ایک اہم خبر

کل ہزارہ یونیورسٹی کے حوالے سے ایک خبر پڑھنے کا اتفاق ہوا، جس میں طالبات کے میک اپ اور تنگ لباس پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ تنگ پاجامہ، چھوٹی کرتیاں، کھلی کرتیاں پہننے پر پابندی ہوگی۔ اسی طرح طلباء کو بھی داڑھی کے مختلف ڈیزائن بنانے سے روک دیا گیا ہے۔ یہ خبر پڑھ کر ذہن کے نہاں خانوں میں بہت سے خیالات آوارہ بادلوں کی طرح منڈلانے لگے۔ آج ہم گلوبل ویلج کے باسی ہیں، آئی ٹی کی تیز رفتار ترقی نے اس وقت پوری دنیا کو ایک دوسرے کیساتھ منسلک کر دیا ہے، پل پل لمحے لمحے کی خبریں سب تک پہنچ رہی ہیں۔ دنیا بھر میں موجود تہذیبیں ایک دوسرے پر اثرانداز ہو رہی ہیں، ہر تہذیب وثقافت میں اچھی بری چیزیں موجود ہوتی ہیں، سب کے اپنے اپنے انداز اور معیار ہوتے ہیں، جن کے پیچھے صدیوں پرانی روایات موجود ہوتی ہیں، لباس کا تعلق بھی کلچر کیساتھ ہوتا ہے، وطن عزیز کے چاروں صوبوں کے اپنے اپنے رنگ ہیں سب کے اپنے اپنے روایتی لباس ہیں۔ مختلف مادری زبانیں بھی بولی جاتی ہیں، اپنی روایات بھی ہیں اور شعوری یا لاشعوری طور پر ان روایات کی پاسداری کا ایک مضبوط تصور بھی موجود ہے۔ یوں کہئے کہ ہماری خوبصورت ثقافتیں ایک گلدستے کے مختلف پھول ہیں جن کا ہر رنگ دلفریب اور خوبصورتی کا حامل ہے۔ کسی بھی ثقافت سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی روایات ان کے دین یا شریعت سے ضرور متاثر ہوتی ہیں، ان پر موسموں کے اثرات بھی ہوتے ہیں، جیسے عربوں کا مخصوص لباس صحرائی طوفانوں سے بچنے میں مددگار ثابت ہوتا تھا، اسی حوالے سے دوسری لاتعداد اقوام کا لباس ان کے رہنے سہنے کے انداز کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح گرمی کے لباس الگ اور سردیوں کے الگ ہوتے ہیں، ان کے کپڑے تراش خراش اور بناوٹ میں بھی فرق ہوتا ہے۔ تہذیب کا سفر جاری ہے اور رہتی دنیا تک جاری رہے گا۔ تاریخ میں ایسے بہت سے ادوار گزرے ہیں جن میں اگر آج کی زبان میں بات کی جائے تو اُمت مسلمہ ہی سپرپاور تھی، تاریخ شاہد ہے کہ مسلمانوں نے بہت سی فتوحات کیں، بہت سے ممالک فتح کئے، فاتح قوم سے مفتوح اقوام کا متاثر ہونا لازمی ہوتا ہے، یہ مفتوح اقوام بہت سی چیزوں میں فاتحین کی پیروی کرتی ہیں جن میں لباس، زبان، ثقافت اور دوسری بہت سی چیزیں شامل ہوتی ہیں۔ تہذیبیں عروج بھی حاصل کرتی ہیں اور زوال پذیر بھی ہوتی ہیں۔ انسان کو کمزور کہا گیا ہے، یہ غلطیاں بھی کرتا ہے اور فطرت کے تقاضوں سے غفلت بھی برتتا ہے، اسی طرح جب کوئی قوم تن آسانی کا شکار ہوجاتی ہے عصرحاضر کے علوم سیکھنے میں کوتاہی برتتی ہے، اس کے اخلاقی حوالے کمزور ہوجاتے ہیں، اپنے اسلاف کی بہترین اقدار چھوڑ دیتی ہے، دینی احکامات کی اطاعت میں غفلت برتتی ہے، تو یقینا اس کا منطقی نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ اس کی ہوا اکھڑ جاتی ہے اور دوسری کوئی بھی طاقتور قوم اس پر غالب آجاتی ہے، یوں کہئے غلامی اس کا مقدر ہوجاتی ہے۔ غلامی کی بڑی خرابی یہ ہے کہ مفتوح اقوام اپنا اعتماد کھو بیٹھتی ہیں، ان کے زندگی گزارنے کے انداز بدل جاتے ہیں، یہ فاتح اقوام کی اندھا دھند تقلید شروع کردیتی ہیں۔ اگر ہم اپنے گریباں میں جھانکنے کی زحمت گوارا کریں تو آج ہم بھی اسی قسم کی مرعوبیت کا شکار ہیں، ہمیں مغرب سے آئی ہوئی ہر بات نہ صرف اچھی لگتی ہے بلکہ ہم اس کی اندھا دھند تقلید کو بھی اپنے لئے باعث فخر سمجھتے ہیں اور اس حوالے سے اتنے آگے بڑھ چکے ہیں کہ اب ہمیں اپنے دینی احکامات یا شعائر کا احترام بھی نہیں رہا۔ الحمد اللہ ہم نبی کریمۖ کے اُمتی اور ایک ایسے دین کے پیروکار ہیں جس کی تعلیمات کا ایک ایک لفظ ہمارے پاس محفوظ ہے۔ قرآن پاک کی حفاظت کا ذمہ تو رب کریم نے خود لے رکھا ہے اور یہ اس سچی کتاب کی تاثیر ہی ہے کہ آج مغرب کے رہنے والے اپنی تمام تر سائنسی ترقی کے باوجود دائرۂ اسلام میں جوق درجوق داخل ہورہے ہیں۔ یہ ہم سب کا مشاہدہ ہے کہ جب وہ اپنی مرضی سے اسلام قبول کرتے ہیں تو پھر وہ اسے مکمل طور پر اپنا لیتے ہیں، شرعی احکامات کی مکمل طور پر پابندی کرتے ہیں، نئے دین کو قبول کرنے کے بعد ان کے رہنے سہنے کے انداز بدل جاتے ہیں مجھے یہاں جرمنی سے تشریف لائی ہوئی ایک خاتون یاد آگئی ہے جو اپنے پیارے وطن پاکستان میں ہونے والی ایک شادی میں شریک تھی، کالے برقع میں ملبوس مکمل طور پر باپردہ خاتون سب کی نگاہوں کا مرکز تھی۔ جب اس سے برقع اور حجاب کے حوالے سے پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آج مغرب جدید ٹیکنالوجی میں ہم سے بہت آگے ہے اور ہر قسم کی جدید ایجادات وہی لوگ کر رہے ہیں ہمیں یقینا اس حوالے سے ان کی تقلید کرنی چاہئے لیکن جہاں تک ہمارے شرعی احکامات کا تعلق ہے تو آپ سب جانتے ہیں کہ ان کی حقانیت میں کوئی شک نہیں ہے۔ قرآن پاک بھی مکمل طور پر ہر قسم کی تحریف سے محفوظ ہے تو کیوں نہ ہم اپنی شریعت پر مکمل طور پر عمل پیرا ہوکر اپنی زندگی کے ہر شعبے میں اپنے سچے دین کی پیروی کریں۔