خطے کے امن کو خطرہ

پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی کشیدگی کنٹرول لائن پر فائرنگ کے واقعات اور بھارت کی طرف سے بلاوجہ اشتعال کا سلسلہ یوں تو سال بھر جاری رہتا ہے لیکن سردموسم میں بھارت کو اکثر شرارت کی سوجھتی ہے اس سال کے وسط سے ہی بھارت کی جانب سے سردیوں میںکسی ممکنہ کارروائی کے امکانات کا اظہار ہوتا آیا ہے ۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا یہ بیان نہایت تشویشناک ہے کہ پاکستان کو خفیہ ذرائع سے معلومات ملی ہیں کہ بھارت پاکستان کے خلاف''سرجیکل سٹرائیک''کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔متحدہ عرب امارات کے دارالخلافہ ابو ظہبی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ان کی پریس کانفرنس کا مقصد پاکستانیوں اور عالمی برادری کو ضروری معلومات سے آگاہ کرنا ہے انہوںنے انڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے ایسی کوئی حرکت کی 'تو پاکستان اس کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دے گا۔'وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے دنیا کے اہم دارالحکومتوں کو بھی اس خدشے سے باخبر کر دیا ہے اور ان سے وہ معلومات بھی شیئر کر دی ہیں تاکہ ا نہیں بھی بھارتی منصوبوں کا علم رہے۔واضح رہے کہ پاکستان نے عالمی برادری کو گزشتہ ماہ بھی ڈوزئیر دے کر آگاہ کیا تھا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے اور حال میں سامنے آنے والی ای یو ڈس انفو لیب کی رپورٹ کا بھی حوالہ دیا جس میں 15 سال سے جاری ایک ڈس انفو آپریشن کے بارے میں انکشافات تھے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر اس نے کوئی غیر ذمہ دارانہ حرکت کی تو افغان امن عمل سمیت خطے کے امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہوں گے۔وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس کے بعد وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی امور معیز یوسف نے اپنی ٹویٹس میں شاہ محمود قریشی کے پیغام کو دہراتے ہوئے مزید کہا کہ انڈیا کی بے چینی مضحکہ خیز حد تک بڑھ گئی ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ وہ ایک متحد اور باعزت قوم پر حملہ کر سکتا ہے جو کہ خود ایک جوہری طاقت ہے۔وزیرخارجہ کی پریس کانفرنس میں اقوام عالم اور خصوصاً بڑے ممالک کو واضح پیغام اور خطے میں کشیدگی کے دیگر علاقائی وبین الاقوامی معاملات پر اثر انداز ہونے کے تمام عوامل دنیا کے سامنے ہیں وزیرخارجہ کے بیان کا یہ نکتہ خاص طور پر اہم ہے کہ بھارت نے اہم کھلاڑیوںسے اس کی منظوری لینے کے لیے رابطہ بھی کیا ہے جنہیں وہ اپنا پارٹنر تصور کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ماننا ہے کہ بھارت نے یہ منصوبہ انتہائی اہم اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے کیا ہے جو بھارت میں تیزی سے بڑھتے جا رہے ہیں۔پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے جس کے ناتے وزیرخارجہ نے بھارت کے خفیہ منصوبوں سے دنیا کو آگاہ کرکے اور بطور خاص ایک اہم ملک کی طرف اشارہ کر کے صورتحال واضح کر دی ہے اس کے بعد پاکستان جوابی حکمت عملی اور اپنے دفاع کیلئے جو بھی کرے گا یہ اس کا حق ہے۔بھارت ایک مرتبہ پہلے بھی اس طرح کا ایک ناکام تجربہ کر چکا ہے بھارت اور پاکستان کے درمیان دو بدو جنگ کا امکان کم ہے لیکن بھارت جس طرح کی منصوبہ بندی کر رہا ہے اس سے خطے میں دو جوہری ممالک کے درمیان تصادم کی نوبت بھی آسکتی ہے جس سے پوری دنیا متاثر ہوگی فی الوقت یہ پاکستان کی بڑی کامیابی ہے کہ وہ نہ صرف بھارت کے خفیہ منصوبے سے پوری طرح آگاہ ہے بلکہ اہم کھلاڑیوں سے بھارتی روابط کا بھی اسے علم ہے اگرچہ اہم کھلاڑی کو بھارت نے اپنے تئیں اپنا خود ساختہ حلیف سمجھ لیا ہے اور خطے میں چین کے مقابلے کیلئے بھارت اور محولہ ملک کی قربت فطری امر ہے لیکن دوسری جانب پاکستان ایسا ملک نہیں جسے نظر انداز کیا جا سکے یا پھر اس کے مقابلے میںکھلم کھلا بھارت کی کسی بے وقوفی کی حمایت کی جائے کوئی بھی ملک کھل کر چین سے تصادم مول لینے کی پوزیشن میں نہیں اس وقت بھی پاک فوج اور چینی فوج کی مشترکہ مشقیں جاری ہیں پاکستان بھارت کے منصوبے سے آگاہی سے منصوبہ فاش کر کے پہلی بڑی کامیابی حاصل کر چکا ہے بھارتی پائلٹ کی پاکستان میں گرفتاری کے ایام میں بھی بھارت کے منصوبوں سے آگاہی اور بھارتی فوج کی تیاریوں اور پوزیشن کا علم رکھنے پر ہی بھارت کا منصوبہ ادھورا اور ناکام ہوگیا تھا اب بھی پاکستان بھارتی منصوبے سے آگاہ ہونے اور دنیا کو آگاہ وانتباہ کر کے پہلے دور میں کامیابی حاصل کر چکا ہے جس کے بعد بھارت کا اپنے منصوبے سے باز آنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نظر نہیں آتا پاکستان نے جس اہم کھلاڑی کے آگاہ ہونے کا اشارہ دیا ہے اس کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت کی جنونی قیادت کو سمجھائے اور اس پر اپنا اثر ورسوخ بھی استعمال کر کے خطے پر منڈلاتے خطرات کو ٹالنے میں اپنا کردار ادا کرے۔افغانستان میں قیام امن اور امریکی فوج کی واپسی اس صورت ہی ممکن ہوگی جب پاکستان یکسوئی کے ساتھ اس سلسلے میں کردار ادا کرپائے بصورت دیگر اس معاملہ پر پیشرفت ممکن نہیں۔توقع کی جانی چاہیئے کہ اقوام متحدہ امریکہ اور چین جیسی قوتیں اس ضمن میں اپنی ذمہ داریوں کا جلد سے جلد ادراک کریں گے اور جوہری ممالک کے ممکنہ تصادم اور ایٹمی جنگ کے خطرے سے دنیا کو بچانے کی سنجیدہ سعی کریں گے۔بھارت کو ہوش کے ناخن لینا چاہیئے اسے اس امر کا اندازہ ہونا چاہیئے کہ پاکستان کا ردعمل کتنا شدید اور خطرناک ہوگا۔