دوبارہ غورکرنے کی ضرورت

اداروںاور شخصیات کیخلاف مہم چلانے والے آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں اور ان کی باتوں پر کان دھرنے والے اس سے بھی کم ہیں۔مصلحت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اس معاملے کو اُچھالنے کی بجائے تجاہل عارفانہ اختیار کیا جائے تاکہ یہ سلسلہ خودبخود دم توڑ جائے۔ اگر اس کے کسی کردار کیخلاف کارروائی ہوتی ہے تو حکومت کا یہ اقدام خود ان کے اپنے لئے مسائل کا باعث بنے گا۔اس لئے کہ کارروائی کا ذکر جگہ جگہ ہونے لگے گا، ملک کے اندر حکومت کارروائی کر سکے گی۔ سوال یہ ہے کہ بیرون ملک پراپیگنڈہ مشینری کا آزادانہ استعمال کرنے والوں کو کیسے روکا جا سکے گا۔ بنا بریں موزوں یہ ہوگا کہ اس ناسور کو زیادہ نہ چھیڑا جائے جہاں تک ان عناصر کی تنقید اور پراپیگنڈے کے مؤثرہونے اور توجہ حاصل کرنے کا سوال ہے اگر جھوٹ ہو تو اس کے پائوں نہیں ہوںگے اور اگر سچ ہو تو پھر اس امر پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ایسے امور سے احتراز کیا جائے جو اعتراض وتنقید اور پراپیگنڈے کا باعث بنیں۔ ہم سمجھتے ہیں ہر مسئلے کا حل کارروائی نہیں ہوتی بہت سے ایسے معاملات ہوتے ہیں جن کو اگر قانون کی گرفت میں لانے کی سعی کی جائے تو مشکل ہوگی۔ عدالت کے سامنے نفرت پھیلانے کے اقدام کو ثابت کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور کمزور کیس کے باعث پیش ہونے والے چھوٹ جاتے ہیں۔ نفرت ایک ایسی پوشیدہ چیز ہے کہ اس کو قانون بھی پابجولان کرنے سے معذور ہے، گمراہ عناصر کیخلاف دعائے خیر ہی کی جاسکتی ہے۔ اچھے رویئے اور برتائو کے ذریعے ان کو احساس دلایا جاسکتا ہے، اس کے علاوہ اس کا کوئی تیز ہدف نسخہ نہیں، بہتر ہوگا کہ حکومت یہ ارادہ ترک کرے اور خواہ مخواہ کا ایک ایشو بنانے سے گریز کیا جائے جس امر کی طرف عوام کی اکثریت کی توجہ نہیں اس طرف عوام کی توجہ دلانے کی حاجت نہیں۔ عوام کی اکثریت کو نہ صرف پراپیگنڈے ہی سے کوئی سروکار نہیں بلکہ وہ اس کی حقیقت بخوبی سمجھ کر اس سے متاثر نہیں ہوتے اور یوں پراپیگنڈا کرنے والوں کے سارے حربے خود بخود ناکام ٹھہرتے ہیں۔
تعلیمی ادارے مزید بند نہ رکھے جائیں
کورونا وباء کے خوف سے بچوں کو تعلیمی اداروں سے روکنا اور گھر پر تعلیم دینے کو وباء کے پہلے دور میں ناگزیر سمجھا گیا، میڈیا اور والدین ہر جانب سے اس اقدام کی حمایت کی گئی۔ دوسرے دور کی ابتداء میں بھی سہمے ہوئے والدین نے بچوں کو روکے رکھنے کو بہتر سمجھا مگر اس سارے دورانیہ میں بچوں کی تعلیم کا جو حرج سامنے آیا اور سوائے تعلیمی اداروں کے باقی معمولات زندگی کوجاری رکھنے دیا گیا ان امور کو دیکھتے ہوئے بجا طور پر یہ سوال اُٹھنے لگا ہے کہ کورونا وباء کے پھیلائو کی روک تھام کیلئے کیا صرف سکولوں کی بندش ہی واحد اور ضروری اقدام تھا۔ دیکھا جائے تو بازار کھلے ہیں، کھوے سے کھوا چلتا ہے، ٹرانسپورٹ چل رہی ہے، بازاروں میں رونق اور شادی ہالز میں ہجوم ہے، غرض کوئی شعبہ ایسا نہیں جو متاثر ہوا ہو سوائے تعلیمی اداروں کے، ایسے میں یہ سوچ حق بجانب ہے کہ تعلیمی اداروں کو ضروری احتیاطی تدابیر کیساتھ کھولنے کا فیصلہ کیا جائے۔ وہ تمام تدابیر اور طریقہ کار اختیار کیا جائے جو وباء کے دوسرے دور کی ابتداء میں لازمی ٹھہراتے ہوئے تعلیمی ادارے کھلے رکھے گئے۔ چھٹیوں میں توسیع اور اگست میں نیا تعلیمی سال شروع کرنے کی تجویز بھی مناسب معلوم ہوتا ہے، قباحت یہ ہے کہ دو ماہ مزید تعلیمی ادارے نہ کھولے گئے تو بہت سے مزید طالب علم تعلیم کو خیر باد کہنے پر مجبور ہو سکتے ہیں، نیز جو طالب علم تقریباً سال ہونے کو ہے گھر وں میں بیٹھے ہیں، وہ تعلیم اور تعلیمی ماحول سے اتنا دور ہو جائیں گے کہ ان کیلئے تعلیم ثانوی ہو کر رہ جائے گی۔ طالب علموں کو دوبارہ تعلیمی دھارے میں لانا اور ان کو تعلیم کی طرف راغب کرنا اب ایک الگ سے مسئلہ بن چکا ہے۔ ان حالات میں زیادہ موزوں یہ ہوگا کہ تعلیمی ادارے کھولے جائیں اور گروپس کی شکل میں مختلف دنوں میں طالب علموں کو بلایا جائے اور نئے تعلیمی سال کے جو باقی ماندہ دن ضائع ہوئے ہیں وہ کمی پوری کرنے کیلئے سیشن کی مدت بڑھائی جائے، اسی طرح سے نیا تعلیمی سال اگست میں شروع کیا جائے تو بڑی حد تک ازالہ کی صورت نکلے گی۔
سرکاری نرخوں کی پابندی ہو تو کیا کہنے
چینی اور آٹا کی سرکاری نرخوں پر دستیابی یقینی بنانے کیلئے کمیٹیوں کی تشکیل بشرط کامیاب اقدامات احسن امر ہے۔ یہ بات تقریباً ثابت اور یقینی ہے کہ انتظامیہ اشیائے صرف کی مقررہ قیمتوں پر فروخت یقینی نہیں بنا سکتی، انتظامیہ ہر بازار میں عملہ تعینات کرے اور ان کی نگرانی میں اشیائے صرف فروخت کرنے کا اقدام بھی اُٹھائے تب بھی اس اقدام کی کامیابی کا یقین نہیں۔ ایسے میں مارکیٹ میں مسابقت اور عوام کو متبادل کی فراہمی ہی موزوں امر رہ جاتا ہے، اتوار بازاروں اورسستا بازاروں کا تجربہ بھی کامیاب نہیں رہا۔ مشکل امر یہ ہے کہ حکومت جو بھی سہولت دیتی ہے اس سہولت اورمراعات سے بھی فائدہ اُٹھایا جاتا ہے اور قیمتیں بھی اپنی مرضی کی مقرر کی جاتی ہیں۔ اس صورتحال کا تدارک اب راشن کارڈ کے پرانے نظام کے اجراء کامتقاضی ہے، بہرحال حکومت جتنا ممکن ہوسکے اشیائے صرف کی سرکاری نرخوں پر فراہمی یقینی بنائے اگرچہ صرف چینی اور آٹا ہی کی فراہمی کافی نہ ہوگی لیکن اگر یہ دونوں بھی سرکاری نرخوں پر قرب وجوار میں اور بڑی بڑی لائنیں لگائے بغیر ملیں تو غنیمت ہوگی۔