پاکستان نے جے ایف تھنڈر بلاک 3 کی پروڈکشن کا آغاز کردیا

ویب ڈیسک (اسلام آباد): پاکستان نے جے ایف تھنڈر بلاک 3 کی پروڈکشن کا آغاز کردیا گیا ہے،دسمبر 2019 کو اس کی پہلی افتتاحی پرواز کی گئی جس کے بعد اس میں تبدیلیاں اور ماڈیفیکیشنز کی جارہی تھی جس کو فائینل کرکے 31 دسمبر 2020 کو اس کی باقاعدہ پروڈکشن کا آغاز کردیا-

ایئر چیف نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ جیٹ۔
1- ایئر سپیریئر ہے
2- پریسیئن انجنیئرنگ میں اس کو ایج حاصل ہوگا
3-ڈیجیٹل مینوفیکچرنگ ہے
4- الیکٹرانک وار فیئر سیوٹ اور بی وی آر کی صلاحیت اس کی بڑھائی گئی ہے-

ایئر سپریئر سے مراد یہ ہے کہ اس کو پاکستان کے پاس پہلے سے موجود مین فائیٹر ایف-16 پر ایج حاصل ہوگا اور ایئر فورس کے سکوارڈن لیڈر کے مطابق کچھ سالوں میں یہ پاکستان کا مین فائیٹر جے ایف-17 تھنڈر بلاک تھری بن جائے گا،باقی پوائینٹ نمبر 2 اور 3 ہر جیٹ کی خاصیت ہوتے ہیں اور جس بھی ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے وہ جیٹ مینوفیکچر کیا جائے تو اس دور کی لیٹسٹ ٹیکنالوجی اس میں استعمال ہوتی ہے- لہذا اس تفصیل میں جانا فضول ہوگا، مین چیز جس پر ہم بات کرتے ہیں وہ پوائینٹ نمبر 4 ہے جس پر میں اپنے محدود سے علم کی تھوڑی سی روشنی ڈالنے کی کوشش کرتا ہوں تاکہ ہر پاکستانی کو اس چیز کا علم ہو-

انہوں کا کہنا تھا کہ بلاک 2،1 اور3 سے مراد ایک جیٹ کا مختلف اپڈیٹڈ ورژن ہوتے ہیں مثلا جے ایف-17 تھنڈر بلاک-1 میں جو سپیسفیکیشن تھی وہی سپیسفیکشن بلاک-2 میں ہیں، لیکن ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ بلاک-2 ڈبل سیٹ ہے، جبکہ بلاک-1 سنگل، کیونکہ خریدنے والوں کی یہ ریکوائرمینٹ تھی کہ ہمیں ڈبل سیٹ جیٹ چاہیے، پاکستان نے پہلے 4 بلاک-2 جیٹ کا آرڈر نائیجیریا کے حوالے کیا لیکن یہ آرڈر ابھی پورا نہیں ہوا 10 جہاز باقی رہتے ہیں-

ایئر چیف کے مطابق اس کے علاوہ 12 ممالک پاکستان سے مکمل ٹچ میں ہیں جو کہ جے ایف تھنڈر-17 خریدنے میں انٹرسٹڈ ہیں، ان میں سے کچھ عرصہ پہلے 2 کو ہندوستان نے بھگادیا تھا لیکن وہ پھر واپس آگئے اور اب وہ دوبارہ جے ایف -17 خریدنے میں انٹرسٹڈ ہیں، یہ تو ہوگئی اپنے بلاک-2 کی کہانی،جس جیٹ کی پروڈکشن کا 31 دسمبر 2020 کو افتتاح کیا گیا یہ بلاک تھری ورژن ہے، دنیا کی نظریں اس طیارے پر اس لئے لگی ہوئی ہیں کیونکہ یہ طیارہ رافیل کے مقابلے کا سمجھا جاتا ہے اور ایئر چیف نے اپنے خطاب کے دوران یہ واضح طور پر کہا یہ بلاک تھری ہر لحاظ سے رافیل سے سپیریئر ہے-

مثلا جو چیز اس کو رافیل سے ممتاز بناتی ہیں وہ کچھ یوں ہیں، بلاک تھری میں 2 گن شپ فائرنگ کے لیے استعمال ہوں گی جبکہ رافیل میں ایک استعمال ہوتی ہے، اسی طرح بلاک تھری میں 2 میزائل سسٹم موجود ہیں جبکہ رافیل میں صرف ایک میزائل سسٹم ہے اور رافیل اپنے اپڈیٹ ورژن میں دو میزائل سسٹم بنانے کی کوشش کررہا ہے پر ابھی تک کامیاب نہیں ہوسکا، لیکن پاکستان نےیہ بنالیا ہے، اگر رافیل بھی دو میزائل سسٹم انکارپوریٹ کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو وہ رافیل کا اپڈیٹیڈ ورژن کہلائے گا جو ہندوستان کے پاس رافیل ہیں، وہ سنگل میزائل سسٹم والے ہیں-

اس کے علاوہ بلاک تھری کو رافیل سے جو چیز ممتاز بناتی ہے وہ اس میں لگا ہوا AESA ریڈار ہے اس ریڈار سسٹم اور عام ریڈار سسٹم میں یہ فرق ہوتا ہے کہ عام ریڈار نے جس سمت میں دیکھنا ہو تو اس ریڈار کی پلیٹیں اسی سمت میں پورا گھوم جاتی ہیں، جبکہ AESA ریڈار میں پلیٹیں نہیں گھومتی بلکہ اس کے اندر موجود سینسرز جو کہ سکینگ کرتے ہیں، اور اس کی مدد سے سارا کام ہوتا ہے اور اس کی سکینگ رینج تقریبا 200 کلومیٹر ہے-

