتر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی کورونا کی تباہ کاریاں جاری ہیں، گزشتہ تین ہفتوں میں اموات اور متاثرین کی شرح میں تقریبا تین گنا اضافہ دیکھنے میںآیا ہے۔ اگر یہ شرح ہماری بے اختیا طی کی وجہ سے یوں بے لگا م ہوتی رہی تو اسکے خطرناک نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ ہم ایک طرف میڈیا کے زریعے مسلسل اپنی قوم کو احتیاطی تدابیر اپنانے پراکسا رہے ہیں لیکن دوسری طرف قوم کے رہنما خود ان ہدایات کو ہوا میں اڑارہے ہیں جوبحیثیت مجموعی ہماری قومی صحت کو بری طرح متاثر کرسکتا ہے۔ایک طرف مملکت خداداد میں کورونا کی وبااپنے پنجے گاڑ رہی ہے اور دوسری طرف سیاسی قائدین عوام کو سماجی فاصلہ رکھنے کی بجائے اپنے جلسے جلوسوں میں شرکت کی تلقین کرتے نظرآتے ہیں۔ حال ہی میں گلگت بلتستان میں سیا سی سرگرمیاں اپنے عروج پر تھیں اور تینوں بڑی سیاسی پارٹیوں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان تحریک انصاف کے قائدین علاقے میں ڈیرے جمائے بیٹھے تھے۔ اس مہینے کی 22 تاریخ کو پشاور میں پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ کے زیر اہتمام جلسہ کیلئے بھر پور تیاریاں جاری ہیں جسکے آٹھ دن بعد ملتان اور پھر13 دسمبر کو لاہور میں حکومت مخالف جلسے ہونگے اور حزب اختلاف کی گیارہ جماعتوں پرمشتمل پوری سیاسی قیادت عوامی طاقت کا مظاہرہ کریگی۔ سیاسی پارٹیاں عوام میںشعور اجاگر کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہوا کرتی ہیں۔ ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں حکومت کے شانہ بشانہ کھڑی ہوکر عوام کی رہنمائی کریگی لیکن نہ جانے وہی رہنما عوام کواپنے جلسے جلوسوںکی زینت بنا کر انکی صحت سے کیا کھلواڑ کھیلنا چاہتے ہیں؟ یہ واقعی اس ملک کے عوام کیلئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ سیاست میں ایک دوسرے پر تنقید کرنا زرخیز جمہوری معاشروںکی پہچان ہواکرتی ہے کیونکہ اختلاف رائے معاشرے کا حسن ہے جس سے معاشرے میں ایک طرف صبر و تحمل اور برداشت کے جذبات فروغ پاتے ہیں تو دوسری طرف جمہوری رویے پروان چڑھتے ہیں لیکن حالات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے سیاسی رہنمائوں کو اپنی انا اور سیاسی مفادات کو قومی مفادپر مقدم رکھنا چاہیے۔ حکومت نے سپیکر قومی اسمبلی کے زریعے متحدہ اپوزیشن کو جلسے نہ کرنے کی درخواست کی لیکن اپوزیشن رہنمائوں نے یہ کہہ کر اس درخواست کو مسترد کردیا کہ وہ حکومت کو جنوری2021سے پہلے ہر صورت گراکر ہی دم لیں گے۔ دوسری طرف تاجر برادری نے بھی تجارتی سرگرمیوں پر کسی قسم کی پابندی کو نامنطور کرتے ہوئے احتجاج کی دھمکی دی ہے۔تعلیمی اداروں اور خصوصاً نجی تعلیمی اداروں کے مالکان اور منتظمین نے بھی تعلیمی اداروںکی بندش کے حوالے سے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔انکو بچوں کی صحت سے زیادہ اپنی فیسوں کا غم کھائے جارہا ہے۔ شادی ہال اور ریسٹورینٹس مالکان اور تنظیموں کی جانب سے بھی کم و بیش اسی قسم کا موقف سامنے آیا ہے لیکن جان ہے تو جہان ہے۔اس وقت پوری دنیا میں ایک اضطرابی کیفیت ہے کہ کس طرح اس برق رفتاری سے پھیلتے ہوئے جرثومے کا راستہ روک کر انسانیت کو اس عذاب سے چھٹکارا دلایا جاسکے۔کورونا وائرس کے خلاف اس جنگ میں پاکستان بھی دنیا کے ساتھ پوری قوت کے ساتھ کھڑا ہے۔ گو کہ پوری دنیا کی طرح پاکستان کے عوام کیلئے یہ ایک مشکل گھڑی ضرور ہے لیکن اس موذی وائرس کے خلاف جنگ جیتنا نا ممکن نہیں ہے بشرطیکہ ہم اپنے رویوں میں مثبت تبدیلی لے آئیں۔ قوموں کی زندگیوں میں ایسے حالات ضرور آتے ہیں لیکن گھبرانے کی بجائے اسکا مردانہ وار مقابلہ کرنا ہی قوموں کی طاقت اور شناخت کی دلیل ہواکرتا ہے۔ مملکت خداداد کیلئے یہ کوئی پہلا اور نیا چیلنج نہیں ہے بلکہ پاکستان کی پوری تاریخ ایسی آزمائشوں سے بھری پڑی ہے زلزلے ہوںیا سیلاب کی تباہ کاریاں، دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا وبائی امراض کے پھیلتے منحوس سائے، پاکستانی قوم نے ان چیلنجز کابہادری سے مقابلہ کیا ہے۔ آج ہمیں ایک بار پھر اسی قوت کے ساتھ اتحاد واتفاق ، ملی یگانگت اور قومی یک جہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور ملک کے ہر شہری کوکورونا وائرس کے خلاف اس جنگ میں بھرپور طریقے سے اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔اس کے لئے ہمیں اس وقت کا انتظار نہیں کرنا چاہیے جب تک خدا نخواستہ ہمارا کوئی عزیز ، رشتہ دار اس جان لیوا وائرس کی بھینٹ چڑھ جائے۔ حضورۖ کی سیرت طیبہ پر نظر ڈالنے سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے بھی ایسے حالات میں احتیاطی تدابیر پر زور دیاہے کیونکہ اسلام میں جان ومال اور اولاد کی حفاظت انسان کا فرض اولین ہے۔ اس لئے ہمارے اوپر لازم ہے کہ ہم اپنے قومی رویوں میں تبدیلی لائیںحکومت کی طرف سے دیئے جانے والے احکامات کو ہوا میں نہ اڑائیں بلکہ ان احکامات پر پوری طرح سے عمل کرکے حکومت کا ساتھ دیں۔احتیاط اور صرف احتیاط ہی اس وائرس کے خلاف جنگ جیتنے کا واحد حل ہے۔ہمیں یقین ہے کہ ہم اپنی قوت ایمانی اور مثبت سماجی رویوں کے ساتھ اس جنگ کے خلاف میدان میں اتریں گے تو انشاء اللہ فتح ہماری ہی ہوگی۔