اقوام متحدہ سے ایک اور اُمید

قوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے این جی اوز سے متعلق کمیٹی کے سربراہ محمد سلام آدم کے نام ایک خط میں پاکستان کیخلاف پروپیگنڈہ کرنے والی بھارت کی قائم کردہ جعلی این جی اوز کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ خط میں کہا گیا کہ یورپی ادارے ڈس انفولیب نے پوری تحقیق سے اقوام متحدہ میں رجسٹرڈ ایسی این جی اوز کا سراغ لگایا ہے جن کا عملی دنیا سے کوئی تعلق نہیں، ان کا مقصد پاکستان کیخلاف جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈہ کرنا ہے۔ پندرہ سال پاکستان کیخلاف گمراہ کن پروپیگنڈے میں ملوث سات سو پچاس میڈیا آؤٹ لٹس اور پانچ سو پچپن ویب سائٹس ڈومین کیخلاف کارروائی لازمی ہو کر رہ گئی ہے۔ اقوام متحدہ کو ان تنظیموں کی مشاورتی حیثیت کا ازسرنو جائزہ لینا چاہئے۔ منیر اکرم نے اقوام متحدہ سے کارروائی کی اپیل ٹھوس اور ناقابل تردید حقائق کی بنیاد پر کی ہے۔ اس جعل سازی کا پردہ پاکستان نے نہیں بلکہ یورپی ادارے نے چاق کیا ہے اور اس کام کو تکمیل تک پہنچنے میں برسوں کا عرصہ لگا ہے۔ پندرہ سال کے عرصے میں اس جھوٹ ساز فیکٹری نے پاکستان کے امیج اور اس کے اندرونی استحکام کا جو حشر نشر کرنا تھا وہ کر دیا ہے۔
پاکستانی ریاست اور معاشرے میں پہلے سے قائم علاقائی، لسانی اور نسلی تقسیم گہری ہو گئی ہے۔ ریاست اور عوام کے درمیان بھی دوری میں اضافہ ہوا ہے۔ ملک کے حال اور مستقبل سے مایوس ایک پوری نسل آج پل کر جوان ہو چکی ہے اور وقت نے اس مایوس نسل کے ہاتھ میں سمارٹ فون کی صورت میں ایک ایسا ہتھیار تھما دیا ہے جو مایوسیوں کے خنجر چلا کر اسے بڑھنے اور پھیلنے میں مدد دیتا ہے۔ اس عرصے میں پاکستان کا عالمی سطح پر امیج بگاڑ کر رکھ دیا گیا۔
ان جعلی خبروں اور رپورٹس کے پلندے پیش کر کے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ڈالوا دیا گیا ہے۔ پاکستان کو اقلیتوں، سیاحوں اور سرمایہ کاروں کیلئے غیرمحفوظ قرار دے کر اس کی معیشت پر کاری وار کیا جا چکا ہے۔ فوج کی اہمیت اور کردار کے بارے میں شکوک اور تذبذب کو گہرا کیا جا چکا ہے۔ اس نقصان کی تلافی اور ریاست پاکستان کو دوبارہ سنبھلنے کیلئے ایک طویل مدت درکار ہوگی۔ پاکستان کے پاسپورٹ کو دنیا میں بے توقیر کرنے میں ان جھوٹ ساز فیکٹریوں کا اہم کردار ہے۔ یہی فیکٹریاں مختلف این جی اوز کے نام پر اقوام متحدہ اور جنیوا کے انسانی حقوق کمیشن کے اجلاسوں میں چند ایک بلوچ، پشتون، سندھی، گلگت بلتستانی اور آزادکشمیری افراد کو سامنے رکھ کر پردے کے پیچھے سے ڈوریاں ہلاتی تھیں، کئی بار ان سب کو ایک لڑی میں پرو کر مشترکہ مظاہروں میں شریک کیا جاتا۔ چند ایک پاکستانی چہروں کے پیچھے باقی سب جعلی کردار بھارتی ہوتے تھے جو دنیا میں پاکستان کو پتھر کے دور کی ریاست بنا کر پیش کرتے۔ یہ گلسرین لگا کر آنسو بہاتے ہوئے مغربی اداروں کے سامنے دُہائی دیتے کہ پاکستان کی فوج اور ریاستی ادارے ان کا جینا محال کئے ہوئے ہیں اور وہ انہیں قتل کرنے کے درپہ ہیں، ان کے حقوق غصب کر رہے ہیں۔ یوں ان لوگوں کو سیاسی پناہ بھی حاصل ہوتی اور مغربی ریاستیں یوں بھی زندگی کی باقی آسائشیں دینے کی پابند ہی ہوتی ہیں مگر اس کیساتھ ساتھ پروپیگنڈہ کی خدمات کا معاوضہ کہیں اور سے حاصل ہوتا۔ یہ عناصر بھارت کیلئے یہ سٹریٹجک اثاثوں کا کام دیتے رہے۔ یہ یہی عناصر بیرونی دنیا میں کسی سڑک کے کنارے کھڑے ہو کر ''یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے'' کے نعرے لہک لہک کر بلند کرتے تھے۔ یہ نعرہ بھی اسی نیٹ ورک کی اختراع اور ایجاد ہے جسے مختلف تحریکوں میں مقبول بنانے کی کوشش کی گئی۔ اقوام متحدہ اب بھی بھارت اور مغرب کے اثر ورسوخ کے زیراثر ہے، اس لئے منیر اکرم کی درخواست کا کیا نتیجہ برآمد ہوگا یہ واضح ہے۔ اقوام متحدہ کے غض بصر کے باوجود ریاست کو اب اپنی آنکھیں اور کان کھول کر رکھنا ہوں گے۔
سب سے پہلے اس نیٹ ورک کو توڑنا ہوگا جو ان جعلی این جی اوز کیلئے پاکستان کے گلی کوچوں میں خبر اور پروپیگنڈے کا مواد فراہم کرتا تھا۔ سوات میں طالبان کی طرف سے خاتون کو کوڑے مارنے کی وڈیو بھی بطور خاص اسی مقصد کیلئے فلمائی گئی وڈیو تھی، جس کا مقصد پاکستان کو وحشت اور درندگی اور طالبانائزیشن کی زد میں آنے والی ریاست قرار دینا اور منطقی طور پراس کے ایٹمی پروگرام کو غیر محفوظ ثابت کرنا تھا۔ سہولت کاروں کا یہ نیٹ ورک سری واستو گروپ کیلئے فلمیں اور خبریں جنریٹ کرتا رہا۔ مقامی معاونین کے ان ہاتھوں کی تلاش اور انہیں حوالۂ قانون کیا جانا ضروری ہے۔ بھارت دشمن ملک ہے پاکستان کی فالٹ لائنز کو بڑھانا اور متحرک رکھنا اس کا مقصد ہے اور دشمن سے اس کے سوا کس رویے کی توقع کی جا سکتی ہے مگر مقامی سہولت کاروں نے محض دولت کی ہوس اور سیاسی پناہ کی تلاش میں ملک وقوم کو کتنا نقصان پہنچایا ہے اس کا ازالہ بہت مشکل سے ہی ممکن ہے۔