پشاورہائیکورٹ: یونیورسٹی ٹاﺅن کے رہائشی علاقے کو تجارتی سرگرمیوں کےلئے مستقل طورپر دی جانے والی اجازت کالعدم

ویب ڈیسک: پشاور(سپیشل رپورٹر)پشاورہائیکورٹ نے خیبرپختونخواحکومت کی جانب سے یونیورسٹی ٹاﺅن کے رہائشی علاقے کو تجارتی سرگرمیوں کےلئے مستقل طورپر دی جانے والی اجازت کوغیرقانونی قرار دیتے ہوئے صوبائی حکومت کی قانون سازی کوکالعدم قرار دے دیا.

عدالت عالیہ پشاورکے جسٹس اکرام اللہ ¾ جسٹس اعجازانور اورجسٹس نعیم انورپرمشتمل لارجربنچ نے یہ فیصلہ گزشتہ روزسنایاسماعت کے دوران ڈاکٹرخوش نورعلی باز ،ڈاکٹرمقیم خلجی کی جانب سے محمدعلی اورجہانزیب محسودایڈوکیٹس جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے ایڈوکیٹ جنرل آفس کے لاءافسرپیش ہوئے اس موقع پر درخواست گزاروں کے وکلاءنے عدالت کو بتایاکہ صوبائی حکومت نے کئی دہائیاں قبل یونیورسٹی ٹاﺅن کاماسٹرپلان مرتب کرکے اسے رہائشی علاقہ قرار دیاتھا جس پرلوگوں نے وہاں اراضیات خریدکراپنے گھرتعمیرکئے جبکہ بعدازاں وقفے وقفے سے یہاں کمرشل سرگرمیاں شروع ہوئیں جس کے باعث اہل علاقہ شدید تنگ آگئے اوربالآخرانہوں نے پشاورہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن دائرکی اورعدالت عالیہ نے ابتدائی طورپرٹاﺅن میں کمرشل سرگرمیوں کوغیرقانونی قرار دیا اورقراردیاکہ رہائشی علاقہ ہونے کے ناطے یہاں پرکمرشل سرگرمیاں غیرقانونی قراردیں تاہم بعدازاں صوبائی حکومت نے باقاعدہ طورپرقانون سازی کی اورٹاﺅن کے علاقے میں پانچ سالوں تک کمرشل سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دی.

مگردرخواست گزاروں نے ایک مرتبہ پھرپشاورہائیکورٹ سے رابطہ کیااورصوبائی حکومت کی جانب سے قانون سازی کے باعث اہل علاقہ کو عدالت سے کوئی ریلیف نہ ملاجس پرانہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیااوراس عرصے میں سال2019ءمیں صوبائی حکومت نے ایک نیاقانون نافذکیااوراس قانون میں قرار دیاکہ ٹاﺅن میں کمرشل سرگرمیاں مستقل طورپرہوں گی اوراس رہائشی علاقے کو کمرشل قرار دیاجبکہ علاقہ ٹاﺅن کے ماسٹرپلان میں یہ رہائشی علاقہ ہے علاوہ ازیں جولوگ یہاں آبادہیںوہ یہاں رہائشی مقصد کے تحت مقیم ہیں اورکمرشل سرگرمیوں سے تنگ آچکے ہیں جبکہ ماسٹرپلان بننے کے بعدقانونی طورپراسے تبدیل نہیں کیاجاسکتاجبکہ حیات آباد پشاورکے لئے بھی ماسٹرپلان بنایاگیاہے اورپی ڈی اے نے حیات آباد کے ماسٹرپلان میں کوئی تبدیلی نہیں کی جبکہ ٹاﺅن کے ماسٹرپلان کو بعض افراد کونوازنے کے لئے تبدیلی لائی گئی جبکہ کمرشل عمارتوں کے باعث گھروں کی بے پردگی ہورہی ہے اورگھرسے متصل بڑی بڑی عمارتیں قائم کردی گئی ہیں عدالت عالیہ کے فاضل بنچ نے دلائل مکمل ہونے پرفیصلہ محفوظ کرلیاتھا جوگذشتہ روز سنادیاگیااورصوبائی حکومت کے اقدام کو کالعدم قرار دے دیا۔