پشاور میں ماحولیاتی آلودگی سے بچاؤ کے لیے دفعہ 144 نافذ

ویب ڈیسک (پشاور)وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے معدنیات عارف احمدزئی اور ترجمان خیبرپختونخوا حکومت کامران بنگش کا پریس کانفرنس سے خطاب ،پریس کانفرانس کے دوران محکمہ معدنیات کی دو سالہ کارکردگی پر میڈیا کو بریف کیا گیا،پریس بریفنگ میں مشیر انفارمیشن ٹیکنالوجی ضیا اللہ بنگش، سیکرٹری معدنیات، ڈائریکٹر جنرل سمیت دیگر اعلی حکام نے شرکت کی ۔ترجمان خیبرپختونخوا حکومت کامران بنگش کا کہنا تھا کہ وزیراعلی محمود خان کی قیادت میں صوبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

اصلاحات کے نتیجے میں ہر محکمے کی کارکردگی بہتر ہو رہی ہے۔ پریس کانفرنس کے دوروان معاون معدنیات عارف احمدزئی کا کہنا تھا کہ میں آمدن محکمہ معدنیات میں اضافے اور بے روزگاری کے خاتمے کے حوالے سے کافی صلاحیت ہے۔ دسمبر 2019 میں خیبرپختونخوا مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2017 میں 50 ترامیم ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کے معدنی وسائل کے متعلق بھی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ ضم شدہ اضلاع میں معدنی وسائل پر تنازعات کے خاتمے کے لیے مصالحتی کمیٹی بنائی گئی۔ ضم شدہ اضلاع کے 66 نئی سیٹیں تخلیق کی گئی ہیں۔

ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی لیز ہولڈرز اور مقامی قبائل کے درمیان مسائل حل کے لیے کام کرتی ہے۔ کان کنی اور معدنیات کی تلاش کے لیے جوائنٹ وینچر متعارف کر دیا گیا۔ جوائنٹ وینچر کا مقصد سرمایہ کاری راغب کرنے کرنا ہے۔ عارف احمدزئی کا کہنا تھا کہ اصلاحات کے نتیجے میں ماربل اور گرینائٹ کے ذخائر میں بارودی مواد کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی۔ بارودی مواد کے استعمال پر پابندی سے ماربل اور گرینائٹ کے قیمتی ذخائر محفوظ رہیں گے۔ خیبرپختونخوا ایکسائز ڈیوٹی آن منرلز ایکٹ 2020 کابینہ سے منظور کر چکے ہیں۔ ایکسائز ڈیوٹی آن منرلز ایکٹ 2020 صوبائی اسمبلی بھجوا دیا گیا ہے۔ معدنی وسائل کے متعلق عارضی اجازت نامے کے اصول کابینہ نے منظور کر لیے ہیں۔ جم سٹون انڈسٹری کو محکمہ معدنیات کے زیر انتظام لانے کے لیے ترامیم تجویز کر دی گئی ہیں۔

غیر مجاز کان کنی کنٹرول ایکٹ کو ڈرافٹ کر لیا گیا ہے۔معاون معدنیات عارف احمدزئی نے مزید کہا کہ مذکورہ ایکٹ سے غیر مجاز کان کنی اور بروقت بقایاجات کا حصول یقینی بنایا جائے گا۔ ایکسائز ڈیوٹی آن منرلز ایکٹ 2019 صوبائی اسمبلی میں جون 2019 سے بحث کے لئے پڑا ہے۔ محکمہ معدنیات نے 20 - 2019 میں 3.38 بلین روپے آمدنی حاصل کی۔ 19 - 2018 کی نسبت 55 زیادہ آمدنی حاصل کر لی گئی۔ 19 - 2018 میں محکمہ معدنیات کی مجموعی آمدنی 2.18 بلین روپے تھی۔ انکا کہنا تھاکہ گزشتہ دو سال میں 644 کان کنی سے وابستہ مزدور و پیشہ ور افراد کو تربیت دی گئی۔ غیر قانونی کان کنی کرنے والوں کے متعلق زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔ مائنز مانیٹرنگ پراجیکٹ کی تحت 1729 غیر قانونی کان کنی کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئے۔ گزشتہ دو سال میں محکمہ معدنیات کے 33 آفیسرز کے خلاف تادیبی کاروائی شروع کی گئی۔ کان کنی سے وابستہ مزدوروں کے لیے خاطر خواہ فلاحی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ 20 - 2019 میں کل 25.79 ملین روپے مالیت کے 1604 تعلیمی وظائف تقسیم کر دئیے گئے۔ مزدور کے بچے کو 50 سے 15 ہزار سالانہ وظیفہ دے ہیں۔

کان کنی کے دوران معذور ہونے والے مزدوروں میں 14.4 ملین روپے کے 48 گرانٹس تقسیم کیے گئے۔ ہر ایک معذور مزدور کو 03 لاکھ روپے کا چیک دیا گیا۔ کان کن مزدوروں کو پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنے کے لیے 2.22 ملین روپے خرچ کیے گئے۔ 16087 کان کن مزدوروں کو فری میڈیکل علاج معالجہ فراہم کیا گیا۔ تمام علاج معالجہ کان کن مزدوروں کو معدنی سائٹ پر شفاخانوں میں دیا گیا۔ آن لائن مائننگ پیمائشی نظام دسمبر میں فعال ہو جائیگا۔ پیمائشی نظام سے معدنی ذخائر تک فری میں رسائی مہیا ہو سکے گی۔ سرمایہ کار کسی بھی معدنی ٹائٹل کے لیے اپلائی کر سکتا ہے۔ نئے ضم شدہ اضلاع میں آن لائن سسٹم کو بحال کرکے 10 معدنی ٹائٹل مقامی لوگوں کو الاٹ کی گئی ہیں۔