اس کے علاوہ جس چیز نے بلاک تھری کو رافیل پر برتری دی ہے وہ اس کے اندر جو بی وی آر سسٹم انکارپوریٹ کیا گیا ہے، اس نے رافیل کو مکمل طور پر آؤٹ کلاس کردیا ہے، مثلا چونکہ یہ جوائینٹ فائیٹر ہے یعنی جے ایف تو لہذا چین کی طرف سے بی وی آر-پی ایل-15 بھی پاکستان کو دیا گیا ہے، جس کی رینج اس وقت فورتھ پلس جنریشن میں سب سے زیادہ ہے، حتی کہ فورتھ پلس جنریشن رینج میں اتنی میزائل رینج ابھی تک امریکہ کے پاس بھی نہیں ہے- یاد رہے میں نے فورتھ پلس جنریشن کی بات کی ہے، فایئو جنریشن کی نہیں، کیونکہ فائیو جنریشن جیٹ اس وقت دنیا میں صرف 3 ممالک بنانے میں کامیاب ہوسکےہیں، ان میں امریکہ، چین اور روس شامل ہیں، جبکہ سابق وائس اییئر مارشل شاہد لطیف کے مطابق پاکستان نے فایئو جنریشن جیٹ بنانے کے لیئے ڈیلوپمینٹ اور سٹرکچر مکمل کرلیا ہے، اور جلد ہی اس پر کام شروع ہوجائے گا، اور شاہد لطیف کے مطابق اگلے 7 سے 8 سالوں میں پاکستان ففتھ جنریشن جیٹ بھی بنانے میں کامیاب ہوجائے گا-

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بی وی آر کیا ہوتا ہے؟ بی وی آر کا مطلب یہ ہوتا ہے، کہ بیونڈ وویوژل رینج، اس کا لفظی مطلب یہ ہوتا ہے کہ ایک ایسے ٹارگٹ کو ہٹ کرنا جو کہ آپکی آنکھ کی رینج سے باہر ہو، یہ میزائل سسٹم ایئر ٹو ایئر ہوتے ہیں- یہ فائر اینڈ فارگیٹ کے اصول پر کام کرتا ہے، یعنی ٹارگٹ کو لاک کرکے فائر کریں اور پھر بھول جایئں کیونکہ یہ اپنے ٹارگٹ کو ہٹ کرے گا-

بلاک -1 اور بلاک -2 میں جو بی وی آر استعمال ہوتا تھا وہ پی ایل-10 استعمال ہوتا تھا لیکن بلاک تھری میں پی ایل-15 بھی استعمال ہوسکتا ہے، اس وقت یہ پی ایل-15 تین چائینز طیاروں میں استعمال ہوتا ہے، جن میں جے-10 سی، جے-16 اور جے-20 اور اس پی ایل-15 کو روس کے آر-37 کے برابر تصور کیا جاتا ہے-

رافیل میں جو بی وی آر استعمال ہوتا ہے وہ "میٹیور" ہے جس کی رینج پی ایل-15 سے تقریبا 100 کلومیٹر کم ہے، لہذا یہ چیز پاکستانی انجینیرز نے بلاک تھری میں جس طرح لگائی ہے، اس چیز نے ساری دنیا کی نظریں اس وقت بلاک تھری پر لگادی ہیں، کہ رافیل کے مقابلے میں تقریبا 3 گنا سستا جیٹ جس کو رافیل پر ہر لحاظ سے ایج حاصل ہے، جس کے بعد سے ہندوستان کی نیندیں اس وقت فل حرام ہوچکی ہیں-

اب میں پاکستان میں موجود ایک طبقہ جس کو ہم اپنی زبان میں " بغضیا" کہتے ہیں، جس کو ہر دوسرے دن فوجی بجٹ پر تکلیف ہونا شروع ہوجاتی ہے، جس کو ہر دوسرے ایک ادارے کے کاروبار کرنے پر مروڑ اٹھنے شروع ہوجاتے ہیں، حالانکہ ان کی ساری کمپنیاں ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ ہیں، اور وہ باقاعدہ انکم ٹیکس ادا کرتی ہیں، اسی فوج نے اپنے ہمسائیہ ملک سے کئی گنا کم بجٹ میں رافیل کے مقابلے کا جیٹ خود بنالیاہے، یہ ہماری ریسرچ اینڈ ڈیویلپمینٹ ٹیم کی بہت بڑی کامیابی ہے، اور ریسرچ اور ڈیویلپمینٹ پر جتنا پیسہ چاہئےہوتا ہے وہ صرف وہی جان سکتا ہے، جو بیچارا کبھی یونیورسٹی تک پہنچا ہو-

جس نے ساری عمر گھسیاں کرکے بی اے پاس کیا ہو، اس بیچارے کو کیا پتہ کہ ریسرچ اور ڈیویلپمینٹ کس چڑیا کا نام ہے، پاکستان جے ایف 17- تھنڈر بلاک تھری کے کامیاب افتتاح پر پاکستان مبارکباد کا مستحق ہے، اس پر جتنی بات ہونی چاہیئے تھی وہ میں حیران ہوں کہ مین سٹریم میڈیا اس پر مکمل خاموش ہے، ہمارے ملک کا جہاز بنا ہے اور ان کے چہروں پر ماتم چھائے ہوئے ہیں-