کاغذ سے کمزور خودمختاری

سابق امریکی صدر بارک اوبامہ کی حال ہی میں شائع شدہ کتاب کا اگر مطالعہ کیا جائے تو بطور پاکستانی قدرتی طور پر آپ کی نظر سب سے پہلے ان ابواب کی متلاشی ہوگی جس میں انہوں نے پاکستان کے بارے کچھ لکھا ہوگا۔ A Promised Land کے نام سے اوبامہ کی یہ کتاب ان کے دورصدارت سے متعلق یاداشتوں پر مبنی ہے۔ اس میں تقریباً سات جگہ پاکستان کا ذکر ملتا ہے اور ان میں سے بھی اکثر یہ ذکر افغانستان کے تناظر میں ہی کیا گیا تھا۔ البتہ پاکستان سے متعلق دو ایسی چیزیں ہیں جن پر بارک اوبامہ نے مفصل انداز میں لکھا ہے، ایک مئی2011 میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بارے اور دوسرا سابق صدر آصف علی زرداری کے حوالے سے۔ اوبامہ کا انداز تحریر ان کی گفتار کی طرح سہل اور رواں ہے۔ اس پوری کتاب میں کئی جگہ بین السطور وہ باتیں کہی گئی ہیں جن میں سمجھنے والوں کیلئے خاصی نشانیاں ہیں۔ مثال کے طور پر انہوں نے ایک جگہ لکھا ہے کہ امریکہ کوئی پتلی گر نہیں جو ان ممالک کی ڈوریں ہلاتا رہے جو اس کیساتھ کاروبار کرتے ہیں۔ ہر حکومت جو ہماری معاشی یا فوجی طاقت پر کسی بھی طرح کا انحصار کرتی ہے، سب سے پہلے اپنی بقا کیلئے فکرمند ہوتی ہے۔ اس پوری کتاب میں جتنی باریک بینی اور واضح انداز میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے واقعے کا ذکر کیا گیا ہے، کسی اور موضوع پر نہیں لکھا گیا۔ ہمارے ہاں کچھ سادہ لوح لوگ اب بھی یہی سمجھتے ہیں کہ اس روز دو امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹر جلال آباد سے ایبٹ آباد تک نوے منٹ کی پرواز طے کر کے آئے اور اس ساری کارروائی کے بعد اتنے ہی وقت کی اُڑان بھر کے واپس ہو لئے اور یہ سب پاکستان کی معلومات سے بالا بالا، بنا اسے خبر ہوئے کر بھی لیا گیا۔ ہمارا مشورہ ہے کہ ایسے تمام لوگوں کو اوبامہ کی اس انکشافات سے بھرپور کتا ب کا مطالعہ کرنا چاہئے۔ اوبامہ نے اس کتاب میں بتایا کہ اوسامہ بن لادن کو ختم کرنا ان کے انتخابی وعدوں میں سے ایک تھا۔ انہوں نے کمال سفارتی انداز اپناتے ہوئے لکھا کہ یہ بات ایک کھلا راز تھی کہ چند عناصر طالبان اور القاعدہ سے رابطے استوار کئے بیٹھے ہیں۔ ان عناصر کو کئی مرتبہ بڑی چالاکی سے افغان حکومت کو کمزور رکھنے کیلئے استعمال کیا گیا تاکہ وہ پاکستان کے نمبر ایک دشمن، بھارت سے تعلقات مستحکم کرنے میں کہیں کامیاب نہ ہو جائے۔ یہ بات کہ بن لادن کا کمپاؤنڈ پاکستان کی فوجی تربیت گاہ سے چند میل ہی دور واقع تھا، یہ خدشہ بڑھا رہا تھا اگر پاکستان کو اس منصوبے سے متعلق کچھ بتا دیا گیا تو ہم اپنے ہدف سے چوک بھی سکتے ہیں۔ ایسے میں ہم ایبٹ آباد میں کچھ بھی کرتے تو وہ ایک اہم اتحادی کی ملکی سالمیت پر خطرناک حملے کے مترادف ہوتا، بلکل ایک جنگ کی مانند۔ ممکن ہے اس ہچکچاہٹ کے پیچھے اوبامہ کے ذہن میں وہ واقعات ہوں جب امریکہ نے ایران میں پھنسے اپنے مغویوں کو چھڑوانے کا منصوبہ بنایا تھا اور وہ ناکام ٹھہرا۔ ایبٹ آباد کارروائی کی ابتدائی منصوبہ بندی اسی سال مارچ میں ہوئی تھی اور صدر اوبامہ نے اس تمام منصوبے کا نگران وائس ایڈمرل ولیم میک ریون کو مقرر کیا تھا۔ ان کی معاونت کیلئے اوبامہ نے پینٹاگون کی بجائے سی آئی اے کی ڈیوٹی لگائی تھی جس کا مقصد رازداری کو برقرار رکھنا اور منصوبہ افشاء ہو جانے کی صورت میں مکر جانے کا راستہ محفوظ رکھنا تھا۔ 29مارچ کو ولیم میک ریون نے اوبامہ کو اس خدشے سے آگاہ کیا کہ ان کی تمام تر منصوبہ بندی اس مفروضے پر کھڑی ہے کہ امریکی سیلز اہلکاروں کا پاکستانی عسکری افواج سے کوئی ٹاکرا نہیں ہوگا اور اگر ایسا ہوا تو سیلز اس وقت تک رکے رہیں گے جب تک امریکی سفارتی عملہ پاکستانی حکومت سے مذاکرات کر کے ان کی ایک محفوظ واپسی کا کوئی بندوبست نہیں کرا لیتا۔ بالکل ویسے ہی جس طرح کہ انہوں نے ریمنڈ ڈیوس کیس میں کیا تھا۔ اوبامہ نے اس منصوبے کی باقاعدہ منظوری 29اپریل کو دی۔ یکم اور دو مئی کی درمیانی شب اوبامہ اور ان کی انتظامی ٹیم نے یہ ساری کارروائی وائٹ ہاؤس سے براہ راست دیکھی۔ کارروائی کے بعد اس سے پہلے کہ سیلز جلال آباد واپس پہنچتے، انٹرنیٹ پر اس کاروائی کی خبر گردش کرنے لگی تھی۔ مائیک ملن نے اس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو فون کر کے اس معاملے کے بارے آگاہ کیا۔ یہ گفتگو کسی بھی قسم کی گرماگرمی سے خالی تھی البتہ جنرل کیانی نے یہ درخواست کی کہ انہیں اس سب کے بارے مکمل رہنمائی فراہم کی جائے تاکہ ان کے لوگ عوام کے ردعمل سے نمٹنے کے قابل ہو سکیں۔ اوبامہ نے کتاب میں لکھا کہ وہ اس بات کو جانتے تھے کہ ان کیلئے سب سے مشکل مرحلہ پاکستان کے صدر سے ٹیلی فونک گفتگو ہوگی جنہیں بجاطور پر اپنے گھر اس کارروائی کے بعد شدید قسم کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہوگا کہ ہم ان کی ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے تھے۔ انہوں نے لکھا کہ جب میری ان سے بات ہوئی تو صدر زرداری نے کسی بھی قسم کا ردعمل دینے کی بجائے مجھے مبارکباد دی اور کہا کہ اس کارروائی کا کوئی بھی نتیجہ نکلے، یہ بہرحال ایک اچھی خبر ہے۔ اوبامہ نے لکھا کہ پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری ایک کاغذ سے بھی پتلی اور کمزور ثابت ہوئی۔
(بشکریہ ڈان، ترجمہ : خزیمہ سلیمان)